مار نہیں پیار

حال ہی میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں مدرسے سے مشابہ کسی جگہ پر ایک چھوٹے بچے کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور جیسے جیسے وہ چھوٹا بچہ درد سے بلبلاتا ہے، اسے چپ کروانے کے لیے مزید تشدد کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو کس ذریعے سے سامنے آئی یہ تو معلوم نہ ہو سکا سو اس کی تفصیلات تو کبھی سامنے نہ آسکیں گی البتہ اس ویڈیو کا ہر ہر حصہ ماضی اور مستقبل کے حوالے سے ایک قرب ناک داستان کا امین ہے۔ تشدد کرنے والے نوجوان کا اپنے بچپن میں ایسا کیا تجربہ رہا ہوگا کہ اس نے تشدد کو ہی نظم و ضبط سکھانے کا بہترین حربہ سمجھا۔ اور یہ کہ مار کھانے والے چھوٹے بچے پر یہ تجربہ کس طور اپنے نقوش چھوڑے گا اور جب یہ کل کو ذرہ بھی اختیار کا حامل ہوا تو وہ اس طاقت کو کس طور استعمال کریگا۔ جب اس بچے کے ذہن پر خوف ہی کلی طور حاوی رہے گا تو وہ ایسے میں جماعت میںکیا سیکھے گا؟۔
تشدد کی شدت میں فرق آسکتا ہے مگر بچوں پر جسمانی تشدد کے ایسے ہی اثرات ہوتے ہیں ۔یونیسف کے مطابق دنیامیں تقریباً پچاس فیصد بچوں کو گھروں میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان میں تشدد کا نشانہ بنانے والے اکثر والدین اور نگران ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسمانی تشدد کے درد یا زبانی ڈانٹ ڈپٹ سے محسوس ہونے والے بے عزتی بچوں کو رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کریگی جبکہ در حقیقت ایسا قطعاً ممکن نہیں۔ ہم اب تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ بچپن میں پر تشدد تجربات عمر بھر کے لیے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے سیکھنے کی صلاحیتوں پر بھی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔جسمانی تشدد کی اذیت کے ساتھ بچوں کا متواتر تلخ اور پر تشدد تجربات برداشت کرتے رہنا ان میں آگے چل کر موٹاپے،ذیابیطس اور دل کے امراض کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ مزید بر آں بچپن کے پر تشدد تجربات بچوں کی ذہنی ساخت میں تبدیلی اور بلوغت کے بعد مشکل حالات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ وہ زندگی میں کشیدہ حالات کو تشدد اور زیادتی کے ساتھ نمٹنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس سب کے ساتھ درسگاہوں اور تعلیمی اداروں میں تشدد کا ماحول برے تعلیمی نتائج اور تعلیمی لحاظ سے کمزور بچوں کے اسکول چھوڑ دینے کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان میں مار پیٹ کے اس رائج طریقے کی بیخ کنی کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں۔گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک اس تشدد کی ریت کو ختم کرنے کے لیے ایک توانا آواز ہے اور اب تو قومی اسمبلی میں اس حوالے سے ایک بل بھی پیش کیا جاچکا ہے ۔
مگر اس کے با وجود اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔جہاں تشدد سے بچائوبچوں کا بنیادی حق ہے وہیں پاکستان کے قانون میں بھی تشدد کرنے والوں کو تحفظ دینے والے سقموں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں والدین اور بچوں کے نگرانوں کو مار پیٹ اور تشدد کی بجائے بچوں کی تربیت اور انہیںنظم و ضبط سکھانے کے متبادل ذرائع کے حوالے سے بھی شعور دینا ہوگا۔ ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ بہت سا لاڈ پیار بچوں کو بگاڑ دیتا ہے اور انہیں ''سیدھا'' رکھنے کے لیے مار پیٹ ضروری ہے جبکہ ذہنی نشونما کی سائنس اور ماہرین کے مطابق بچے پیار کے علاوہ کسی اور طریقے سے سیکھتے ہی نہیں۔ نرمی، حکمت اور مثبت رویہ ان پر دوررس نتائج مرتب کرتا ہے۔ بچپن کے تجربات بچے کی شخصیت مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور ان میں ہمدردی، احساس اور خود شناسی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے لیے ایک پر خلوص اور سمجھ بوجھ رکھنے والے اوصاف مرتب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی آبیاری پیار، محبت اور احساس کے پانی سے کی جائے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خوش اور محبت سے لبریز بچے جلد اور اچھا سیکھتے ہیں اور یہ اعتماد انہیں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
ہمارے ہاں بچوں کے اساتذہ، نگرانوںاور ملک و قوم کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند سیاست دانوں کو ان پر تشدد رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ''مار نہیں پیار''ایک ایسا آفاقی نعرہ بننا چاہیے جس کا سب ہی حصہ بن سکیں اور وہ تمام لوگ جن پر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے، انہیں اس مقصد کے لیے طریق سکھانے اور تشدد کے بغیر نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے رہنمائی ملنی چاہیے۔ فلوقت پاکستان میں جسمانی سزاوں اور تشدد کے حالات بہت ہی گھمبیر ہیں۔ یہاں ایسے واقعات میں بچوں کے زخمی ہونے، معذور ہونے اور ہلاک تک ہونے کی خبریں آچکی ہیں۔ آخر ہم اس سب کو روکنے کے لیے مزید کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ بچوں کی پیار سے نشونما کرنے اور تشدد کی ریت کو ختم کرنا اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بدلاو ہی ہماری اگلی نسلوں میں ہمدردی، احساس اور نرمی پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)