پاکستان نعمت خداوندی، لیکن۔۔

ہمارے لئے وطن عزیز ایک عظیم نعمت خداوندی ہے، وقت نے ہر لحاظ سے بہرحال یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا قیام ہمارے آباء واجداد کی دوراندیشی اور معجزہ خداوندی ہی ہے۔اس وقت اہل فلسطین،کشمیر، برما کے مسلمانوں کا جو حال ہے اس سے بڑھ کر کہیں ظلم وبربریت کی مثال نہیں ملتی اور ہم پاکستانیوں پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل وکرم ہے کہ یہاں آج تک بھوک سے کوئی نہیں مرا لیکن اس کے باوجود ہمارے نالائقیوں کی انتہا ہے کہ پچھتر سال کے بعد ہمارے ہاں آزادی کے مجاہدین کے بعد کوئی ایسا لیڈر ورہنما پیدا نہ ہوسکا جو پاکستانیوں کی کروڑوں کی آبادی کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کرے۔ ایک ایسی قوم کی کردار سازی کے ذریعے تشکیل کرے جن کی بنیاد اللہ ورسولۖ کی تعلیمات پر ہو اور اُن کے سامنے ملکی وقومی سطح پر ایک واضح اور صاف وشفاف ویژن اور مشن ہو۔ اس میں شک نہیں کہ کوئی جنگ کا موقع ہو یا کوئی ناگہانی آفت وآزمائش ہو تو ہم وقتی طور پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، ہمارے ہاں کے دیندار اور درد مند لوگ آگے آکر ہجوم کی رہنمائی وقیادت بھی کر لیتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ2005ء کا زلزلہ اور 2008ء کا سیلاب وغیرہ میں اسی گئی گزری قوم کا کردار بے مثال تھا لیکن عام حالات میں لوگوں کا ہجوم اور بھیڑ توہر کہیں موجود ہوتی ہے لیکن قوم کے عناصر وصفات مفقود ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ملک آج تک ترقی یافتہ اقوام میں اس کے باوجود شامل نہ ہوسکا کہ ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنی آبادی کو خط غربت سے نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ہماری یکجہتی اور قومی یگانگنت کو جس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم ہے۔یہاں امراء اور غرباء کیلئے الگ الگ نظام تعلیم ہے۔امراء کا نظام حکمران طبقہ پیدا کرتا ہے اور غرباء کا نظام محکوم اور عوام پیدا کرنے کا کام کرتا ہے۔ جاگیردارانہ نظام نے صنعتکار پیدا کئے اور ان سب نے مل کر سرمایہ دارانہ نظام کو ایسی تقویت فراہم کی کہ پاکستان کا نظام سیاست ان کی مرہون منت ہی رہ گیا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو کم ازکم کروڑ پتی ہیں۔ ایک تہائی،مخصوص نشستوں اوراقلیتوں وغیرہ اور اکادکا عام لوگ صرف دکھاوے کیلئے ہی لائے جاتے ہیں یا ایک آدھ جماعت اسلامی جیسی جماعتوں سے فقیرانہ صدا بلند کرنے کیلئے منتخب کر لئے جاتے ہیں اور وہ بھی بعض اوقات سرمایہ داروں کی رو میں بہہ ہی جاتے ہیں۔ اس وقت مہنگائی کے ہاتھوں عوام کی جو حالت بنی ہوئی ہے ا س کے پیش نظر لوگ اس عظیم وطن کے نعمت خداوندی ہونے سے اسی طرح انکار کے قریب ہوگئے ہیں جس طرح حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ ''بعض اوقات فقر (غربت) انسان کو کفر کے قریب لے جاتی ہے''۔اور یہ سب ہمارے ان امیر ترین لیڈروں کے طفیل ہے یہ قرآن کریم کے الفاظ میں وہ معترضین ہیں جن کی خرمستیوں کے سبب پوری قوم آزمائش اور بلائوں میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی برادشت کرنے کی بات ہے کہ تین برسوں میں ہمیں ایسی ٹیم میسر نہ آسکی جو پاکستان کی معیشت کو صحیح خطوط پر ڈال سکے۔
لیڈر ایسے ہوتے ہیں جیسے چین، امریکہ، جاپان، جرمنی، کوریا اور فرانس میں ہیں۔ جوبائیڈن نے آئندہ آٹھ سالوں کا منصوبہ دیدیا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی ملک کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے۔ پوری امریکی نوکر شاہی اپنے صدر کے فرمان کے مطابق عمل درآمد کیلئے ''یس سر'' کی مجسمہ بنی ہوئی ہے ۔ہمارے ہاں غضب خدا کا کہ بیوروکریسی بھی سیاسی جماعتوں کیساتھ منسلک ہو کر تقسیم درتقسیم کا شکار ہے اور اپنے مخالف سیاسی جماعت کی حکومت کو ناکام بنانے کیلئے ہر جائز وناجائز اقدام اُٹھانے پر تلی ہوئی ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی بالخصوص مہنگائی کو قابو نہ کرنے میں اُن کی اپنی کوتاہیوں اور نالائقیوں کے علاوہ پاکستان کی شتر بے مہار نوکر شاہی کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ نالائق ونااہل حکمرانوں، ناقص نظام تعلیم اور منقسم میڈیا نے ہمارے خوبصورت ملک کو عوام کیلئے رحمتوں کی بجائے زحمتوں سے بھر دیا ہے، رمضان المبارک کا خوبصورت مہینہ رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا پیغام لئے ہمارے سروں پر جلوہ فگن ہونے کو بے تاب ہے، لیکن عوام کو یہ غم ستائے جارہی ہے کہ آٹا، چینی اور دال ٹماٹر کیسے دستیاب ہوں گے۔ اربوں روپے کی سبسڈی لئے ہوئے چند سو یوٹیلیٹی سٹورز کتنے غرباء کو ارزاں نرخوں پر آٹا چینی فراہم کریں گے جبکہ ان سٹوروں کا مافیا غریبوں کیلئے آئی اشیاء کو دکانداروں کے ہاتھوں فروخت کروا کر نفع خوری الگ سے پریشانی کا باعث ہے۔ بجلی،گیس اوردیگر سماجی ومعاشرتی مشکلات نے اُس ملک کو جو نعمت خداوندی ہے عوام کیلئے شکر ادا کرنے کے مواقع سے محروم کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے غیبی امداد کی دعا ہے۔