روپے کو استحکام

بلاشبہ پاکستانی سیاست آج کل شدید عدم استحکام کا شکار ہے لیکن خوش قسمتی سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے بلکہ بہتری کی طرف گامزن ہے۔ مارچ کے شروع ہفتے میں ڈالر کے حساب سے پاکستانی روپے کی قدر 157 روپے تک آگئی جبکہ پچھلے سال اگست میں ڈالر 168 روپے کا ہوگیا تھا۔ اگر آپ مئی 2018 سے دیکھیں تو اس وقت 115 روپے کا ایک ڈالر تھا جو بڑھتے بڑھتے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد اسی سال کے آخر تک 150 روپے کا ہوگیا تھا جو اب 157 روپے کا ہے۔ آئی ایم ایف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ زرمبادلہ کی قدر کو مارکیٹ میں ڈالر کی رسد اور طلب کے لحاظ سے آزادانہ چھوڑ دینا چاہیے اور پچھلی حکومت نے اِسے مصنوعی طور پر اصل قدر سے بلند سطح پر رکھا ہوا تھا۔ اس مکتبہ فکر کے ماہرین ِ معیشت کا نظریہ، یہ تھا کہ اس طرح بیرونی قرضوں کا بوجھ کم رہتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رہتی ہیں جبکہ موجودہ مکتبہ فکر کے حامی یہ کہتے ہیں کہ اس کا نقصان یہ ہے کہ مقامی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے برآمدات کی مسابقت بین الاقوامی مارکیٹ میں ختم ہوجاتی ہے جس سے برآمدات کی سطح گرجاتی ہے اور شرح منافع کم ہوجاتی ہے۔ یہ سادہ سی بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ عام اشیا کی بھی قلت ہوجائے اور طلب بڑھ جائے تو قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ روپے میں ڈالر کی قیمت کا ہے جسے روپے کی قدر کہا جاتا ہے اگر ملک میں امریکی ڈالر وافر ہوجائے اور خریدنے والے کم ہوجائیں تو ڈالر کی قدر گر جائے گی۔ آج کل پاکستان میں ایسا ہی ہورہا ہے۔ بڑی تعداد میں بیرون ملک پاکستانی اپنے خاندان اور دوستوں کو بینکنگ چینل سے پیسہ بھیج رہے ہیں۔ حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے روشن پاکستان ڈیجیٹل اکائونٹ جاری کیا ہے جس میں86 ہزار اکائونٹس کھل چکے ہیں ماہ سال 2020 -21 کے جولائی تا جنوری کے سات ماہ میں 25 فی صد اضافے کے ساتھ 14 ارب ڈالر ترسیلات زر کی مد میں پاکستان آچکے ہیں۔لیکن روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لیے ترسیلات زر بھی کافی نہیں۔ برآمدات کے ذریعے بھی ملک میں زرمبادلہ کا بہائو بڑھ جاتاہے۔ گزشتہ آٹھ ماہ یعنی جولائی تا فروری پاکستان میں 16.3 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئیں بلاشبہ یہ پچھلے سال کے آٹھ ماہ کے مقابلے میں معمولی زیادہ ہیں یعنی 4.6 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ لیکن پاکستان کی مجموعی معیشت پیداواری استعداد، قدرتی وسائل اور افرادی قوت کی صلاحیت کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ صرف انڈیا نہیں پاکستان برآمدات کے معاملے میں بنگلادیش سے بہت پیچھے ہے۔ زرعی لحاظ سے گندم، کپاس، چاول اور گنا پیدا کرنے والے نمایاں ممالک میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے لیکن اس وقت گندم اور چینی درآمد کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ اسی طرح کپاس پیدا کرنے والے اس بڑے ممالک میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے لیکن اس سال کپاس کی پیداوار میں 3.5 فی صد کمی ہوئی۔ اس وجہ سے پاکستان کی اہم صنعت یعنی ٹیکسٹائل خام مال کی دستیابی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ خام کپاس اور کاٹن یارن دونوں کی قلت ہے۔ اس وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ آج کل انڈیا سے خام کپاس اور کاٹن یارن درآمد کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ اصل میں برآمدات کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہیں ان کو دور کرنے کی کسی حکومت نے بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ پیداواری لاگت، ایکسپورٹ ریفنڈ، کوالٹی، ویلیو ایڈیشن اور پیکنگ جیسے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برآمدات میں اضافے کے لیے ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر بے شمار ادارے موجود ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے۔ برآمدات کے بجائے درآمدات میں اگر اضافہ ہوتا رہا تو تجارتی خسارہ بڑھتا جائے گا۔ ڈالر پر اس کا دبائو ہوگا اور روپے کی قدر کم ہوجائے گی۔ ڈالر کے حصول کا تیسرا ذریعہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI) ہے اگر بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ڈالر کی فراہمی کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور کم ہی سہی لیکن رفتہ رفتہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اس سے پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی روزگار کیلئے فکریں بھی کم ہوں گی اور معیشت مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی آئے گی، ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں کاروبار کے لیے سازگار حالات ہوں۔ مکمل طور پر امن وامان ہو، عدالتی نظام مضبوط ہو، کرپشن فری معاملات ہوں، بیوروکریسی کی رکاوٹیں نہ ہوں، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہوں مگر اس کے لیے مندرجہ بالا رکائوٹوں کا دور ہونا ضروری ہے۔ اگر ان امور پر توجہ دی گئی تو روپے کی قدر مستحکم رہے گی ورنہ جس طرح سیاسی عدم استحکام ہے روپے کی قدر بھی کمزور ہوجائے گی۔