آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

چھاجوں برستے پانی نے جاتی سردیوں کو روک کر واپسی پر مجبور کردیا ہے یار لوگوں نے گرم کپڑوں سے جان چھڑا کر ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر بدلتے موسم کا سواگت کر لیا تھا جبکہ ہم جیسے بڑھتی عمر والوں نے ابھی موسمی تبدیلی کے حوالے سے گو مگو کی کیفیت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بدلتی رات کو دل سے خوش آمدید تو نہیں کہا اور ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ہلکے کپڑے نکالے جائیں یا نہیں،تاہم اتنا ہے کہ کوٹ اتار کر واسکٹ پہن لیا تھا مگر گزشتہ شام پہلے ایک ہلکے پھلکے چھینٹے اور پھر رات کے وقت چھاجوں برسنے والی بارش سے ایک بار سردی کو محسوس کرنا شروع کردیا یوں کمزور وناتواں جسموں پر ایک بار پھر بھاری وزن کے کپڑوں کا بوجھ لا کر جا کر واپس آتی سردیوں سے نمٹنے کا بندوبست کر ہی لیا اس آتی جاتی اور پھر جاکر آنے والی سردی کی کیفیت پر میاں خیرالحق گوہر کا ایک پشتو شعر(اگرچہ اپنے محبوب کے حوالے سے کہا گیا)خوبصورت تبصرہ لگتا ہے کہ
کلئی چہ کلہ گل شی بیابہ کلہ شی کلئی
قربان دیار دشونڈو کلہ گل کلہ کلئی
اس کا مفہوم یہ ہے کہ کلی جب پھول بن جاتی ہے تو پھر واپس کلی کہاں بن سکتی ہے مگر یار کے لب لعلیں کے قربان جو کبھی کلی سے پھول اور پھر پھول سے کلی بن جاتی ہے شاعر نے اپنے محبوب کے ہونٹوں کوگفت کرنے کی صورت میں بار بار کھلنے اور بند ہونے کو کلی سے پھول اور پھول سے کلی سے تشبیہہ دی ہے جبکہ ہمیں اس آتی جاتی اور جا کر واپس آتی سردی میں اسی کیفیت کی جھلک نظر آتی ہے۔اختر بے خودمراد آبادی نے کہا تھا
سرد موسم،دھوپ،بارش،بجلیاں
اب ہمیں سب کچھ گوارا ہوگیا
گزشتہ رات بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی،سرد موسم جاتے جاتے رک گیا بلکہ مراجعت پر آمادہ ہوا،بجلیاں کڑک اور بادل گرج رہے تھے اور پھر جو بارش کا سلسلہ شروع ہوا تو ایسا لگ رہا تھا کہ گزشتہ چند روز جس طرح خشک گزرے ان دنوں کا قرض اتارنے پر آسمان پر قبضہ جمانے والے گہرے سیاہ بادل اپنی چھاگل خالی کرنے پر مصر تھے،سودل کھول کر برسے،پھاگن کے اختتام کے دنوں میں یوں کھل کر برسنے کی اپنی کیفیت ہوتی ہے قیام پاکستان سے پہلے یہاں جو ہندو آباد تھے ان کے بارے میں اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ وہ اسی موسم میں یعنی جاتی ہوئی سردی کے آغاز کے ساتھ ہی اپنے کمبل جسے پشتو زبان میں شڑئی اور ہندکو میں لوئی کہتے ہیں ایک جگہ ڈھیر کر کے جلا دیتے تھے اور بہار کی آمد کا جشن مناتے تھے ممکن ہے اب بھی یہ لوگ جہاں جہاں آباد ہیں یعنی سندھ اور پنجاب وسندھ کے ملحقہ علاقوں میں وہاں یہ رسم جاری رکھے ہوتے ہوں تاہم اب اس رسم کی (کم از کم خیبرپختونخوا) میں صرف یادیں ہی باقی رہ گئی ہیں ان کی نزدیک یہ بہار کی آمد کی نوید ہوتی تھی۔یعنی بقول شاعر
آمد بہار کی ہے جو گزبانی طیور کی
بہرطور موجودہ صورتحال جہاں بزرگوں اور خصوصاً بچوں کے حوالے سے احتیاط طلب ہے کہ بزرگ بھی اس سے فوری طور پر متاثر ہو سکتے ہیں اسی طرح چھوٹے بچوں کو مناسب کپڑوں کی ضرورت رہتی ہے یعنی سویٹر اور بچوں کے کمبل سنبھالنے سے گریز ہی کرنا چاہئے کہ سردی لگ جانے کا دھڑ کا لگا رہتا ہے جبکہ اس موسم میں کھانسی زکام بھی جلد حملہ آور ہو سکتے ہیں جن کو برداشت کرنے کی قوت نہ بزرگوں میں ہوتی ہے نہ بچوں میں بلکہ اس حوالے سے توہمیں اپنا وہ زمانہ یاد آگیا جو ریڈیو کی ملازمت کے دوران ہم نے کوئٹہ میں گزارا،اور ہم جولائی اگست میں بھی بزرگ شہریوں کو کوٹ پہنے دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوگئے تھے تب وہاں کے دوستوں نے بتایا کہ اکثربزرگ یہاں کے موسم کی وجہ سے دمہ کا شکار ہوتے ہیں اور اگر اچانک(اکثر ایسا ہی ہوتا تھا)قندہاری ہوا چل پڑے،یعنی سائبیریا کے برفانی میدانوں سے اٹھنے والی ہوائوں کی لہریں چل پڑیں جوپہلے افغانستان کے شہر قندہار کو لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور بعد میں چلتن پہاڑ کے اوپر سے گزر کر نیچے وادی کوئٹہ کو متاثر کر دیتی ہیں تو ان کی وجہ سے بزرگ شہری بہت متاثر ہوتے ہیں اس لئے سردی کی ان لہروں سے بچائو کیلئے عمر رسیدہ افراد کو گھر سے نکلتے ہوئے کوٹ زیب تن کرنا لازمی ہو جاتا ہے اسی حوالے سے گزشتہ رات کے چھاجوں پڑنے والی بارش سے ہم نے بھی گرم کپڑوں میں پناہ لے لی ہے کہ خواب غفلت سے نقصان ہی کا اندیشہ ہے یعنی بقول نظیری
خورشید عمر بر سر دیواروخفتہ ایم
فریاد بردرازیٔ خواب گردان ما