ایوان میں نئے کھیل کا آغاز

سینیٹ انتخابات میں توقع کے برعکس نتائج آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے' کیونکہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں اور انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں رہا ہے، تحریک انصاف کے حامی ایوان سے اعتماد کے فیصلے کو وزیر اعظم کی سیاسی بصیرت سے تعبیر کر رہے ہیں کہ ایوان سے حمایت حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم کے پاس دو آپشن ہوں گے' ایک یہ کہ کامیانی کی صورت میں پورے اعتماد کے ساتھ اپنی آئینی مدت پوری کریں اور جو منصوبے پائپ لائن میں ہیں ان کی تکمیل سے عوامی حمایت حاصل کر کے اگلے الیکشن کے لیے ماحول کو سازگار بنا سکیں' دوسرا امکان یہ ہے کہ ایوان سے حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کی صور ت میں وزیر اعظم فوری طور پر نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے' تحریک انصاف کے حامیوں کا خیال ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس پاکستان کے عوام اب بھی تحریک انصاف سے محبت کرتے ہیں اور نئے انتخابات میں تحریک انصاف کو بھاری اکثریت حاصل ہو گی' کیونکہ 2018 ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو اگرچہ سادہ برتری حاصل ہو گئی تھی لیکن اتحادیوں کی بیساکھیوں کے سہارا حکومت کرنا اچھا تجربہ نہیں تھا' تحریک انصاف کی حکومت اگر ڈلیور کرنے میں ناکام رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن کی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کی بلیک میلنگ بھی اس میں شامل تھی۔ وزیر اعظم عمران خان یہ سوچ رہے ہیں کہ عوامی مسائل حل کیے بغیر پانچ سال کا عرصہ پورا کرنا کوئی کمال نہیں ہے' اس سے پارٹی کی سیاست تباہ ہو کر رہ جائے گی' جیسے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوا تھا' وزیر اعظم عمران خان کی نظریں اس وقت آئندہ انتخابات پر مرکوز ہو چکی ہیں کہ اگر جیت گئے تو یقینی طور پر انہیں اکثریت حاصل ہو گی ' اور بھاری اکثریت کے بعد وہ حقیقی معنوں میں اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں گے۔ تحریک انصاف کے ناقدین کا خیال ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان ایوان سے حمایت کا ووٹ حاصل کرنے کا سوچ رہے ہیں تو یہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے لیے آسان ہو جائے گا' کیونکہ جس تحریک کے لیے اپوزیشن نے راہ ہموار کرنی تھی' اور اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینا تھا اب وزیر اعظم عمران خان کے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلے کے بعد اراکین خود اپوزیشن سے رابطہ کریں گے، کیونکہ اب جو منصوبہ بندی ہو رہی ہے وہ آئندہ انتخابات کو سامنے رکھ کر ہو رہی ہے' الیکٹ ایبلز اب کی بار مسلم لیگ ن یا دیگر پارٹیوں کی جھولی میں آ گریں گے، تحریک انصاف چونکہ عوامی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے تو ان کے اپنے اراکین بھی ان کے ساتھ نہ رہیں گے۔ اسی طرح یہ اطلاعات بھی ہیں کہ آنے والے انتخابات کے لیے پنجاب کی سطح پر تحریک انصاف کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ موجودہ مشکل دور کے باوجود مسلم لیگ ن کے اراکین نے انہیں تنہا نہیں چھوڑا ' بلکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک انصاف کے 20کے قریب اراکین مسلم لیگ ن میں آنے کے لیے پر تول رہے ہیں اور مناسب موقع کے انتظار میں ہیں۔ اگر آئندہ انتخابات تک حالات ایسے ہی رہے تو سیاسی شخصیات تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے سے گریز کریں گی۔ تحریک انصاف کی منتخب حکومت اگر اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی ختم کر دی جاتی ہے تو اس سے اپوزیشن جماعتوں کو واقعی سیاسی فائدہ ہو گا' لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ سیاسی رسہ کشی میں ملک و قوم کو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے سے کیا فائدہ ہو گا؟ اس سوال کے جواب کو تلاش کرنے کے لیے ہمیں ایک نظر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ڈالنی ہو گی' پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر حکومت کے خاتمے کے وقت ایسی ہی تحریکوں کا سہارا لیا گیا ' اور آج جو چہرے اپوزیشن تحریک میں دکھائی دے رہے ہیں کم و بیش یہی چہرے ہر دور میں کبھی اپوزیشن میں اور کبھی حکومت میں رہے ہیں، لیکن آج انہی چہروں کو کوئی بھی پاکستان کے حالات کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہے' اگر تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ کر کے اپوزیشن میں سے کوئی جماعت بر سر اقتدار آ جاتی ہے تو کیا حالات چشم زدن میں درست ہو جائیں گے ' کیا پاکستان کی معیشت درست ڈگر پر آ جائے گی ؟ ہر گز نہیں' ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نئی آنے والی حکومت بھی یہی راگ الاپے گی جو تحریک انصاف کی حکومت الاپ رہی ہے کہ ہمیں ملک تباہ ملا' ٹھیک ہوتے ہوئے وقت لگے گا ' اس لیے ضروری ہے کہ منتخب حکومتوں کو گھر بھیجنے کی روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے، اختلاف رائے اور مثبت تنقید کے ساتھ آگے بڑھنے کی سبیل نکالنی ہو گی، سیاسی جماعتوں کے ہاں جمہوریت کا تسلسل اہم ہونا چاہئے، حکومت و اپوزیشن کے مشترکہ اتحاد سے طویل المدتی منصوبہ سامنے آنا چاہیے جس میں ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا ہو، اگر ان امور کا خیال نہ رکھا گیا اور تحریک انصاف کی حکومت کو وقت سے پہلے رخصت کر دیا گیا تو اس کے بعد جو بھی حکومت بر سر اقتدار آئے گی اسے انہی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جن چیلنجز سے تحریک انصاف کی حکومت نبرد آزما ہے۔