امن کی طرف قدم بڑھائیں

امریکہ اور افغان طالبان کے مابین انتیس فروری کو امن معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد امریکہ افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد تیرہ ہزار سے کم کر کے 8,600 تک کر نے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس تعداد میں آنے والے وقت میں مزید کمی واقع ہونے کی بھی اُمید ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ امن معاہدہ افغانستان کے اندر فریقوں کے مابین بھی گفتگو کی راہیں کھولے گا جس کے بعد طاقت کی مساوی تقسیم کا کوئی ڈھانچہ ترتیب دیا جا سکے گا۔ کئی دہائیوں کی کشیدگی کے بعد حالیہ صورتحال نے پالیسی سازوں کے سامنے یہ سوال لاکھڑا کیا ہے کہ دیرپا اور پائیدار امن کی فضا قائم رکھنے کیلئے کیا اقدامات کرنا ضرور ی ہیں۔
اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی سوویت افواج اور مجاہدین کی جنگ اور اس کے بعد سول وار، طالبان راج اور دہشتگردی کیخلاف جنگ نے افغانیوں کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اس کے نتیجے میں تشدد، ہجرت اور اپنے سیاسی اور سماجی معاشرتی نظام کو درہم برہم ہوتے دیکھا۔ دہائیوں جاری رہنے والی جنگ کے بعد ضروری ہے کہ ہم اس کے سیاسی استحکام کو پہنچنے والے نقصان اور اس جذباتی استحصال کے تاوان کو نظرانداز نہ کریں جو اس جنگ کے باعث افغانیوں کو ادا کرنا پڑا ہے۔ تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایسے آلام اور دکھ نسلوں تک کو متاثر کرتے ہیں۔ تحقیقات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ایسے معاشرے یا قومیں ایک اجتماعی دکھ اور تکلیف کا بھی شکار رہتی ہیں۔ تشدد اور ظلم کی اس روایت کو توڑنے کیلئے ضروری ہے کہ افغان حکام 1979سے جاری اس کشیدگی کی جذباتی سطح پر نقصانات کا احساس کرتے ہوئے اس پر مرہم لگانے کا بندوبست کریں۔ اس کیلئے انفرادی سطح پر نفسیاتی تربیت کی سہولیات اور سماجی سطح پر افہام وتفہیم کے اداروں کا قیام وہ راستے ہیں جن کے بارے سوچا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں موجود جنگجوؤں کی بحالی کیلئے اپنایا جانے والا ماڈل بھی افغانستان اپنے جنگجوؤں اور عسکریت پسند افراد کی بحالی اور فنی تربیت کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔طالبان کیساتھ مذاکرات میں چین، روس اور پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کچھ مصنفین کا خیال ہے کہ پاک بھارت کشیدہ تعلقات افغانستان میں امن معاہدے کے بعد کی صورتحال پر خاصے اثرانداز ہوں گے۔ افغانستان کو بھی پاکستان اور بھارت کیساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ افغانستان کیلئے آگے بڑھنے کیلئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ اسی پالیسی پر کاربند ہو جو اس کے سابق بادشاہ محمد ظاہر شاہ نے اپنائی تھی۔افغانستان کی اپنی تاریخ مغربی جمہوریت کا مؤثر متبادل فراہم کرتی ہے مگر یہ متبادل نظام افغانستان میں استحکام لانے میں ناکام رہا ہے جیسا کہ بروس پلبیم نے کہا تھا کہ دنیا میں رائج سیاست اور معیشت کا مغربی نظام دیگر غیرمغربی معاشروں کے رسوم ورواج سے بلکل نابلد اور متضاد ہے۔ افغانستان میں بھی جرگے جیسی سیاسی اور سماجی روایات اور اسلام کا عمل دخل ایک ایسے ادارے کی بنیاد بن سکتا ہے جو اس کی اپنی روایات کا امین ہونے کیساتھ ساتھ بحالی امن کیلئے بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ افغانیوں نے سال2001 میں جمہوریت کا خیرمقدم کیا تھا مگر اس کے بعد کی دو دہائیوں میں تشدد میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ انیس برسوں کے بعد اب امریکہ نے اپنے انخلاء کیلئے انہی طالبان کیساتھ ایک امن معاہدہ طے کیا ہے جن کا اس نے خود دھڑن تختہ کیا تھا اور اب وہ ایسی انتظامیہ کو نظام سونپ کر نکلنا چاہتے ہیں جس کا طالبان ہی حصہ ہوں گے، وہی طالبان جنہیں پچھاڑنے سے ہی افغانستان کی تباہ حالی کا آغاز ہوا تھا۔ اب جبکہ جمہوریت کا مغربی ماڈل افغانستان میں امن کے قیام میں ناکام رہا ہے تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس ضمن میں اسلامی نقطۂ نظر سے ہمارے پاس کون سے متبادل راستے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہم افغانستان میں موجود لسانی گروہوں کی اپنے سماجی اور قانونی روایات سے بھی دیرپا امن کیلئے مدد لے سکتے ہیں۔ ان روایات کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ طالبان کی2001 سے قبل والی استحصالی حکومت واپس آجائے مگر یہاں کئی ایسے ترقی پسند اور کھلے ذہن کے علماء موجود ہیں جن کی آراء سے افغانستان میں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کیلئے استفادہ کیا جا سکتا ہے جو امن وخوشحالی کی ضمانت کیساتھ اس ملک کی روایات، ثقافت اور دینی رجحانات سے کلی طور پر ہم آہنگ ہو۔امریکہ اور طالبان میں پرتشدد واقعات میں کمی کے بعد ہونے والے معاہدے نے ایک امید کی کرن اُجاگر کی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس معاہدے کے بعد دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدگی سے کام کرنا شروع کیا جائے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)