سب کچھ سکرپٹ کے مطابق تھا

کیا واقعی اپ سیٹ ہوگیا ہے؟اس بارے میں تو سیٹ اپ بنانے بگاڑنے والے ہی حتمی رائے دے سکتے ہیں اور وہ کوئی رائے ہی نہیں دیتے وہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے آسماں سر پر اٹھا رکھا ہے کہ عوامی نمائندوں نے ہر دبائو مسترد کردیا اور اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا۔ اگر پی ٹی آئی اپنی خواہش کے مطابق نشستیں جیت لیتی تو اس کے لیڈر بھی یہی کہتے کہ ارکان اسمبلی نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا۔ جمہوریت کی جیت ہوئی ہے، جس قسم کی جمہوریت پاکستان میں چل رہی ہے یہ اسی قسم کی جمہوریت کی جیت ہے اگر دونوں فریقوں کی بات مان لی جائے تو پھر35 کروڑ روپے اور سینیٹ کے ٹکٹ کے لیے جوڑ توڑ پیسوں وغیرہ اور ویڈیو آڈیو سب کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی، یوسف رضا گیلانی اور پی ٹی آئی کے ووٹوں میں بڑا فرق تھا۔17ووٹ کم ہونے کے باوجود گیلانی صاحب جیت گئے۔ عدالت عظمی کو الیکشن کمیشن سے پوچھنا چاہیے کہ سیٹوں کے مطابق ووٹ کیوں نہیں ملے۔17ووٹ کہاں گئے۔ دراصل سارا کام سیٹ اپ اور اسکرپٹ کے مطابق ہوا ہے، یہ لوٹا پریڈ تھی جس کو جو حکم ملا اس نے وہ کیا بلکہ جس کو ووٹ پر دستخط کرنے کا حکم ملا اس نے یہی کیا۔ جس کو صحیح کا نشان لگانے اور اس کے بعد راز فاش کرنے کا حکم ملا وہ بھی اسکرپٹ کے مطابق تھا۔ یہاں تک کہ جو سات ووٹ مسترد ہوئے ہیں ان کے بارے میں بھی آزاد تفتیش کرلی جائے تو ان کا بھی پتا چل جائے گا۔ ویسے الیکشن کمیشن حکومت اور اپوزیشن کوئی طریقہ کار وضع نہیں کریں گے۔ لہٰذا یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ ان میں سے کوئی فریق ایسے قوانین بنائے گا یا ایسا الیکشن کمیشن بنائے گا جو تمام دبائو سے آزاد ہو۔ہمارا یہ کہنا کہ سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق تھا ایک تاریخ کے تناظر میں ہے، جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں ق لیگ بنائی گئی اور اسے پی ٹی آئی کی طرح میدان صاف دیا گیا تو بھی اسے دس ووٹوں کی ضرورت تھی چنانچہ فیصل صالح حیات کی قیادت میں لوٹا پریڈ ہوئی۔ پیپلزپارٹی نے کسی کو نوٹس تک نہیں بھیجا کیونکہ ان کے اسکرپٹ میں خاموشی ہی تھی۔ اور یوں ق لیگ کی حکومت بھی گئی۔2018 میں عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لیے ایم این اے کے نتائج میں تبدیلی کی گئی، آرٹی ایس بند ہوگیا، یا کردیا گیا، پھر بھی نگ پورے نہیں ہوئے تو پارٹیوں اور آزاد ارکان کی پریڈ کرائی گئی۔ پھر چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں بھی جادو چل گیا۔ تو اب کیا ہوا اسکرپٹ لکھنے والے کمزور ہوگئے یا پی ڈی ایم والے اتنے مضبوط ہوگئے کہ ہر دبائو مسترد کردیا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے انہیں یہی کرنے کو کہا گیا تھا۔ یہ دراصل لوٹا پریڈ کا یوٹرن تھا، جس روز ان سب کو حکم ملے گا یہ سب کے سب کسی اور طرف پریڈ کررہے ہوں گے پورے معاملے کو غور سے دیکھا جائے تو صاف نظر آرہا تھا کہ کسی قوت نے صدارتی ریفرنس، اسے عدالت میں سماعت کے لیے منظور کرانے، اس کی سماعتوں کی تاریخوں اور فیصلے تک کا پورا نظام بنایا ہوا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ میں کوئی قانون ہی نہ بنا سکے دو تہائی اکثریت کے لیے اسے بھی لوٹا پریڈ کرانی پڑتی، لیکن جس طرح ابھی پیسہ چلا اس وقت بھی چل جاتا۔ جو الزامات اب عمران خان نے لگائے اس وقت اپوزیشن لگارہی ہوتی۔ وزیراعظم الیکشن کمیشن پر برس رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ والے پاکستان میں ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہیں اور ان کی کامیابی جمہوریت کی کامیابی ہے۔قوم کو بعد میں پتا چلے گا کہ بیلٹ پیپر پر دستخط کرنے کا کیا مطلب تھا اور غلط نشان لگانے کا کیا مطلب تھا۔ ایک آدھ غلطی تو ہو ہی جاتی ہے لیکن اس الیکشن میں بڑے پیمانے پر غلطیاں بھی کی گئی ہیں۔13ارکان اسمبلی نے بیلٹ ضائع کردیے۔ وزیراعظم اس پر برہم ہوئے ہیں اور سوال کیا ہے کہ کیا آپ کو نہیں پتا کہ ووٹ کس طرح کاسٹ کرتے ہیں، ان کا سوال بجا ہے لیکن ان سے بھی سوال ہے کہ آپ نے ایسے لوگوں کو پارٹی میں کیوں بھرلیا جن کو ووٹ ڈالنا نہیں آتا۔ ویسے یہ سوال کیا عمران خان ہی سے پوچھا جانا چاہیے؟!! جس طرح یہ لوگ طیاروں میں ٹھونس کر پارٹی میں لائے گئے اسی طرح ان سے ووٹ بھی ڈلوائے جانے چاہیے تھے۔ وزیراعظم نے شکوہ کیا ہے کہ2018 میں بھی ہمارے20 سینیٹرز بک گئے تھے، اس مرتبہ17 نے گڑ بڑ کی ہے، گویا تحریک انصاف میں بہتری آئی ہے اس مرتبہ تین کم بکے۔ لیکن دوسرا سوال ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ ہی کیوں بک رہے ہیں اس کی وجہ تو یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی لوٹے تھے ان کو دوبارہ لوٹا بنانا آسان ہوجاتا ہے، لہذا20 ہوں یا17جن کے لوٹے تھے انہیں سوچنا چاہیے کہ ان کی پارٹی میں یہ لوٹے کیا کررہے تھے، ظاہر ہے وہی کررہے تھے جو ان کی پارٹی میں آنے سے پہلے کررہے تھے، یعنی انتظار کب موسم بہار آتا ہے (الیکشن) وزیراعظم نے جذبات میں یا کسی کے کہنے پر اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کردیا۔وزیراعظم کی پارٹی کی سینیٹ میں دوسری امیدوار کو تو 174 ووٹ ملے اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی عددی برتری برقرار ہے اور یہ حفیظ شیخ پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ لیکن عمران خان کو اس بات کا یقین کیسے ہو کہ وہ صرف حفیظ شیخ پر عدم اعتماد ہے، جہاں تک حفیظ شیخ کی شکست کا تعلق ہے تو یہ محض ایک امیدوار کی شکست نہیں ہے یہ براہ راست آئی ایم ایف کو دھچکا لگا ہے۔ وزیراعظم کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی ورنہ جو لوگ ضرورت کے مطابق 17 ووٹرز کی لوٹا پریڈ کراسکتے ہیں وہ زیادہ کی بھی کراسکتے ہیں۔