سستا بازاروں کے بقایاجات ادا کئے جائیں

حکمہ بلدیا ت خیبر پختونخوا کوصوبہ بھر میں قائم کئے گئے 16انصاف سستا بازاروں کیلئے وعدے کے مطابق مختص کی جانیوالی رقم کی عدم فراہمی کے بعد سستا بازارمزید چلانا مشکل ہو جائے گا ابھی تک گزشتہ سال بننے والے بازاروں کے مد میں ملنے والی رقم کی ادائیگی نہ ہوسکی ہے ایسے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں حکومت کے اعلان کردہ سستا بازاروں کا انعقاد کیسے ممکن ہوگا واضح رہے کہ گزشتہ سال قائم ہونے والے سولہ سستا بازاروں کیلئے ہر ایک بازار کے قیام کیلئے 3لاکھ روپے جبکہ ماہانہ بازار چلانے کیلئے 5لاکھ روپے جاری کئے جانے تھے تاہم اب تک یہ فنڈز جاری نہیں کئے جا سکے انصاف سستابازاروں میں 4بازار پشاور، دو دو مردان، ایبٹ آباد، سوات، کوہاٹ، ڈی آئی خان اور بنوں میں قائم کئے گئے ہیں ۔ اس بارے کوئی شبہ نہیں کہ انصاف سستا بازار عوام کو ریلیف دینے کا ایک ذریعہ ہیں قائم شدہ چند سستا بازار ناکافی اور کم ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے گائوں اور قصبے میں سستا بازار اور شہری علاقوں میں جگہ جگہ سستا بازار قائم کر کے عوام کو رعایتی نرخوں پر اشیائے خوردنی واشیائے صرف کی بہم رسانی یقینی بنائی جائے ایسا تبھی ممکن ہوگا جب بازاروں کے قیام اور ان کو جاری رکھنے کیلئے حکومت وسائل وسہولیات کا بندوبست کرے گی۔
ذرائع ابلاغ کا خوف کیوں؟
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخو اکے ترجمان کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں گزشتہ روز کورونا مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی منقطع ہونے کے واقعے کی مکمل انکوائری کر کے معاملے سے متعلق حقائق منظر عام پر لانے کا مطالبہ محکمہ صحت کے حکام کیلئے توجہ طلب مسئلہ ہی نہیں عوام کے جذبات کی ترجمانی بھی ہے۔انہوں نے پریس کانفرنس میں جن دیگر امور کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے وہ بھی مستقل حل کے متقاضی مسائل ہیں۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حوالے سے بڑھتی شکایات اور نااہلی وبدانتظامی چھپانے کی ضرورت کا جادو اب ایسا سر چڑھ بولنے لگا ہے بجائے اس کے کہ اصلاح احوال پر توجہ دے کر کارکردگی اور استعداد کا مطاہرہ کیا جاتا اپنے کرتوتوں کو باہر آنے سے روکنے کیلئے ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کردی گئی ایک جانب حکومت رائٹ ٹو انفارمیشن کے ذریعے سرکاری امور سے عوام کو باخبر رکھنے اور رہنے کا حق تسلیم کرتی ہے اور دوسری جانب تھانوں سے لیکر ہسپتالوں تک میڈیا اور خاص طور پر کیمرہ سے خوف طاری ہے اوراس پر پابندی وممانعت کردی گئی ہے تھانوں اور ہسپتالوں کے واقعات ومسائل بد انتظامی وتشدد کی روک تھام نہ ہو تو کسی نہ کسی ذریعے سے ذرائع ابلاغ تک خبریں آہی جائیں گی مگر مستند ذرائع ابلاغ کا راستہ روکا گیا تو غیر مستند اور پراپیگنڈہ پر عوام یقین کرنے لگیں گے۔ ارباب اختیار اس پر غور کریں اور مناسب اقدامات کئے جائیں ایسا نہ ہو کہ پابندی کے باعث سچ ناپید ہو اور جھوٹ کا چرچا ہو۔
علمائے کرام کا احسن اقدام
خیبرپختونخوا کے علماء کرام کا ماہ رمضان میں مساجد اور امام بارگاہوں میں فرض نماز اور نماز تراویح کی ادائیگی کے لئے حکومت کی جانب سے طے کردہ احتیاطی تدابیر پر من و عن عملدرآمد کرنے اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون اور ممبر ومحراب سے اس وبا سے بچا ئوکیلئے عوام کو آگہی فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی نبھانے کا یقین دلایا ہے۔علماء نے کہا ہے کہ ماہ رمضان میں تمام مساجد اورامام بارگاہوں کو کھلا رکھاجائے اور عوام کونمازتراویح کی ادائیگی اور اعتکاف میں بیٹھنے کی بھی اجازت دی جائے۔ملک بھر کے جید علمائے کرام نے کورونا وباء کی پہلی لہر کی آمد کے موقع پر اجتہاد کرتے ہوئے عبادات کی ادائیگی اور مساجد میں صفوں میں مناسب فاصلہ اور معمر نمازیوں کو گھروں پر نماز کی اجازت وممکنہ علامات کی صورت میں مساجد آنے سے گریز کی تاکید ہی نہیں کی تھی بلکہ عملی طور پر اس کی پابندی کرا کے جس تعاون کا مظاہرہ کیا تھا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں دوسری جانب دیکھا جائے اور بعض معترضین کا یہ اعتراض بلاوجہ نہیں کہ حکومت مدارس ومساجد اور امام بارگاہوں میں تو پابندیوںپر زور دیتی ہے علاوہ ازیں اس درجے کا احتیاط کہیں نظر نہیں آتا بہرحال اس جملہ معترضہ کے باوجود اس امر پر بطور خاص توجہ کی ضرورت ہے کہ عبادات کی ادائیگی احتیاط کے تقاضوں کے ساتھ ہونی چاہئے اس ضمن میں علماء کا کردار قابل تقلید ہے دوسرے شعبوں میں بھی ایسا ہی طرز عمل اختیار کیا جائے۔
صوبائی وزیر تعلیم کا واضح پیغام
خیبر پختونخوا حکومت کارواں برس بچوں کو بغیر امتحان اگلی جماعتوں میں ترقی نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مرحلہ وار امتحانات لینے کی حکمت عملی طلبہ کو تعلیم سے جڑے رکھنے اور محنتی طالب علموں کے حق میں بہتر فیصلہ ہے۔گزشتہ سال ہنگامی حالات اور عدم تیاری کے باعث طلبہ کو ایک خاص فارمولے پر نمبر دینے کے عمل کا اعادہ کسی طور مناسب نہیں اس سال بہر صورت امتحانات کے بعد ہی اہلیت اور پرچہ حل کرنے کا عمل یقینی بنایا جائے صوبائی وزیرتعلیم کے واضح اعلان کے بعد اس حوالے سے کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ان کا طلبہ کیلئے پیغام واضح ہے کہ پرچہ دینا طے ہے اس لئے بہتر سے بہتر تیاری کر کے امتحان میں شرکت کی جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے منتظمین بھی اس حوالے سے اپنے طلبہ کو تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔صوبائی حکومت کو ثانوی واعلیٰ ثانوی جماعتوں کے طلبہ کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ حاضری کا فیصلہ کر لینا چاہئے تاکہ ان کی تعلیم کا مزید حرج نہ ہو۔