اک تیرے آنے سے پہلے اک تیرے جانے کے بعد

پاکستان کی خوبصورت بے مثال اور کرامات ومعجزوں سے بھر پور سیاست اور جمہوریت پر برطانیہ،امریکہ اور بھارت تک تبصرے جاری ہیں۔تبصرے تو دیگر ممالک میں بھی ہوئے ہونگے لیکن ان تین ملکوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ایک سپر پاور ہے دوسرا جمہوریت کی ماں اور تیسرا سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار، اگرچہ اب مقبوضہ کشمیر کی وجہ سے اُن کا یہ دعویٰ بہت کمزور پڑ چکا ہے ۔پاکستان کے سینیٹ کے انتخابات ہر بار ایک نیا لمحہ فکریہ اور ایک نیا تماشا لے کر آتے ہیں ۔پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کے اٹھارہ بیس ایم پی ایز کروڑوں میں بکے تھے،اورنتیجتاً پی ٹی آئی سے فارغ کئے گئے تھے اس بار اسلام آباد کی نشست پر جو تماشا لگایا گیا تھا، اک دنیا اُس کے نتیجے کے لئے منتظر اور ہمہ تن گوش تھی کیونکہ اُن کو توقع تھی کہ نئے گل ضرور کھلیں گے اور حسب توقع علی گیلانی کی ویڈیو انتخابات سے ایک دن قبل بریکنگ نیوز کے طور پر سامنے آئی جس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں''صاحب بہادر''نے اُس ویڈیو کا بڑے فخر کے ساتھ اعتراف بھی کیا کہ''میرے والد بزرگوارسینیٹ کے امیدوار ہے اور میں اُن کے لئے ووٹوں کا خریدار نہ کوئی شرم نہ حیا نہ کردار اور یہ پاکستانی جمہوریت وسیاست کا کمال ہے کہ انسان گھوڑوں،گدھوں کی طرح بک جاتے ہیں لیکن پھر''رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی''۔
دوسری طرف پی ٹی آئی جو آئی ہی آئی کاکمال ملاحظہ کیجئے کہ ہر سینیٹ میں ان کے گھوڑے گدھے بک جاتے ہیں اور عمران خان ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں ہم جیسے لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر یہ پی ٹی آئی کے اس قسم کے لوگ کس مٹی سے بنے ہیں کہ اپنے لیڈر کا اتنا بھی خیال نہیں رکھتے۔اس میں اگرچہ عمران خان کا اپنا بھی قصور ہے اور وہ یہ کہ پچھلے بائیس سال سے دیگر دوسری سیاسی جماعتوں سے ہر قسم کا ناطہ توڑ کر اپنی ساری وفاداریاں صرف اور صرف پی ٹی آئی سے لگائے رکھنے والے نظریاتی کارکنوں کی بجائے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان کے عبدالقادر اور اسلام آباد سے حفیظ شیخ جیسے''غیر سیاسی''لوگوں کو بھی سینیٹ کا ٹکٹ عطا کر دیتے ہیں اب ایک لحاظ سے یہ ہے تو آئیڈیل سیچویشن،کہ جب ایک امیدوار اپنی پارٹی کا ہے نہیں تو اُسے ووٹ سے کیوں نوازا جائے۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں بنتا کہ آدمی اپنی مخالف سیاسی جماعت کے آدمی کو ووٹ دے کر اپنی پارٹی کو ہزیمت سے دوچار کردے۔زیادہ سے زیادہ یہ جائزسمجھا جا سکتا ہے کہ اپنا ووٹ ضائع کیا جائے اگرچہ اس صورت میں اپنی پارٹی اور لیڈر سے وفاداری بری طرح مجروح ہوتی ہے۔وفاداری بشرط استواری تو یہ ہے کہ پارٹی لیڈر کھمبے کے ساتھ اپنا ٹکٹ باندھے تب بھی لوگ کھمبے ہی پر اپنے ووٹوں کی بارش کر دیں لیکن چونکہ وطن عزیز میں تو سیاست نام ہی مفادات کا ہے،نظر یہ اور نظریاتی سیاست تو کبھی کی دفن ہو چکی اس لئے جس کسی کو بھی موقع ملتا ہے تو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے دریغ نہیں کرتا۔وطن عزیز کے ہر الیکشن سے پہلے جو ہنگامہ برپا ہوتا ہے اُس کے پیش نظر عوام پر جو حالات گزرتے ہیں وہ بھی کٹھن ہوتے ہیں اور پھر الیکشن کے بعد جو طوفان اٹھتا ہے وہ بھی عوام کے لئے سکھ کا سانس لینے کا باعث کبھی نہیں بنا ہے۔اس وقت جب کہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران الیکشن کمیشن سے سخت شکایت کی ہے کہ وہ شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے ایک الگ پنڈورا کھولنے کے مترادف ہے ۔اس کے جواب آں غزل کے طور پر الیکشن کمیشن نے جو پریس ریلیز جاری کی ہے وہ اپنی نوعیت کی الگ سی منفرد چیز ہے۔سینیٹ انتخابات سے قبل اور مابعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیانات پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا کے ذریعے جو گھمسان کی جنگ برپا رہی ہے اس نے بے چارے عوام کی وہی حالت بنائی ہے کہ
زندگی میں دو ہی لمحے گزرے ہیں مجھ پر کٹھن
اک تیرے آنے سے پہلے اک تیرے جانے کے بعد
کالم کے شائع ہونے تک وزیراعظم کا پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل مکمل ہوچکا ہوگا اور اس میں بھی کتنے ہی نیشنل اسمبلی کے اراکین کی قیمت لگی ہوگی سب جان چکے ہوں گے اغلب گمان یہ ہے کہ حزب اختلاف سے مخالفت میں کوئی کنڈیڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان باآسانی اپنے حق میں ووٹوں کی گنتی پوری کر کے چندہی روز پہلے سینیٹ انتخابات کے نتائج کا بدلہ یہاں جیت کر پورا کرنے کی کوشش کریں گے ۔
امید ہے کہ حالات جو بھی ہو جائیں اور جس نہچ پر بھی آجائیں آخر انشاء اللہ سدھر ہی جائیں گے۔ ہم دست بہ دعا ہیں کہ الٰہی میرے وطن اور عوام کی خیر ہو لیکن یاد رکھنا ہوگا کہ عمران خان پاکستانی سیاست کے لئے ایلین کی حیثیت رکھتے ہیں وہ جس راہ پر نکلے ہیں اُس سے واپسی ممکن نہیں وہ اس مقصد کے لئے اپنی جان کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔