فخرپشاور ایوارڈز

فخر پشاور ایوارڈ کی گونج ایک بار پھر سنائی دے رہی ہے اس ایوارڈ کا اجراء سابق ضلعی ناظم محمد عاصم نے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پشاور کے زیر اہتمام2017ء میں کیا تھا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 76ہیروز اور لیجنڈز کو ایوارڈ سے نوازاگیا تھا۔
پشاور کے علاوہ اندرون ملک بھی اس ایوارڈز کو بہت پذیرائی ملی تھی اور کئی دیگر اضلاع نے بھی اسی طرز کے ایوارڈز کے اجراء کے بارے میں سوچ بچار کی تھی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خیبرپختونخوا کے دیگر کونسے اضلاع نے اپنے اپنے طور پر ایوارڈز جاری کئے، دوسرے فخر پشاور ایوارڈز کی تقسیم 2019ء میں کی گئی اور اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں خیبرپختونخوا کے اس وقت کے سینئیر وزیر عاطف خان نے بطور مہمان خصوصی نے اعلان کیا تھا کہ اگلے سال صوبائی حکومت محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام فخر پختونخوا ایوارڈ شروع کر ے گی جس کے ساتھ اعزازیہ بھی دیا جائے گا تاہم اس اعلان پر تادم تحریر عمل نہیں ہوسکا،حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس دور کے سینئیر وزیر کے اعلان پر تو صوبائی حکومت نے کوئی پیش رفت نہیں کی جبکہ ابھی چند ہفتے پیشتر کسی نجی ادارے کی جانب سے اسی نظام یعنی فخر پختونخوا ایوارڈ کے نام سے ریوڑیاں بانٹی گئیں۔
متعلقہ یعنی تقسیم کار ادارہ کب وجود میں آیا،اور اسے یہ اجازت کس نے دی کہ وہ پختونخوا کے نام سے''فخریہ ایوارڈ''ریوڑیوں کی طرح بانٹا پھرے جبکہ اس کا اعلان 2019ء میں صوبائی حکومت کے ایک اہم عہدیدار یعنی سینیئر وزیر نے سرکاری طور پر کیا تھا،اس حوالے سے تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ پورے پختونخوا کے نام پر جس تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ ایوارڈ (جسے نام نہاد کہنے میں کوئی باک نہیں ہے)کو صرف دو تین اضلاع کی ایک مخصوص لسانی آبادی تک محدود کیا گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان،بنوں،کوہاٹ،ہری پور،ایبٹ آباد، مانسہرہ،وغیرہ وغیرہ میں محولہ ادارے کے ذمہ داران کو ایسا کوئی شخص بھی نظر نہیں آیا جسے صوبے کے نام سے منسوب ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا ہو ایسا کرنے سے محولہ بالا اضلاع کے باشندوں کو کیا پیغام دیا گیا یا انہیں احساس کمتری میں مبتلا کیاگیا کہ وہاں اس ایوارڈ کے قابل کوئی بھی نہیں جبکہ پشاور میں بھی دیگر زبانوں کے اہل کمال کو اس قابل نہیں سمجھا گیا یوں ان لوگوں کی دل آزاری کی گئی اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت خاص طور پر محکمہ ثقافت اس صورتحال کا نوٹس لے اور اس قسم کی خود ساختہ تنظیموں کو لسانی بنیادوں پر نفرت پھیلانے سے روکنے کیلئے ضروری اقدام اٹھائے۔
دلیل تھی نہ حوالہ تھاان کے پاس کوئی
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے
خیبرپختونخوا میں پشتو، ہندکو، سرائیکی، ہزارے والی،چترالی ،گوجری ،پہاڑی ،کوہاٹی ہندکو کے علاوہ دیگر زبانیں بھی بولی لکھی اور پڑھی جاتی ہیں اور ان زبانوں سے وابستہ اہل کمال ،فنکار، موسیقار،اہل قلم وغیرہ وغیرہ ہرجگہ موجود ہیں اور ان کو اپنے اپنے علاقوں میں پذیرائی حاصل ہے اس لئے جس طرح 2019 ء میں اس دور کے سینئر صوبائی وزیر نے اعلان کیا تھا اب وقت آپہنچا ہے کہ صوبے کے نام پر کسی ایوارڈ کا اجراء صوبائی حکومت کے زیر اہتمام کلچر ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات پر کیا جائے اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا تقرر کر کے پورے صوبے سے اہل فن اہل کمال افراد کا چنائو کیا جائے اور ہر سال ایوارڈز تقسیم کئے جائیں اس ضمن میں صوبہ بلوچستان پہلے ہی صوبائی سطح کے ایوارڈز دے رہا ہے وہاں سے تفصیل حاصل کر کے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔
بات شروع ہوئی تھی فخر پشاور ایوارڈز سے اب ایک بار پھر ڈائریکٹر جنرل سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میاں شفیق کی سربراہی میں تیسرا فخر پشاور ایوارڈ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس پشاور کی مشترکہ کوششوں سے ترتیب دیا جارہا ہے، اس ضمن میں مجوزہ فارم پر نامزدگیاں مانگی جارہی ہیں اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داران جلد ہی ان ناموں کو حتمی شکل دے کر ایوارڈز کا اعلان کر دیں گے۔
امید ہے کہ گزشتہ برسون کی طرح اب کی بار بھی ایک شاندار تقریب میں ایوارڈز تقسیم کئے جائیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ ایوارڈز کسی بھی شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کیلئے فخر کا باعث ہوتے ہیں اور انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اپنے اپنے شعبوں میں جو بھی کارکردگی انہوں نے کی ہے اس کی پذیرائی کا یہ انعام ہے اس ضمن میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ڈسڑکٹ سپورٹس آفس کی ساعی کی پذیرائی کی جانی چاہیئے ۔بقول سجاد بابر مرحوم
کرن بھی اترے تو آہٹ سنائی دیتی ہے
میں کیا کروں مجھے خوشبو دکھائی دیتی ہے