ڈولتا ہو اسسٹم اور مستقبل کا منظرنامہ

سینیٹ انتخابات سے پیدا ہو نے والی صورت حال کے بعد وزیر اعظم عمران خان پہلے کے مقابلے میں دو ووٹ زیادہ لے کرقومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ حسب توقع پارلیمانی اپوزیشن نے اس اہم دن ایوان میں حاضر رہنے کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن کے خیال میں اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کرکے عمران خان انہیں اپنی پچ پر کھلوانا چاہتے ہیں۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اپوزیشن نے یوسف رضاگیلانی کی جیت کو عمران خان کی حکومت کے اوپر مسلسل طعنوں کی تلوار بنا کر لٹکانے کی کوشش کی تھی ۔اپوزیشن نے عمران خان کو اقلیتی گروپ کاوزیر اعظم قراردے کر استعفیٰ دینے کے مطالبات کی زد پر رکھنے کا سوچا تھا ۔اقلیتی گروپ کے وزیر اعظم کا یہ کارڈ عمران خان نے زیادہ دیر اپوزیشن کے ہاتھ میں نہ رہنے دیا اور اعتماد کا ووٹ لے کرخود کو اکثریت کا وزیر اعظم ثابت کر دیا ۔پارلیمانی جمہوریت بس اعداد وشمار کے کھیل کا ہی نام ہے جہاں بندوں گو تولنے کی بجائے گنا جاتا ہے۔اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کرکے عمران خان نے اپوزیشن کو اپنی پچ تک کھینچ لیا ۔بھلے سے وہ ایوان میں غیر حاضر رہے مگر اب عمران خان کا اعتماد کا ووٹ ہی ایک نئی تاریخ اور حقیقت ہے۔ عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کا باضابطہ اعلان قوم سے خطاب میں کیا اور اس حوالے سے آئینی تقاضا پورا کرنے کے لئے وزیر اعظم کے نام صدر مملکت کا خط بھی جا ری کیا گیا تھا۔آئینی تقاضے کے مطابق ایوان میں اکثریت کا اعتماد حاصل رہنے یاکھوجانے کا ابہام پیدا ہوجانے کے بعد صدر مملکت وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا مشورہ دے سکتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ تو حاصل کرلیا مگر یہ سوال اپنی جگہ برقر ار ہے کہ عمران خان اس جھٹکے سے مضبوط ہو کر نکلے ہیں یا مزید کمزور ہو کر رہ گئے ہیں؟یہ بات تو یقینی تھی کہ عمران خان اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو ں گے مگر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اب حالات میں ٹھہرائو اور ماحول میں استحکام آئے گا۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ عمران خا ن کی اس کامیابی کے بعد بھی سسٹم چلتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ اپوزیشن نے حکومت کو مسلسل مصروف رکھنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ایک کے بعد دوسری مشکل کھڑی کرنے کا یہ سلسلہ سسٹم کو مزید ناکارہ بنا رہا ہے۔پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کی اپنی ایک اہمیت ہے اور جب حکومت کے پاس عددی اکثریت بہت معمولی ہوتو حکومت کے لئے اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھنا ممکن نہیں ہوتا ۔عمران خان روز اول سے اپوزیشن کے خلاف احتساب کا شکنجہ کسے ہوئے ہیں ۔ ان کی ہر تقریر این آر او نہ دینے کے اعلان سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو تی ہے۔عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ۔اب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ا نتخاب درپیش ہوگا جہاں ایک بار پھر آصف زرداری کے کرشمے اور کمالات کا سامنا ہوگا ۔یہ مرحلہ بھی گزر گیا تو پنجاب ایک بار پھر مہم جوئی کا میدان ہوگا۔اس طرح موجودہ سسٹم چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔سسٹم کا مطلب موجودہ حکومت نہیں بلکہ 1985میں شروع ہونے والا پارلیمانی نظام ہے۔اس نظام نے ملک کو کرپشن ،اصراف ،سویلین آرمی کشمکش سمیت بہت سی قباحتوں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ حقیقت میں یہ سسٹم اسی وقت ناکام ہوگیا تھا جب جنرل ضیاء الحق کو ارمانوں سے تراشیدہ اپنے ہی وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو اسلام آباد سے سندھڑی روانہ کرنا پڑا تھا ۔جنرل مشرف کی بطور چیف ایگزیکٹو تنہا حکمرانی کے چند سا ل نکالیں تو بھی کسی نظام کو ڈلیور کرنے کے لئے ساڑے تین عشرے کاعرصہ بہت ہوتا ہے مگر ان برسوں میں نہ ملک کی سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں پر استوار ہوئیں اور نہ ہی ملک کے اداروں میں پختگی اور شفافیت آئی ہے ۔موجودہ حکومت گر جاتی ہے تو اس کے بعد عمران خان آنے والوں کو چین سے حکومت نہیں کرنے دیں گے ۔موجودہ نظام میں جس قدر کشیدگی بھر گئی ہے اس میں کسی حکومت کا آسانی کے ساتھ حکومت چلانا مستقبل میں ناممکن نظر آتا ہے۔سیاسی منظر پر پھیلی اس کشیدگی کی گہرائی اور شدت کا مظاہرہ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے حامیوں میں ہونے والی دھینگا مشتی کی صورت ہوا ۔ابھی تو معاملہ مکوں اور لاتوں تک محدود ہے حالات اسی طرف بڑھتے رہے تو پی این اے اور بھٹو صاحب کے دور کے مناظر دوبارہ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔فرض کرلیا جائے کہ عمران خان کی حکومت گر جاتی ہے اور وہ اپوزیشن میںچلے جاتے ہیں اور پی ڈی ایم نامی اتحاد حکومت بناتا ہے توکسی کو اندازہ ہے کہ ڈی چوک کے مناظر کس کس انداز میں دیکھنے کو ملیں گے؟۔یہ وہ پہلو ہے جس میں موجودہ سسٹم کااسی شکل و صورت میںجاری رہنا قطعی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔عمران خان کو یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ وہ بہت سے تجربات کی ناکامی کے بعد کا تجربہ ہیں اور ان کی ناکامی کے بعد سردست کسی نئے تجربے کے آثار اور امکانات نہیں ۔اپوزیشن ایک بار پھر بروئے کار آنے کے لئے سراپا سوال تو ہے مگر یہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے والی بات ہے۔اس لئے عمران خان کو روایتی تقاریر کی بجائے اب ڈلیورنس پر توجہ دینا ہوگی ۔انہوںنے اپوزیشن کو شکنجے میں کسا ہے تو اپوزیشن فطری طور پر اس شکنجے کو توڑنے اور اس دیوا ر سے سر پھوڑنے کی کوشش کرتی رہے گی ۔