کرونا وائرس،مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت

خیبرپختونخوامیں کرونا وائرس سے ممکنہ بچائو کے اقدامات کے طور پر سکولوں کو پندرہ دن کی تعطیلات دینے اور امتحان ملتوی کرنے کا فیصلہ وقت اور حالات کے تناظر میں ممکنہ حفاظتی اقدامات ہیں۔ کورونا وائرس کی صورتحال پر غور کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی آج ہورہا ہے ۔کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیئے جانے کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی طرح پاکستان میں اور خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پیش بندی وبچائو کے اقدامات میں اب تاخیر کی گنجائش نہیںتھی۔ اس ضمن میں حکومت کے اقدامات بروقت ہیں تاکہ ممکنہ حد تک اس وائرس کے پھیلائو کو روکا جا سکے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ وباء کی روک تھام کیلئے وضع کردہ اقدامات اس کی مکمل روک تھام کیلئے کافی نہیں لیکن بہرحال جتنے ممکنہ اقدامات اُٹھائے جا سکیں وہ بلا تاخیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وائرس کی پاکستان آمد اور محدود تعداد میں لوگوں کا اس میں مبتلا ہونا اب میڈیا کا خواہ مخواہ کا چرچا کرنا نہیں حقیقت ہے جس کی تصدیق خود سرکاری طور پر ہو چکی ہے۔ یہ وائرس اچانک نہیں پھیلتا اور نہ ہی اس کے اثرات اچانک سامنے آتے ہیں دیگر ممالک میں وائرس کے پھیلائو کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلا کیس منظر عام پر آنے کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر اس وائرس کا پھیلائو شدت اختیار کرتا ہے اسلئے اس متوقع خطرے سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اٹلی اور دیگر متاثرہ ممالک کے ڈاکٹرز خبردار کر رہے ہیں کہ وائرس پر خود کو تسلی دینے کی بجائے گھبرانا بہتر ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے تساہل کی ہرگز گنجائش نہیں۔یہ ایک ایسی عالمی وباء ہے جس میں صرف حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کافی نہیں سمجھے جاتے اور صرف حکومتی سطح کے اقدامات سے اس وائرس سے نمٹنا ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے افراد اور فرد کی سطح تک کو احتیاط اور بچائو کا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔جو ممالک اس وائرس سے شدید متاثر ہیں وہاں کے ڈاکٹر اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد باربار اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ وائرس سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ لوگ اپنی عادات میں تبدیلی لائیں اور انفرادی سطح پر جو اقدامات اُٹھائے جا سکتے ہیں اس پر بھی پوری توجہ دی جائے۔ دنیا میں لاک ڈائون کا سلسلہ چل نکلا ہے اس کے اگر ہم اور متحمل نہیں ہوسکتے تو کم از کم جو لوگ نزلہ زکام میں مبتلا ہوں وہ ازخود اور رضاکارانہ طور پر خود کو الگ تھلگ کرلیں۔ ماہرین کے اس مشورے پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں جس میںوہ ہدایت کرتے ہیں کہ ہاتھوں کا دھونا ضروری ہے، ہاتھوں کی اُنگلیوں کو ایک ایک کرکے رگڑ کر دھوئیں اور جوڑ کے اوپر بنی سلوٹوں کو کھینچ کر اچھی طرح صاف کیا جائے چونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ دن میں صرف ایک بار ہاتھ دھوتے ہیں لہٰذا اپنے اردگرد اس بارے آگاہی کو پھیلانا ہماری اصل ذمہ داری ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف سرکاری دفاتر میں بائیو میٹرک پر پابندی نہ لگائے بلکہ نجی اداروں کو بھی اس کا پابند بنائے۔ ہاتھ دھونے کی تلقین ہمارے معاشرے بالخصوص ایسی جگہوں پر کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا جہاں لوگوں کو ملازمت کے اوقات میں شاید پانی اور صابن تک کی بھی رسائی حاصل نہ ہو۔ فیس ماسک سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، عالمی ادارہ صحت اور دیگر آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ انفیکشن کا شکار ہوں یا پھر وائرس کے شکار مریض کا خیال رکھ رہے ہوں تو ہی آپ کا ماسک پہننا ضروری ہے۔ فی الوقت رپورٹ شدہ کیسوں کی تعداد پریشان کن سطح پر تو نہیں ہے اور منظرعام پر آنے والے زیادہ تر نئے مریض وہ ہیں جنہوں نے وائرس کی وبا کے شکار ملکوں کا سفر کیا تھا۔ لیکن اگر ہم اگلے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں جہاں براہِ راست مقامی سطح پر منتقلی کا عمل بڑھ جائے تو پھر ملک کے اندر اس وائرس کی شدید وبائی پھوٹ کا امکان بڑھ جائے گا۔ اس سلسلے میں شعوراُجاگر کرنے کیلئے خدماتِ عامہ کے پیغامات ترتیب دئیے جائیں اور تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو ذرائع میں تقسیم کیے جائیں۔ کورونا وائرس کی پھوٹ سے بچنے کا یہی وقت ہے۔ خطرہ سر پر ہے اس لئے عمل میں دیر یا خود کو جھوٹی تسلی دینا پورے ملک کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔