اعتماد کے ووٹ پر سوالات اور تحفظات

قومی اسمبلی کے باہر ہفتہ کی دوپہر جو ہنگامی مستی ہوئی اور انصافی کارکنوں نے جس طرح اپوزیشن کی رکن قومی اسمبلی مریم اورنگزیب کو تشدد کا نشانہ بنایا وہ قابل مذمت ہے احسن اقبال اور سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کے ساتھ جو ہوا وہ اچھا نہیں نجانے کیوں مجھے سال1977یاد آگیا جب قومی اتحاد کے کارکنان پیپلزپارٹی کے اکادکا کارکن کو دیکھ کر اسلام نافذ کرنے پر مُصر ہو جاتے تھے۔ مخالفین کی نفرت پر ایک پوری نسل تیار کر کے جس میدان میں اتاری گئی اس کا خمیازہ بالآخر سب کو بھگتنا ہوگا انہیں بھی جنہیں بہت شوق ہے تجربے کرنے کا۔حیرانی ہوتی ہے بطور تحصیل ناظم مبلغ دو سو روپے کے بغیر درخواست گزار کی درخواست پر مہر اور دستخط ثبت نہ کرنے والے عثمان بزدار بھی''حاجیوں''جیسی گفتگو کرتے ہیں اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ سینیٹر شبلی فراز کہتے ہیں نوٹ کو عزت دو کا منہ کالا ہوگیا۔کیا واقعی ایسا ہے؟اس سادہ سوال کا جواب ہے لیکن ہم قومی اسمبلی کے اندر ہوئے اعتماد کے ووٹ پر بات کرتے ہیں ایوان میں موجود اپوزیشن کے واحد رکن محسن داوڑ کے بقول178ارکان ایوان میں موجود ہی نہیں تھے تو ووٹ کیسے ہوگیا۔اپوزیشن دوتصاویر سامنے لائی ہے جس میں اعتماد کے ووٹ کے لئے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں3غیر منتخب مشیرتشریف فرما ہیں مشیر ڈاکٹر عطاء الرحمن احتساب والے مشیر اور زلفی بخاری۔ یہ تصاویر درست ہیں تو اس ساری کارروائی پر سوالات درست ہوں گے اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جمعہ کی شام حکومتی اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جو تعداد بتائی گئی اس پر بھی تحفظات سامنے آرہے ہیں۔کیا واقعی میں اعدادوشمار کے گور گھہ دھندہ سے سب کچھ ہوا اس کا آسان حل یہ ہے کہ محسن داوڑ اور اپوزیشن سے دعوئوں کا ثبوت طلب کیا جائے ایک خصوصی کمیٹی اس کی تحقیقات کرے۔یہ کرے گا کون۔راوی اور تجویز پیش کرنے والے دونوں خاموش ہیں۔ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم نے جو خطاب کیا وہ حسب سابق وزیراعظم کی تقریر کم اور تحریک انصاف کے سربراہ کی تقریر زیادہ تھی۔فقیر راحموں کہتے ہیں بس یہی ایک تقریر ہے جس کا سودا بیچا گیا اور بک رہا ہے۔ضروری نہیں کہ میں اور آپ فقیر راحموں کی اس بات سے اتفاق کریں البتہ یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم کا خطاب پرانے الزامات سے لبریز تھا۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔اس سارے غصے کی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے وزیراعظم کی حیثیت سے وہ یہ تو جاتے ہی ہوں گے کہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق کام کرتا ہے۔ خواہشات پر نہیں۔صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کو فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے نہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا۔آئین میں ترمیم پارلیمان کا کام ہے۔ بظاہر اعتماد کا ووٹ لینے سے وزیراعظم مضبو ط ہوئے مگر کارروائی پر اٹھنے والے سوالات کچھ اور ہی سمجھا رہے ہیں اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم اور ان کے رفقا کو اپنے بنیادی فرائض پر توجہ دینا ہوگی۔عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔مہنگائی،غربت اور بیروزگاری کا علاج تلاش کرنا ہوگا نفرتوں کی سیاست بہت ہوچکی اڑھائی سال اس سیاست پر خرچ کر کے حاصل وصول کچھ نہیں اس لئے مناسب ہوگا کہ اپنے فرائض پر توجہ دی جائے وزیراعظم اور وزراء کے ساتھ ساتھ مشیروں کو بھی الفاظ کے چنائو میں احتیاط برتنی چاہئے لیکن اگر''کسی''کا رانجھا اسی زبان وبیان سے راضی ہو تا ہے تو''وہ''لگائے رکھے اس کام پر''سب''کو نتیجہ سب بھگتیں گے ایک دن۔ویسے ایک دلچسپ بات ہے اس سارے کھیل میں خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کے جن ارکان کا تبدیلی کی محبت میں ضمیر بیدار ہوا تھا ان کا کوئی ذکر خیر کہیں نہیں ہورہا اللہ خیر کرے۔وزیراعظم پر اعتماد کے کارروائی مکمل ہونے کے بعد کی تقاریر بہت دلچسپ تھیں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کی تقریر جن سرمایہ داروں۔استحصالی طبقات جاگیر داروں اوردوسرے مفاد پرستوں کے خلاف تھی ایم کیو ایم خود ان کی اتحادی ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ان کی بات کچھ اور خیالات کچھ اور ہوتے ہیں ایم کیو ایم اپنے دعوے میں سچی ہے تو باقی باتیں چھوڑے اپنے نئے نویلے سینیٹر فیصل سبزواری کے پس منظر اور موجودہ''حالات''کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی بنوا کر تحقیقات کروالے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔حرف آخر یہ ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی اور سندھ سے نو منتخب سینیٹر فیصل واوڈا کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کو مشیروں کی مدد سے جناب وزیراعظم پڑھ لیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ فیصل واوڈا کے جرم میں ان کی پوری حکومت کٹہرے میں کھڑی ہے۔ اپوزیشن غدار اور چور ہے سر تسلیم خم ہمت کیجئے اپوزیشن سے تحریک انصاف میں آنے والے اور لائے گئے دونوں قسم کے افراد کو پارٹی سے نکال دیجئے کیونکہ یہ بھی تو غداری اور لوٹ مار میں شریک رہے ماضی میں بہت ادب کے ساتھ عرض ہے حضور وزیراعظم صاحب!غدار غدار کھیلنے سے اجتناب کیجئے بات نکلے گی تو بہت دور تک جائے گی۔پینٹاگون اور وائٹ ہائوس میں بعض فیصلوں پر دی گئی رضامندی تک۔