بھارت کے ساتھ تجارت کے کئی پہلو ہیں

حکومت پاکستان اور اس کے ادارے یقینا ایک نئے راستے کی تلاش میں ہیں کہ ملک کس راستے پر چلے جس سے اس کے اقتصادی مسائل بھی حل ہوں، امن بھی ہو اور ساتھ میں ملکی سا لمیت بھی برقرار رہے۔
اس راستے کے بارے میں بڑی کھل کر بات ہو رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں اس پر بات ہوئی اور وزیر اعظم نے سری لنکا میں بھی بات کی۔
جو سب کا پیغام تھا چاہے نیشنل سکیورٹی ڈویژن کی طرف سے بھی جو بات چیت رہی اور جو اجلاس ہوتے رہے ہیں جن میں پاکستان کے مختلف وزرا جیسے کہ عبدالرزاق دائود، حفیظ شیخ اور حماد اظہر آئے جن کا تعلق چاہے اقتصادیات سے ہے، چاہے انڈسٹریز سے ہے سب نے بڑی صاف بات یہ کی کہ اب ہمیں جیو اکنامکس کی طرف بڑھنا ہے۔
جو پرانے مسائل ہیں ان کو نئے طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی سوال اور یہی معمہ ہے جس کو یہ حکومت اور اس کے تمام ادارے حل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پالیسی لے کر کچھ پنگ پانگ کا سا سماں لگا کہ ایک وقت ایک فیصلہ ہوا پھر فیصلہ بدل دیا گیا۔
اسی سیاق و سبق میں ہمیں دیکھنا ہوگا۔ اس فیصلے کی شروعات ای سی سی کے اجلاس سے ہوئی۔ اس میٹنگ میں چینی اور کاٹن کی بھارت سے درآمد کی بات ہوئی۔
یہ بات تبھی ممکن ہوئی جب دونوں وزرا حماد اظہر اور رزاق دائود نے یہ بات وزیر اعظم سے کی۔ وزیر اعظم نے ان کو کہا یقینا آپ اس سلسلے کو شروع کریں اور ای سی سی میں لے کر جائیں۔ انہوں نے سمری ارسال کی جس پر وزیر اعظم نے دستخط کر دیے۔
یقینی طور پر جب اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے اس طرح کی کسی پالیسی پر آگے بڑھنا ہوتا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلا پالیسی پلیٹ فارم وہ ای سی سی ہی ہے جہاں ان پر بات ہوتی ہے۔
لیکن ای سی سی میں بحث ہونے کے علاوہ بھارت کے ساتھ تعلقات معاشی ہی نہیں سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی مسئلہ بھی ہے۔
بھارت کی جانب سے پانچ اگست، 2019 کے بعد ان پہلو کی اہمیت بڑھی ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کی انتہا کر دی اور آرٹیکل 370 ختم کرکے ان کی خصوصی حیثیت جس میں ان کو کسی حد تک خود مختاری میسر تھی واپس لے لی۔
ان کی ریاست بھی ختم کر دی۔ اب تو وہ اس طرز کا حل بھی لے کر آ رہے ہیں کہ جس طرح اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کی۔
جب آپ بھارت کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ کریں تو یہ پس منظر مدنظر ظاہر ہے رکھنا ہوتا ہے۔ جب اس حکومت میں پہلی مرتبہ بھارت کے ساتھ تجارت کا سوال اٹھا ہے کہ اسے آگے بڑھایا جانا بھی چاہیے یا نہیں تو یقینا اس پر بات ہوئی ہوگی۔
جیسے کہ دونوں وزرا کا کہنا تھا اور یکم اپریل کو کابینہ میں جب بات ہوئی تو دونوں وزرا نے یہ کہا کہ جب ہم نے اس سوال کو وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا تو انہوں نے اسے ای سی سی میں اٹھانے کی درست بات کی۔ اس بات کو اٹھائیں پھر اس کو آگے لے کر چلتے ہیں۔
ای سی سی میں سب نے یہ منظور کیا کہ بھارت سے سستی چینی اور کاٹن درآمد کرنا اقتصادی طور پر درست فیصلہ ہے۔ وہاں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ فیصلہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جس کو آگے جا کر دیکھنا پڑے گا۔ ہوا یہی۔
جب یہ بات کابینہ میں آئی تو اس وقت وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ یہ فیصلہ کیسے ہو گیا اور اس کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح آگے لے کر چلیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بڑی تفصیلی بات کی اور سیاق و سباق کو بڑا کھل کر بیان کیا۔
ان کا اصرار تھا کہ بھارت کی جو کشمیریوں کے ساتھ صورت حال ہے اور پاکستان کے ساتھ جو تجربہ رہا ہے اگر ان تمام پہلوئوں کو دیکھا جائے تو یہ تجارت کا مناسب وقت نہیں ہے۔ ان کی بات کی پھر ڈاکٹر شیریں مزاری اور شیخ رشید نے بھی حمایت کی۔
وزیراعظم نے دوسرے دن ایک چھوٹی پالیسی میٹنگ بلائی اور اس میں پھر اس سوال کو اٹھایا۔ اس اجلاس میں شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، عبدالرزاق داد، ڈاکٹر شیریں مزاری اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف بھی موجود تھے۔
وہاں یہ فیصلہ ہوا کہ اس تجارت کو شروع کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ اجلاس کے بعض شرکا نے کہا کہ ہمیں حتمی بات کرنی ہوگی کہ ہم بھارت سے تجارت نہیں کرنا چاہتے لہذا یہ فیصلہ سامنے آگیا۔
ای سی سی نے ایک فیصلہ کیا اس کے بعد حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ تجارت نہیں کرنی۔ اس سے دو پہلو سامنے آئے کہ اس وقت ہندوستان کے حوالے سے جو پالیسی ہے اس کو تین زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے جس میں مختلف وزارتیں اور ادارے شامل ہیں۔
ایک طرف تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ نیشنل سکیورٹی ڈویژن جس کو ڈاکٹر معید یوسف ہیڈ کرتے ہیں وہاں اس پر بڑی تفصیل سے بات چیت ہو رہی ہے کہ جیو اکنامکس اور نیشنل سکیورٹی کو کس طرح آگے بڑھانا ہے۔ اس میں سکیورٹی ادارے جو سٹیک ہولڈرز ہیں وہ بھی اس پر بات کر رہے ہیں۔
ایک زاویئے سے وزارت خارجہ دیکھ رہا ہے اور تیسرا ایک بیک چینل چل رہا ہے جہاں سے ان فیصلوں میں سفارشات آتی ہیں۔
پہلے اعلان ہوا کہ تجارت کریں گے پھر ہوا نہیں کریں گے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مربوط طریقے سے یہ فیصلہ سامنے نہیں لایا گیا۔ تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بھارت سے تعلقات کی پالیسی پر اداروں میں آپس میں زیادہ ربط ہونا چاہیے۔
ایک بات تو حتمی طور پر سامنے آگئی کہ جو بات ہم سن رہے ہیں کتنے دنوں سے کہ جیو اکنامکس ہی اہم ہے تو تجارت کے معاملے پر حکومت کی پوزیشن واضح ہوگئی ہے۔
جیو اکنامکس کسی خلا میں نہیں ہوسکتی جیو اکنامکس کے لیے جیو پالیٹکس اور جیو سٹریٹجی کو لے کر ہی پالیسی بننی ہے۔ بھارت کے ساتھ سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ (بشکریہ انڈیپنڈنٹ)