ماحولیاتی آلودگی کا معاملہ

محکمہ ترقیات ومنصوبہ بندی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے میونسپل سروسز کو پاکستان انوائرمنٹل ایکٹ کے زمرے میں لانے کی سفارش کرتے ہوئے موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرنے کی تجویز قابل غور امر ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیوں اور دیہی علاقوں میں میونسپل سروسز کی فراہمی والے اداروں میں انوائرمنٹل انسپکٹرز بھرتی کئے جائیں جبکہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں۔ اسی طرح آلودگی پھیلانے سے متعلق شکایات بھی بلدیاتی ادارے کریں اور ذمہ داران سے جرمانے بھی بلدیاتی ادارے ہی وصول کریں۔ آلودگی پھیلانے کی اگر ایک بڑی وجہ خود بلدیاتی اداروں کو قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔شہر کی صفائی کے ناقص انتظامات سے لیکر وقت بے وقت جھاڑو لگا کر دھول اُڑانا کچرے کو ٹھکانے لگانے کا غیرمحفوظ انتظام، نالیوں کی صفائی کے بعد مواد ادھر ادھر ہی پھینک جانے سمیت کئی ایسے امور ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی اور کثافت کو وسیع معنوں میں سمجھنے اور اس کی ضرورتوں پر توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں ہورہی۔ دھواں دینے والی گاڑیوں سے لیکر شہر کے مضافات میں کارخانوں سے خارج ہونے والی آلودگی، سنگ مر مر کے کارخانوں سے نکلنے والا آلودہ پانی یا کارخانوں میں استعمال شدہ پانی کی نکاسی، پلاسٹک کے تھیلوں کا پابندی کے باوجود استعمال جیسے نظر آنے والے عوامل پر جہاں توجہ نہیں وہاں ایسی گیسوں کے اخراج اور تیل کے زمین پر گرنے کے باعث ہونے والی آلودگی جیسے معاملات تو کسی زمرے ہی میں نہیں آتے۔ جہاں تک ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کیلئے محکمہ ترقیات ومنصوبہ بندی کی تجویز کا تعلق ہے اس سے اتفاق کیساتھ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا اس تجویز کو عملی صورت دینے کیلئے کیا جن کے ذمے یہ کام لگایا جارہا ہے ان میں اتنی استعداد ومہارت ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو پورا کر سکیں۔
جامعات میں بہتری لانے کے حوالے سے اہم فیصلہ
گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان کے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ2012میں ترامیم اور مجوزہ اقدامات کو روبہ عمل لانے سے جامعات کے نظام اور طلبہ کو بہتر تعلیم کی سہولت کی فراہمی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جامعات میں اقرباء پروری، مالی بحران اور جامعات میں ماحول پر اثر انداز ہونے والے عوامل ایسے مسائل ہیں جن کی شدت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ ان پر غور کرنے اور اس حوالے سے قوانین میں ترمیم کے بعد عملی اقدامات وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ جامعات کے معاملات میں شفافیت نہ ہونے کے اثرات اور خاص طور پر باقاعدہ ایک منظم گروہ کی تشکیل کی صورت میں بعض جامعات میں جو سرگرمیاں ہوتی ہیں ان کی شکایات کے باوجود انضباطی اقدامات نہ ہونا ایک ایسا سنگین معاملہ بن چکا ہے جس کے تدارک کیلئے جامعات کے اعلیٰ عہدیداروں کے اختیارات کو محدود کرنے اور ایک ایسا با اختیار باڈی بنانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو جامعات کے حوالے سے شکایت ملنے کی صورت میں آزادانہ کارروائی کرے۔ مالیاتی امور میں اور بھرتیوں کے معاملات میں جامعات کی خود مختاری میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔
بارشوں کے دنوں میں پیدا شدہ مشکلات
ہربار بارشوں کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں عملہ صفائی کی شہر میں صفائی کا نظام برقرار رکھنے میں ناکامی اور شہر کا تالاب کا منظر پیش کرنے کی شکایات معمول کا حصہ ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ محولہ تنقید کو بجا قرار دینے کیساتھ ساتھ خود شہر یوں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی قدم اُٹھایا گیا ہو یا پھر کم ازکم شہری ذمہ داریوں کی ذمہ دارانہ ادائیگی کے ذریعے عملہ صفائی کی مشکلات کم کرنے کی سعی کی گئی ہو۔ شہر کی صفائی اور بارشوں کے دنوں میں سامنے آنے والی مشکلات کے شہری بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کیا یہ عام مشاہدے کی بات نہیں کہ جہاں بھی کوئی نالی بند ہوئی اورنالے ا ُبل پڑے وہاں پر عملہ صفائی جب نالہ کھولنے آتا ہے تو سب سے پہلے نالے کے اندر سے پلاسٹک کے شاپر گٹھڑی کی صورت میں باہم بندھے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ملتے ہیں جو نالی کی بندش کا باعث بنتے ہیں ۔پانی کا بہائو رک جانے کے باعث باقی ملبہ اور بیدردی سے نالیوں میں پھینکی ہوئی اشیاء کہیں پھنس جاتی ہیں تو شہر کی گلیوں کا تالاب بننا فطری امر ہوتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں جہاں عملہ صفائی کو روزانہ کی بنیاد پر صفائی اور خاص طور پر نالیوں میں رکاوٹیں بننے کا باعث بننے والی اشیاء کو ہٹا نے اور نالی کے کنارے ڈالنے کی بجائے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے وہاں پر شہریوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کیلئے شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس امر پر اہالیان علاقہ کی سرزنش ہونی چاہئے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں نالیوں کی بندش کے اسباب اختیار کرتے ہیں ۔یہ صرف کھلی نالیوں والے علاقوں ہی کی صورتحال نہیں بلکہ جہاں نکاسی کا زمین دوز نظام موجود ہے وہاں پر بھی گٹر اُبلنے کی بڑی وجہ پلاسٹک کی تھیلیاں بنتی ہیں ۔پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی کا مؤثر نہ ہونا بھی توجہ طلب امر ہے۔پلاسٹک کے تھیلوں اور پلاسٹک پیکنگ پر پابندی اور خاتمہ کیساتھ ساتھ شہریوں کی ذمہ دارانہ کردار وقت کی ضرورت ہے جس پر توجہ دی جانی چاہئے۔