وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنےمیں کامیاب ہونگےیاناکام؟ فیصلہ آج ہوگا

ویب ڈیسک (اسلام آباد)وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے اعلان پر عملدرآمد آج ہوگا،قومی اسمبلی نے دو نکاتی ایجنڈا جاری کردیا ہے۔

قومی اسمبلی ایجنڈا میں وزیر اعظم کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے قرارداد شامل کی گئی ہے اعتماد کے ووٹ کی قرارداد آرٹیکل 91کی شق 7کے تحت کی گئی ہے، قرارداد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پیش کریں گے ۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آج سوابارہ بجے ہوگا،و زیراعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کےحوالے سےقومی اسمبلی اجلاس کے لیے پی ٹی آئی نےحکمت عملی تیارکرلی گئی ہے۔

ارکان کو اجلاس کے وقت سے قبل پارلیمنٹ ہاوس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے پی ٹی آئی اور اتحادی ارکان لابی میں اکٹھے ہوں گے،تمام ارکان کو قومی اسمبلی کارڈ اور شناختی کارڈ لازمی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

ارکان کے اعزاز میں ناشتہ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جونہی اجلاس شروع ہوگا تو تلاوت نعت اور ترانہ کے بعد پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجائی جائیں گی تاکہ ارکان ایوان کے اندر آجائیں جب ارکان اندر آجائیں گے توایوان کے دروازے بند کردیئے جائیں گے تا کہ کوئی اندر باہر آجا نہیں سکے پھر شاہ محمود قریشی قرارداد پڑھیں گے جس میں وزیر اعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جائے گا جس کے بعد سپیکر لابی کے دروازے پر رکھے رجسٹر پر ٹیلر کے پاس ارکان کو نام لکھ کر لابی میں چلے جانے کا کہیں گے جو ارکان وزیر اعظم کیخلاف ووٹ ڈالنا چاہتےہوں گے انہیں دوسری لابی میں چلےجانے کا کہا جائے گا یا انہیں ایوان میں بیٹھے رہنے کا کہا جائے گا باری باری یہ کام چلتا رہے گا جب تمام ووٹ کاسٹ ہوجائیں گے تو پھر ارکان کو واپس بلا لیا جائے گا ۔

اس کے بعد پھرگنتی کا اعلان کردیا جائے گااور دو منٹ کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی اعلان کے ساتھ ایوان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور پھر ممکنہ طورپر وزیر اعظم ایوان سے خطاب کریں گے۔

نتیجہ سے سپیکر صدر مملکت کو تحریری طورپر آگاہ کردیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی، اگر وزیراعظم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ایسی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی رولز 38 کے تحت صدر مملکت کو لکھیں گے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں جس کے بعد صدر وزیراعظم کے دوبارہ انتخاب کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہیں گے جس کے بعد قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی۔