اتنی لا پرواہی اچھی نہیں!!

ٹھیک کہتی ہیں مریم اورنگزیب کہ یہ ملک آٹا چینی چوروں کا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس ملک کو تو بڑے لٹیروں کی عادت ہے جو موٹروے بنائیں تو ملک کو لوٹیں جو پاور پراجیکٹس بنائیں تو قوم کا سودا کریں جو سی پیک میں زقند لگائیں جن کے محل ہوں جہاں سیڑھیوں کے ساتھ بل کھاتی ریلنگ پر سونے کا پانی ہوا ہو،جن کی بیٹیوں کی شادی ہو تو ایکڑوں پر محیط محل تحفے میں دیئے جائیں اور کوئی یہ سوال کرنے کی جرأت نہ رکھتا ہو کہ آخر کراچی کے گنجان آباد علاقے میں اچانک محل بنانے کی یہ جگہ کہاں سے دستیاب ہوگئی کسی سرکاری زمین کو اپنا لیا گیا یا پڑوسیوں کو دھمکا کر ان سے سستے داموں زمین ہتھیائی گئی۔افسوس کی بات تویہ ہے کہ مریم اورنگزیب جیسے لوگ جو خود کبھی انہی عوام کا حصہ رہے ہیں اب اس ملک اور اس کے لوگوں سے وابستہ نہیں رہے بلکہ بادشاہوں کے بھونپوبن گئے ہیں۔ہر وہ سیاسی کارندہ جو اس ملک کی محبت بھلا کر بادشاہوں کا درباری بن جاتا ہے اس کی باتوں پر دل زیادہ کڑھتا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سچ جانتے ہیں۔اس سچ کو بہت قریب سے دیکھ چکے ہیں۔ایک وقت تھا جب مریم اورنگزیب محض ایک مشیر تھیں،اسمبلی کی کارروائی میں سوالات کے جوابات کی ایسی تیاری کر کے آتی تھیں کہ سُننے والوں کا دل خوش ہوجاتا تھا۔ان کی سنجیدہ مزاجی ان دنوں میں مجھے بھی بہت اچھی لگتی تھی لیکن پھر انہیں شاید اپنی خواہشات کے باعث نوازشریف کے درباری میں تبدیل ہونا پڑا اور یہ افسوس آج بھی کئی بار میرے دل کو مسلتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک سے محبت بھی کرسکتے تھے اور اس محبت کو بنیاد بنا کر اچھے کام بھی کر سکتے تھے لیکن ترجیحات تو اللہ کی سب سے زیادہ عبادت کرنے والے جن کو شیطان میں بدل سکتی ہیں تو یہ توچھوٹے چھوٹے لوگ ہیں اور ان کی ترجیحات کی کسوٹی بھی کوئی ایسی اہم نہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں اپوزیشن کی جیت کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔یہ بھی نہیں کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔لیکن اب کی بار کئی ایسی باتیں ہیں جوشاید اس سے پہلے اتنی کھل کر سامنے نہیں آئی تھیں اور نہ ہی ان کے حوالے سے کبھی کسی بھی حکومت وقت نے سدباب کی کوئی کوشش کی تھی پچھلے کافی عرصے سے حکومت وقت اپنی سعی میں مصروف تھی کہ کسی طور سینیٹ انتخابات میں استعمال ہونے والے زرکوروکا جاسکے۔لوگوں کے انتخابات میں میرٹ کو مد نظر رکھا جائے عمران خان کی سوچ سے میں اکثر ہی متفق ہوتی ہوں۔سو اب کی بار بھی وہ جس طور ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے کوشاں رہے وہ قابل ستائش ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا بگاڑ اس حد تک جڑ چکا ہے کہ اس کا سدباب یکدم ممکن نہیں۔وہ کوشش جو حکومت وقت نے کی اور ناکام ہوئی وہ شاید دوبارہ بھی کی جائے تو ناکام ہوگی کیونکہ حال کی خواہش ہی امت مسلمہ کا فتنہ ہے اور ہم میں اب بھی اس حد تک مسلمانی باقی ہے کہ ہم اپنے فتنے تو سنبھالے بیٹھے ہیں لیکن مسلمانی سے وابستہ بہتری اور بھلائی تقریباً فراموش ہی کر چکے ہیں۔جناب یوسف رضا گیلانی کے صاحبز ا د ے کی ویڈیو بھی سینیٹ انتخابات سے ایک دن پہلے ہی لیک ہوئی جس میں وہ ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بھی سمجھا رہے تھے حسب معمول تحقیقات کا حکم بھی ہوا لیکن اس ملک میں تحقیقات کے نتائج کبھی سامنے نہیں آتے۔اتنی جلدی یوں بھی تحقیقات کہاں ہوسکتی ہیں۔ تحقیقات ہونگی پھر معلوم ہوگا کہ کیا ہوا اور وہ بھی تب جب اس حوالے سے کوئی مصلحت نہ غالب آگئی۔ حکومت وقت نے احتساب کے جس دور کا آغاز کر رکھا ہے اس میں پرانے پاپی تو پہلے ہی یکجا ہو چکے تھے پی ڈی ایم بھی اپنی کارروائیاں دکھاتی نظر آرہی تھی سینیٹ کے الیکشن میں کچھ حکومت وقت کی ازلی لاپرواہی نے کام دکھایا جو یہ ہر ایک شئے میں مسلسل دکھاتے ہیں۔ان کے وزراء اپنے محکموں کے کاموں کو بھی اسی طرح لاپرواہی اور اپنی مرضی سے چلاتے ہیں جیسے سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے۔ اس حکومت کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ نمائندوں کا رویہ سٹوڈنٹ لیڈروں والا ہے۔ غیر سنجیدگی لاپرواہی اور اکثر معاملات کے قاعدے قانون سے لاعلمی اور اپنے اس رویئے کو یہ درست کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ سینیٹ میں ان کا مقابلہ گھاگ سیاست دانوں سے تھا،انہوں نے پھر بھی اپنے رویوں میں کسی قسم کی اصلاح نہ کی سواب وزیراعظم کو نیشنل اسمبلی سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا۔اگر ہائوس ٹریڈنگ زور پکڑلے تو کون جانے اس کے کیا نتائج ہوں اگرچہ یہ موجودہ حالات میں بہت دور کی کوڑی ہے لیکن اسی دور کی کوڑی کو پکڑلانے کے لیئے تو پی ڈی ایم نے کمر کس رکھی ہے۔سینیٹ کے انتخابات میں شہریار آفریدی کی لاپرواہی تو سامنے آگئی لیکن جس طرح کی چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں جس میں ضائع ہونے والے ووٹوں میں پی ٹی آئی کے اہم ترین لوگوں کے ووٹ شامل ہونے کی باتیں کی جارہی ہیں اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو معاملہ بہت ہی پریشان کن ہے لیکن پھر کیا کیا جائے کہ یہ تومحض سینیٹ کا انتخاب تھا یہ تو ملک بھی اسی طرح چلا رہے ہیں یہ لاپرواہی انہیں اور اس ملک کو کسی بھی اتھاہ گہرائی تک لے جا سکتی ہے۔بات صرف ہارس ٹریڈنگ کی نہیں بات اس لاپرواہی کی زیادہ ہے جو اس حوالے سے برتی گئی اور جو انتہائی شرمناک ہے۔کیا کوئی اس حد تک بھی لاپرواہ ہوسکتا ہے۔