سینیٹ انتخابات کے بعد

سینیٹ کے روایتی انتخابات میں صرف ایک غیر روایتی انتخاب تھا وہ اسلام آباد میں اپوزیشن کے یوسف رضا گیلانی اور حکومت کے حفیظ شیخ کے درمیان تھا۔یہ حکومت کی عددی اکثریت ، صلاحیت ،روایتی انتخابی حربوں اور جوڑ توڑ کی اہلیت کی دیگ کا ایک دانہ تھا ۔اس انتخاب میں یوسف رضاگیلانی نے حفیظ شیخ کو شکست دے کر حکومت کی بہت سی صلاحیتوں اور روایتی سیاست سے متعلق دائو پیچ کی اہلیت کی پوری دیگ کا حال سامنے لایا۔جس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ روز اول سے ہی شاخ ِنازک پر کھڑی حکومت کی یہ شاخ ہر گزرتے دن کے ساتھ لچک کر رہ گئی ہے۔ پارلیمانی نظام میں ایک ووٹ کی اکثریت بھی اکثریت ہوتی ہے اور حکومتیں ایک ووٹ کی اکثریت سے اپنی مدت پوری کرتی رہی ہیں ۔ عمران خان کی حکومت مانگے تانگے کی اکثریت سے قائم تھی ۔حالات کا جبر یہ تھا کہ یہ حکومت ہم مزاج اتحادیوں کی بنا پر قائم نہیں تھی بلکہ نظریہ ٔ ضرورت نے اتحادیوں کو عمران خان کے گردجمع کر رکھا تھا ۔اسی لئے ایک مرحلے پر اپوزیشن نے اسٹیبلشمنٹ سے فرمائش کی کہ وہ کچھ اور نہ کرے اپنے سے منسوب ساٹھ پنسٹھ افراد کو آزاد کر دے دوسرے لفظوں میں ان کے حوالے کر دے باقی کام وہ خود کریں گے۔ان ساٹھ پنسٹھ افراد میں عمران خان کی جماعت کے لوگ اور اتحادی بھی شامل تھے۔سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن کے اکٹھ اور کرشموں اور کرامات کی صلاحیتوں کی بنیاد پر سیٹ اپ کے اندر سے اپ سیٹ ہونا قطعی ناممکن نہیں تھا ۔اس انتخاب میں بظاہر تو پی ڈی ایم کی مشترکہ حکمت عملی چل رہی تھی مگر حقیقت میں پردے کے پیچھے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے معاملات الگ الگ ہیں ۔اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت بھی الگ ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بھی دونوں کے ساتھ مختلف ہے۔آصف زرداری کی سیاسی فلاسفی میں ایک قدم آگے اور د وقدم پیچھے کی پوری گنجائش موجود ہوتی ہے ۔اپنی پوری سیاست میں وہ اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے ملک سے باہر جاتے ہیں تو تالیاں بجاتے ہوئے واپس بھی آتے ہیں ۔نیب کے ساتھ لین دین کے معاملات میں ان کا رویہ ن لیگ سے قطعی مختلف ہے ۔نیب کے خزانے میں بے نامی اکاونٹس کی اربوں روپے کی رقم واپس آچکی ہے ۔فالودے والے ،ریڑھی والے ،دودھ دہی والے اربوں روپے جمع کر اچکے ہیں ۔مزار قائد واقعے کے روز بلاول کو آنے والی ٹیلی فون کال نے بتادیا تھا کہ پیپلزپارٹی کو مینیج بھی کیا جا سکتا ہے اور اسے سپیس دے کر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے۔اس کے برعکس ن لیگ لین دین کی بجائے لکڑ ہضم پتھر ہضم پر یقین رکھتی ہے ۔ ایک حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضاگیلانی جیت چکے ہیں مگر مسلم لیگ ن کی خاتون ہار چکی ہیں ۔یہ فتح وشکست دو الگ رویوں اور تعلقات کی کہانی سناتی ہے ۔اگر اس الیکشن کو مستقبل کے سیاسی منظر کی تشکیل کا آغاز قرار دیا جائے تو پیپلزپارٹی کیلئے ایک راہ بنتی نظر آتی ہے مگر مسلم لیگ ن کے اچھے دن ابھی دور ہیں۔مریم نواز کی تلخ تقریروں نے اگر راستہ بنایا بھی ہے تو اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا ہے اورخود مسلم لیگ ن کے گرد کھنچا سرخ دائرہ ابھی باقی ہے۔ سینیٹ انتخابات کے بعد اپوزیشن نے حکومت کو اپنی پچ پر کھیلنے پر مجبور کر دیا ہے ۔پہلے یوسف رضاگیلانی کو اسلام آباد سے میدان میں اُتار کر حکومت کی ساری توانیاں اور صلاحیتیں اس معرکے اور مقابلے میں کھپا دیں ۔اس سے یہ اندازہ بھی ہوا کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے حالات اور معاملات میں سب اچھا نہیں ۔اس پر روپے پیسے کا آزادانہ استعمال اور اس استعمال کو روکنے میں اداروں کی عدم دلچسپی نے حکومت کو کمزور وکٹ پر کھڑا کر دیا ۔اس سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کی سیاست میںا خلاقیات کا کوئی گزر نہیں ۔یہاں پیسہ آج بھی سب سے بڑی حقیقت ہے ۔اس حوالے سے ملکی سیاست آج بھی نوے کی دہائی میں کھڑی ہے بلکہ اس سے زیادہ بدتر حالت کا شکار ہے ۔اب کرنسی ڈی ویلیو ہونے کے بعد انسانی ضمیروں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔اپوزیشن کی پچ پر کھیلتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی سے ایوان کا ووٹ کا لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ ایک مشکل اور اخلاقی لحاظ سے برتر فیصلہ ہے۔اس میں حکومت کی مشکلات زیادہ ہیں ۔عمران خان کی خطر پسند طبیعت کو مشکل فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا ۔سینیٹ الیکشن کے چند گھنٹے بعد ہی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے اس فیصلے ا علان کیا۔دوسرے روز عمران خان نے قوم سے خطاب میں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا ۔ان کی اس تقریر میں وہ ایک بار پھر جنگجو شخص کے طور پر سامنے آئے۔پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد بھی اپوزیشن نے حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دینا۔
ایک مشکل فیصلہ مگر عمران خان سے ایسے ہی فیصلوں کی توقع کی جا سکتی ہے ۔وہ ڈھائی سال سے جس طرح گھسٹ گھسٹ کر حکومت چلا رہے ہیں یہ ان کا مزاج نہیں مجبوری ہے ۔اپوزیشن کی اصل کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو گھیر گھار کر ایک ایسے خطرناک مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔