یہ2021ہے!

جی ہاں ہم سب کو پتا ہے کہ کون سا سال چل رہا ہے، لیکن عمران خان صاحب کا تازہ ترین خطاب اور عوام سے تبادلہ خیالات سن کر ایک دفعہ رک کر سوچنا پڑا کہ کیا یہ 2021 ہی ہے؟ کیونکہ گفتگو تو ساری 2018 کی ہو رہی تھی۔ اگر کورونا کا ذکر نہ ہوتا تو شاید کابینہ کے ساتھ بیٹھے ممبران بھی اپنے آپ کو ماضی ہی میں محسوس کرتے۔
2018 مگر ماضی بعید ہے۔ اڑھائی سال یعنی حکومت کا آدھا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس اڑھائی سال کے رپورٹ کارڈ پر اگر نظر ڈالی جائے تو صورت حال ہرگز حوصلہ افزا نظر نہیں آتی ورنہ اگلے اڑھائی سال کا روڈ میپ کم از کم پچھلے وعدوں سے مختلف ہوتا۔
پی ٹی آئی حکومت کے تبدیلی کے عملی وعدے تین شعبوں کا احاطہ کرتے تھے، معیشت، احتساب اور گورننس ریفارمز۔دوست ممالک سے بات ہو رہی ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے معیشت پر گفتگو اعدادو شمار کا گورگھ دھندہ بن جاتا ہے۔ اس لیے سہل راستہ یہ ہے کہ اس کا براہ راست اندازہ عوام کے معیار زندگی اور اعتماد سے لگایا جائے۔
ہر خاص و عام کے لبوں پر تین ہی الفاظ ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور عدم استحکام۔ ایسے لگتا ہے ایک چیز سیدھی ہوتی ہے تو دو خراب ہو جاتی ہیں۔ باقی رہی سہی کسر ہر سال نئے وزیر خزانہ اور نئی ٹیم کی آمد سے پوری ہو جاتی ہے۔ اور تازہ ترین وزیر خزانہ تو بے چارے مہینوں کے نہیں ہفتوں کے مہمان لگ رہے ہیں۔
احتساب پی ٹی آئی کا دوسرا اہم ٹارگٹ ہے اور سب سے زیادہ شور بھی اسی کا ہے۔ عوام کے لیے تو احتساب میوزیکل چیئر بن کر رہ گیا ہے۔ ایک اپوزیشن لیڈر جیل میں جاتا ہے، دوسرا باہر آتا ہے اور اس سے فرق بھی پڑتا نظر نہیں آتا۔ ابھی تک اڑھائی سال میں ایک نمایاں سزا بھی نہیں ہوئی۔ باقی لندن رہنے اور آنے جانے والوں کی خبروں سے سیاست میں ہلچل ضرور رہتی ہے۔اب پیپلز پارٹی کو ریلیف ملنے کی بھی خبریں گرم ہیں۔ اگر ان میں صداقت ہے تو پھر احتساب پر اعتماد کون کرے گا؟ نئے نئے مافیا یعنی چینی، تیل، اور گندم والے بھی دریافت ہوئے ہیں مگر اشیا کی قیمتیں بدستور اوپر جا رہی ہیں اور بیوروکریسی بدستور اس کو کام نہ کرنے کے حیلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
تیسرا ہدف یعنی گورننس وہ شعبہ جس کا اب ذکر اشاروں کنایوں میں ہی ہوتا ہے۔ کبھی توجہ موبائل ایپ اور ہاٹ لائن پر ہوتی ہے اور کبھی الزام کام نہ کرنے والے سرکاری افسروں پر لگتا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ گورننس ریفارمز تو سنجیدہ ایجنڈے سے ہی نکل چکی ہیں اور اگلے اڑھائی سال میڈیا سٹریٹجی سے ہی گورننس کا حل نکلنا ہے۔ وہ جماعت جس نے خیبر پختونخوا سے پولیس اور انتظامیہ میں اصلاحات سے اپنے آپ کو منوایا اب لاہور کے کوڑا کرکٹ پر تنقید سن رہی ہے۔ اڑھائی سال بعد ابھی تک جنوبی پنجاب سیکیریٹیریٹ کے معاملے پر کنفیوژن ہے۔ نئی کمیٹیاں بن رہی ہیں جبکہ پولیس اور پٹوار کا نظام جوں کا توں ہے۔
مزید چھے ماہ کی بات ہے اور نئے الیکشن کا کانٹ ڈان شروع ہو جائے گا۔ پھر پالیسیاں اور اخراجات الیکشن کے حساب سے ہوں گے۔
اصلاحات کا وقت اور موقع مزید سکڑتا چلا جائے گا۔ سیاسی دبائو جو اب کم ترین سطح پر ہے دوبارہ بڑھے گا۔ لوگ اپوزیشن کے بارے میں کم اور حکومت کے بارے میں زیادہ گفتگو کریں گے۔2018کی تقریر شاید عوام سن تو لیں مگر کب تک؟
اس لیے عوام اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیسے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو احساس دلائیں کہ یہ 2021ہے۔