جامعہ پشاورکا نیا ڈریس کوڈ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا

صوبے کے قدیمی یونیورسٹی جامعہ پشاور انتظامیہ کی جانب سے طالبات کے بناﺅ سنگھار اور فینسی ڈریسزپر پابندی کے فیصلے پرطلباءو طالبات کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے بعض طلبہ نے انتظامیہ سے اپنے فیصلہ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیاہے جبکہ بعض طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو لباس کے بجائے فیسوں میں کمی اور ریسرچ سرگرمیوں پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے، گزشتہ روز جامعہ پشاور انتظامیہ کی جانب سے ایک اعلامیہ کے ذریعے طالبات کے لیے من پسند رنگ کی قمیض کے ساتھ سفید رنگ کی شلوار، سفید دوپٹہ یا سکارف اور اوورال پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے ،جبکہ طلباءکے لیے اچھے رنگ کے مہذب کپڑے اور چیسٹ کارڈ لگانا لازمی کردیا گیا ،جس کے بعد یونیورسٹی کا نیا ڈریس کوڈ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ، بعض طلبہ نے مہذب کپڑوں کی تعریف کے بابت انتظامیہ سے استفسار کیا ،سوشل میڈیا صارفین کے مطابق ایک لباس باوقار پردے والا چاہیئے، کیونکہ مختلف قسم کے لباس پہننے سے احساس محرومیاں بھی جنم لیتی ہے، ایک اور صارف کے مطابق دنیا اب کپڑوں سے آگے جاچکی ہیں، معاملہ یہاں کپڑوں کی نہیں بلکہ معیاری تعلیم، بہترین سہولیات، ایک اچھا اور سازگار ریسرچ ماحول، معیاری ٹیچنگ فیکلٹی ، طلباءکی سکلز کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہیں، مگر یہاں پر فوکس ان چیزوں پرجہاں پر ہونا ہی نہیں چاہیئے تھا، ایک اور صارف نے گورنر اور جامعات کے چانسلر پر تنقید کیاہے ،جن کے بقول تعلیم مہنگی ہوچکی ہے، اس سے والدین پر بوجھ کم ہوجائے گا ،اس پرصارف نے کہا ہے ،کہ گورنر خیبر پختونخو اتمام جامعات کے چانسلر ہیں، انہیں لباس کے بجائے جامعات کے مالی حالت اور ریسرچ سرگرمیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، جامعہ پشاور کے پاس ملازمین کے تنخواہوں کے پیسے نہیں،ملازمین اور اساتذہ اپنے حق کیلئے سراپا احتجاج ہیں، ایسے میں یونیورسٹی انتظامیہ مسائل حل کرنے کے بجائے غیر ضروری کاموں کے پیچھے لگی ہوئی ہے.