ٹی وی کو ٹی بی ہوگیاہے!

ٹی وی کو ٹی بی ہو گیا ہے۔ میڈیا میں ٹی وی کا کردار سب سے موثر سمجھا گیا۔ ٹی وی میں تحریر بھی ہے، تصویر بھی اور آواز بھی اس لئے اس کو صحافت کا ایک طاقتور ہتھیار سمجھا گیا۔ لیکن کچھ سالوں سے ٹی وی بیمار رہنے لگا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن کچھ کا خیال ہے کہ ٹی وی جب روشنی اور رنگوں کے ایک بکسے تک محدود ہوا تو اس نے اپنی افادیت کھو دی۔
وطن عزیز میں نجی ٹی وی کی آمد امرانہ دور میں "جنگی بنیادوں" پر ہوئی۔ نوے کی دہائی میں پڑوسی ملک بھارت کے اندر نجی نیوز چینلز کی بہتات تھی اور کارگل جنگ کے دوران ہندوستانی ٹینکوں سے زیادہ ان کے ٹی وی گولے داغتے رہے اردو اور ہندی کے ملاپ والی زبان کے باعث کبھی کبھی گولے بارڈر کے اس پار بھی گرتے رہے جبکہ عالمی سطح پر انگریزی نیوز چینلز کی موجودگی کے باعث پراپیگنڈے میں ہم پر سبقت لے گئے۔
یہی سوچ کر سابق صدر جنرل مشرف نے پاکستان میں بھی نجی چینلز کی حوصلہ افزائی کی۔ لیکن ان کے آخری دور حکومت میں یہی چینلز ان کے ہاتھ سے نکل گئے اور پھر یہ چینلز اپنے ہاتھ بھی نہ رہے۔ پہلے تو "ریٹنگ" کے چکر میں نیوز کو ویوز کے ماتحت لا کر ٹی وی سٹوڈیوز کو پھکڑ بازی اور جگت بازی سے لبریز تھیٹر میں بدلا گیا۔ پھر ٹی وی سے رپورٹنگ نکل گئی اور ساری توجہ آٹھ سے بارہ بجے رات تک کرنٹ افئیرز پر دی گئی۔ اینکر پرسن ان داتا بنے۔
ریٹنگ ہی اینکرز کے ریٹ فکس کرنے لگی۔ آٹھ بجتے ہی سرخی پاوڈر چہرے پر تھوپ کر سج کر بیٹھ جاتے اور چیخ چیخ کر باتیں کرنے لگتے۔ وہ کام یعنی سننے کا جو ریڈیو پر ہوتا ہے ٹی وی پر ہونے لگا۔ ہر اینکر ایک ہی بات کہہ کر دعوی کرتا کہ یہی خبر ہے اور صرف اس کے علم میں ہے اور اسے ہی پتا ہے۔
آج بھی میں یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ ہر شام اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھ کر کچھ اینکرز کس طرح ملک کے کونے کونے کی خبروں پر ماہرانہ تبصرہ فرماتے ہیں۔جن کی خبر لینی تھی ان سے خبریں لینے لگے۔ یہ حضرات نہ تو بلوچستان جاتے ہیں، نہ خیبر پختونخوا،نہ اندرون سندھ اور نہ ہی ان کو کبھی جنوبی پنجاب میں وقت گزارتے دیکھا لیکن ٹی وی پر بیٹھ کر وہ پورے ملک کے عوام کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں۔ہم نے تو سنا تھا کہ صحافی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا البتہ خبر چھوٹی یا بڑی ہوتی ہے۔ لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ صحافی خود کو خبر سے بڑا سمجھنے لگے۔ اس طرح ٹی وی جو دکھانے کا میڈیم تھا سننے کا میڈیم بن گیا۔ اس سے وابستہ صحافی سنتے ہیں اور آگے سناتے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ جب پیسہ ذریعہ ہوتا تھا مقصد ہوتا تھا خبر کا نکالنا پھر خبر بنی ذریعہ اور مقصد بنا پیسے نکالنا۔کمال کی بات یہ کہ عوام بھی ریٹنگ کے بھنور میں پھنس گئے۔ اس طرح اہل ٹی وی جو کہتے تھے کہ جودکھتا ہے وہ بکتا ہے کہنے لگے جو بکتا ہے وہ دکھتا ہے۔ ہمارے عوام اپنے ایشوز کی بجائے مارکیٹ اور طاقت کے طے کردہ پراڈکٹ کو ہی پسند کرنے لگے۔ عوام کو ایک کنوئیں میں ڈال کر ہر طرف سکرینیں لگائی گئیں اور وہ کنوئیں سے باہر کی دنیا سے لاعلم ہو گئے۔ ٹی وی کو ٹی بی ہو گیا۔
ٹی وی کمزور تو ہر آواز کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ سوشل میڈیا پر وڈیو وائرل ہوئی تو اس کو ہیڈ لائن بنا دیا رات کو ایک عدد شو بھی پھڑکا دیا، شام ہوتے ہی اینکر پروڈیوسر سے پوچھنے لگتا کہ ٹوئیٹر پر کیا ٹرینڈ چل رہا ہے اور اسی پر مخصوص تیس چالیس مہمانوں میں سے دو کو بلا کر پروگرام ٹھوک دیا گیا۔ بعض دفعہ تو ایک ہی مہمان بیک وقت کئی سکرین پر نظر آنے لگا اور سب پر لائیو لکھا ہوتا تھا۔
سوشل میڈیا ہی ٹی بی زدہ ٹی وی کی رہنمائی فرمانے لگا اور ہٹس، لائیک، ریٹوٹس ہی ریٹنگ بن گئے۔اس طرح ہوا ٹی وی کو ٹی بی اور کچھ صحافی کھانسی زدہ ٹی وی کو دیکھ کر ٹی وی سے بھاگ گئے۔ ٹی وی کو ٹی بی ہو چکا ہے۔ گو کہ اب بھی کام کرنے پر مجبور ہے۔ طاقت ور میڈیم ہے اس لئے گرتے گرتے بھی وقت لے رہا ہے لیکن وجود میں وہ توانائی نہیں رہی جو کبھی تھی۔
ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ٹی وی کو "پرفضا" ماحول اور اچھی خوراک کی ضرورت ہے جس میں حقیقی خبروں کی مقدار زیادہ ہو۔ ایک عرصہ ہوا میں نے ٹی وی دیکھنا ہی چھوڑ دیا، میں نے مختصر عرصہ کے لئے ہی سہی لیکن ٹی وی کا عروج دیکھا ہے۔مجھ سے نہیں دیکھا جاتا یہ ٹی بی زدہ ٹی وی اور اس وقت سے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں ٹی وی صحافت مر نہ جائے اور میڈیا کے قبرستان میں اس کے کتبہ پر لکھا ہو،حسرت ان غنچوں پہ جوبن کھلے مرجھا گئے۔