افتراق وانتشار کی مثلث

افغانستان میں امن کے آثار ہویدا ہوتے ہی ہمہ وقت کام کرنے والا خرابی کا خودکار نظام بھی آخرکار حرکت میں آہی گیا۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات میں نصف درجن سے زیادہ اُمیدوار تھے مگر ماضی کی طرح اس بار بھی اصل مقابلہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان تھا۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ افغانستان کی دو مختلف قومیتوں پشتون اور تاجک سے ہی تعلق نہیں رکھتے بلکہ دونوں کا پس منظر بھی قطعی مختلف ہے۔ اشرف غنی بیرونی دنیا میں زندگی گزارنے والے ٹیکنوکریٹ ہیں تو عبداللہ عبداللہ سوویت یونین کیخلاف افغان مزاحمت کا ایک کردار۔ وہ احمد شاہ مسعود کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم میں ان کا انداز خاصا پُراعتماد اور جارحانہ تھا اور ان کا میڈیا اہتمام کیساتھ ان کی جہادی زندگی کی یادگار تصویریں جاری کرتا رہا، جس میں وہ کہیں احمد شاہ مسعود کے پہلو میں بندوقوں کے سائے میں کسی جنگی سکیم پر بحث کرتے نظر آرہے ہیں تو کہیں فوجی وردی میں ملبوس ایک کمانڈو کے کردار میں دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے بہت سرعت کیساتھ صدارتی انتخاب میں ایک طرح کا شمالی اتحاد بحال کر دیا۔ تاجک عبداللہ عبداللہ کیساتھ ازبک لیڈر عبدالرشید دوستم اور اُستاد محقق اور ہزارہ لیڈر کھڑے نظر آتے تھے۔ انتخابی معرکے میں اشرف غنی کامیاب ٹھہرے تو عبداللہ عبداللہ کیلئے یہ بات قطعی قابل قبول نہیں تھی۔ یہاں تک ان کے اتحاد نے اشرف غنی کے مقابل ایک نیا ڈھانچہ قائم کرنے کا راستہ اپنا لیا۔ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور خود کو قانونی صدر قرار دیا۔ اس کشمکش نے عملی شکل اس وقت اختیار کی جب کابل کی پہلو بہ پہلو ایستادہ دو عمارتوں میں بیک وقت اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے صدر کے عہدوں کیلئے حلف اُٹھایا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مفاہمت کرانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مفاہمت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد امریکی عہدیداروں نے اپنا وزن اشرف غنی کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ عبداللہ عبداللہ کی تقریب میں کسی غیرملکی شخصیت یا سفارتکار نے شرکت تو نہیں کی مگر ایسا بھی نہیں کہ ان کا کوئی بیرونی دوست بہی خواہ اور ہمدرد نہ ہو۔ ایک طرف افغانستان کے حکومتی سسٹم میں دو متوازی دھارے چل پڑے تو دوسری طرف امریکہ اور طالبان میں براہ راست بات چیت تیزی سے کامیابی کی راہوں پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت یہ بھی ہے امریکیوں نے مزید انتظار کی زحمت کئے بغیر افغانستان سے رخت سفر باندھنا شروع کردیا۔ یوں افغانستان میں افتراق وانتشار کی ایک مثلث وجود میں آگئی ہے جس کے تین زاوئیے طالبان، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ہیں۔ اس نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کو کچھ اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دنیا افغانستان کا قانونی صدر اشرف غنی کو تسلیم کر لیتی ہے تو بھی افغانستان کی جغرافیائی اور عوامی حقیقتوں میں عبداللہ عبداللہ اور رشید دوستم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اپنی اپنی اکائیوں کی نمائندہ طاقتیں ہیں اور انہیں مطمئن کئے بغیر افغانستان کے حالات کی اُلجھی ہوئی ڈور سلجھنا ممکن نہیں۔ اسی طرح ہزارہ جات کی اپنی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد افغانستان کا جو مستقبل کا منظر تشکیل پارہا تھا اس میں گل بدین حکمت یار پشتون آبادی کے بڑے حصے پر اپنا اثر ورسوخ رکھتے تھے مگر ان کی کامیابیوں کو بریک لگانے کیلئے تاجک احمد شاہ مسعود آگے آئے تو واقعی ان کی کامیابیوں کو بریک لگ گئی۔ کچھ یہی معاملہ طالبا ن کیساتھ ہوا جب اور جہاں شمالی اتحاد نے چاہا طالبان کے قدم رک گئے اور طالبان کے دور میں شمالی اتحاد کو حکومت کے انداز میں اپنے معاملات چلانے کا اچھا خاصا تجربہ ہوچکا ہے۔ اب بھی عبداللہ عبداللہ اور رشید دوستم نے اپنا متوازی نظام قائم کرکے کابل حکومت کے پیروں کے نیچے سے قالین کھینچ لیا ہے، جس سے کابل حکومت کی طالبان کیساتھ سودے بازی کی پوزیشن کمزور سے کمزور تر ہورہی ہے۔ ایک طرف طالبان متحدہ قوت ہیں تو دوسری طرف کابل حکومت تقسیم درتقسیم کا شکار ہے۔ دو صدور کا معاملہ یونہی آگے چلتا ہے تو پھر شمالی اتحاد ترکی، ایران اور روس کی حمایت حاصل کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ معاملہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے سفیر مقیم کابل نے عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی اور عبداللہ عبداللہ نے اپنے میڈیا کے ذریعے اس ملاقات کی خوب تشہیر بھی کی تھی۔ طالبان کو ماضی کے تجربے سے یہ حقیقت معلوم ہو چکی ہے کہ وہ تنہا افغانستان کے حکمران نہیں بن سکتے۔ خود ان کی صفوں میں دوسری قومیتوں اور شمالی علاقوں کی نمائندگی بھی نہیں۔ آخرکار انہیں آگے چل کر پاور شیئرنگ کیلئے شمالی قوتوں سے معاملات طے کرنا پڑیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے شمالی قوتوں نے خود کو اشرف غنی کے اقتدار سے الگ کر کے طالبان کیساتھ ایک الگ قوت کے طور پر معاملات طے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس مرحلے پر یہ بات شاید بہت سوں کی سمجھ میں نہ آئے مگر تھوڑی دور چل کر یہ بات پورے سیاق وسباق کیساتھ حقیقت بن کر سامنے آئے گی۔ طالبان اور اشرف غنی دونوں پشتون سہی مگر طالبان کیلئے اشرف غنی سے معاملات طے کرنے کی گویا کہ شمال کی زمینی حقیقتوں کیساتھ طالبان کا جو سامنا آگے چل کر ہونا تھا بہت پہلے ہی ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس وقت افغانستان ''دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو'' کی عملی تصویر بنا نظر آتا ہے۔ آج طالبان سوویت انخلاء کے بعد کے گل بدین حکمت یار ہیں تو اشرف غنی ڈاکٹر نجیب کی جگہ پر کھڑے ہیں جبکہ عبداللہ عبداللہ اس وقت کے استاد ربانی اور احمد شاہ مسعود کے مقام پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کرداروں کے پیچھے بھی تمام کردار تھوڑے سے رد وبدل کیساتھ وہی نظر آتے ہیں۔ ماضی کے حالات کی پرچھائی کی صورت یہ منظر افغانستان کی طرح پاکستان کیلئے بھی ماضی کی طرح کسی طور اچھا نہیں۔