جسٹس فائزعیسیٰ ریفرنس :قانون میں کھلی عدالت میں سماعت کا ذکر ہے، میڈیا پر نشر کرنے کا نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں پر سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے سماعت براہ راست نشر کرنے سے متعلق دلائل دیئےاور کہا کہ قانون میں کھلی عدالت میں سماعت کا ذکر ہے، میڈیا پر نشر کرنے کا نہیں، جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ دو سال سے میری زندگی مائیکرو اسکوپ کے نیچے ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی، وفاقی حکومت نے جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی۔

عدالت میں وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ کیس براہ راست نشر کرنے کی درخواست قابل قبول نہیں، نظرثانی درخواستوں کے دوران کوئی دوسری درخواست دائر نہیں ہوسکتی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی کیس میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی، قانون میں کھلی عدالت میں سماعت کا ذکر ہے، میڈیا پر نشر کرنے کا نہیں ہے۔

عامر رحمٰن نے کہا کہ آئین کی کسی شق میں کھلی عدالت کا ذکر موجود نہیں، سپریم کورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے وہ براہ راست نشریات کی اجازت دے یا نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمیشہ میڈیا کی آزادی کے حق میں بات کی، عدالت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میڈیا کی آزادی کا تعلق براہ راست نشریات سے ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ درخواست گزارکا موقف ہے پریس رپورٹنگ عوام تک حقائق پہنچانےکیلئے کافی نہیں ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو علم ہونا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کئی بار سماعت ان کیمرہ بھی ہوئی ہے، برازیل نے تو کہہ دیا کہ ججزکے چیمبرز کی گفتگو بھی نشر ہوگی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالت میں اس وقت 10 ججز ہیں، 6 دیگر ججزموجود نہیں، باقی معزز ججز کو سنے بغیر کیسے براہ راست نشریات کا حکم دے دیں؟ 10 ججز نے حکم دیا تو دیگر تمام ججز اس کے پابند ہوں گے۔

وفاق کے وکیل نے کہا کہ شہری کاحق عدالتی کارروائی دیکھنا ہے تو انصاف گھر تک پہنچنا بھی اسکاحق ہے،انتظامی مشکلات ہر فورم پر ہوتی ہیں، انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے کا یہ مطلب نہیں لوگ فیصلے ہوتے دیکھیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ فیصلہ غیرجانبدارانہ ہونا چاہیے۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ کھلی عدالتوں میں سماعت بھی اسی لیے ہوتی ہے کہ انصاف ہوتا نظر آئے۔

اس موقع پرسپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سماعت کے دوران کہاکہ 2 سال سےمیری زندگی مائیکرو اسکوپ کے نیچے ہے، اب چاہتا ہوں کہ سب کھل کر سامنے آئے، میں پبلک میں شرمندہ ہونے کو تیار ہوں لیکن حکومت خوفزدہ ہے۔

جسٹس عیسیٰ کاکہنا تھا کہ یہ پراپیگنڈسٹ اور کنٹرولڈ میڈیا چاہتے ہیں جو ان کی طرف کی بات کرے، یہ گلا پھاڑ کر میرے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں، حکومت نے میڈیا کو تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ یوٹیوب پرجارہے ہیں، ان کواس پر بھی اعتراض ہے، شہزاد اکبر نے مئی2019 ء میں پریس کانفرنس کرکے میری کردارکشی کی، 2 سال گزر گئے اور اب شہزاد اکبر اتنے خوفزدہ ہیں کہ عدالت نہیں آتے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی.