چین میں غربت کا خاتمہ؟

کمیونسٹ پارٹی کے اخبار پیپلز ڈیلی نے شی جن پنگ کی حکومت کی جانب سے مقررہ وقت سے ایک مہینہ قبل اس کامیابی کو حاصل کرنے پر 3 صفحات پر مبنی ضمیمہ شائع کیا۔ ایک متحرک رہنما نے چین کو ایک نئے عہد میں لے جانے کا وعدہ پورا کردیا۔ اخبار نے لکھا کہ ہم صدیوں سے انتہائی غربت کے مسئلے سے نبرد آزما تھے اور اب یہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔ دوسری جانب شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ ان کی قوم اپنے مرکز پر متحد ہوجائے اور چینی قوم کے دوبارہ عروج کے خواب کا ادراک رکھے۔تاہم کچھ سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چین نے اب تک انتہائی غربت کی تعریف کرنے کے پیمانے جاری نہیں کیے ہیں۔ ماضی میں بھی چین عالمی بینک کے متعین کردہ معیارات سے مختلف معیارات کا استعمال کرتا رہا ہے۔ اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے کہ چین انتہائی غربت کے خاتمے کو کس طرح برقرار رکھ سکے گا کیونکہ عالمی بینک کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال دنیا بھر میں مزید15کروڑ افراد غربت کا شکار ہوں گے۔اس بارے میں بھی کچھ سوالات موجود ہیں کہ آخر چین نے ملک میں غریبوں کی تعداد کس طرح کم کی ہے۔ ایک مغربی صحافی کی جانب سے ترتیب دی گئی رپورٹ میں سنکیانگ کی سرحد کے ساتھ واقع گینسو (Gansu) صوبے کے ایک گاں کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہاں کے سیکڑوں رہائشیوں کو ان کے گاں سے زبردستی نکال کر انہیں ایک دوسری جگہ موجود بلند و بالا عمارتوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بجلی اور پانی کی سہولت موجود تھی۔ ان گاں والوں کو اب یہ پریشانی لاحق ہے کہ وہ مستقبل میں اس رہائش کے اخراجات کیسے برداشت کریں گے۔دیگر لوگوں کو رہائش کی ایسی دستاویزات دی گئیں جن میں انہیں سنکیانگ کا شہری دکھایا گیا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہاں زیادہ وسائل ہیں اور انہیں اب سنکیانگ چلے جانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ سنکیانگ کا علاقہ مقامی ایغوروں کا ہے جن کی اکثریت کو چینی مسلمانوں کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے تحت حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو کم غریب کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہزاروں افراد کو حراستی مراکز میں قید کردیا جائے تاکہ ان کے اثاثے باقی رہ جانے لوگوں کے لیے دستیاب ہوجائیں۔یہ سال چینی رہنماں کے لیے بہت اہم ہے، اس سال چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال مکمل ہو رہے ہیں اور وہ اس سال کو یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس سال چین سپر پاور سمجھے جانے والے ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑا ہو۔ لیکن یہ خواب ایک طرح کا دھوکہ ہے۔ نوکری کے حصول کے امیدواروں کو یہ کہا جاتا ہے کہ جس نوکری کو حاصل کرنا چاہتے اس کے مطابق تیار ہوں نہ کہ اس نوکری کے مطابق جو پہلے سے کر رہے ہیں۔ چین میں کئی لوگ ایسے ہیں جو غربت کے خاتمے کے اعلان کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں کہ چین سپر پاور بننا چاہتا ہے اسی وجہ سے وہ خود کو سپر پاور کی طرح ظاہر بھی کر رہا ہے۔
خواب خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، یہ ہمیں حقیقت پسند نہیں رہنے دیتے اور حقیقت اس وقت بہت پریشان کن ہے۔ آبادی کے مطالعے یہ بتاتے ہیں کہ چین میں شرح پیدائش میں کمی آرہی ہے۔ یعنی کام کے لیے کم سے کم لوگ دستیاب ہوں گے جس کا براہِ راست اثر ترقی پر ہوگا (لیکن اس کے باوجود یہ اندازہ لگایا ہے کہ چینی معیشت میں 8 فیصد کا اضافہ ہوگا)۔سب سے پریشان کن بات تو یہ ہے کہ سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں پر ہونے والی ظلم و زیادتی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے امریکا ضرور اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ چین ان حقائق کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن پاکستان، جو اب کئی شعبوں میں مکمل طور پر چین پر منحصر ہے، اس کو اس بارے میں اپنی حیثیت واضح کرنی چاہیے۔
چین میں بڑھتی ہوئی اجرت کی وجہ سے پیداواری کمپنیوں نے افریقہ اور میکسیکو جیسے سستے علاقوں کا رخ کرلیا ہے۔ تو کیا چین عالمی سطح پر اپنی حیثیت برقرار رکھ سکے گا؟ کیا شرح نمو میں ہونے والی کمی کی وجہ سے چینی سرمایہ کاروں کا پیسہ ان بڑے منصوبوں میں پھنس جائے گا جنہیں چینی حکومت نے شروع کیا تھا؟ پاکستان کے لیے سوال یہ نہیں ہے کہ آیا چینیوں نے اپنے خواب کو تکمیل تک پہنچایا کہ نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ چینی خواب خود چین کے لیے بھی بہت بڑا اور بہت مہنگا تو نہیں؟۔