قرضوں کا بوجھ

پیرس کلب عالمی سطح پر بڑے قرض دہندگان ممالک کے عہدیداروں کا ایک گروپ ہے ' اس کی تشکیل 1956ء میں ہوئی تھی' اسی طرز پر 1970ء کو لندن کلب کی بھی تشکیل عمل میں لائی گئی ' یہ کلب غریب اور پسماندہ مالک کو قرض فراہم کرتے ہیں' پیرس کلب نے پاکستان سمیت سو سے زائد ممالک کو قرض فراہم کیے ہیں۔ پیرس کلب کی جانب سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو قرض فراہم کرنے کی شرائط کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک باہمی اشتراک سے غریب ممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں' پیرس کلب کے چارٹر میں صاف لکھا ہے کہ مقروض ممالک کو قرض کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے گی اور اگر متعلقہ ملک قرض ادا کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو یا قرض کی ادائیگی کے لیے اسے مزید قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہو تو اس سے قرض وصول نہیں کیا جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی تشکیل 1940کو عمل میں لائی گئی، تاہم 1945میں فنگشنل ہو گیا، اسی طرح جی ٹوئنٹی ممالک اور ورلڈ بینک کی طرف سے پسماندہ ممالک کو قرض کی فراہمی کے لیے شرائط کا جائزہ لیا جائے تو وہ کم و بیش پیرس کلب کی شرائط جیسی ہیں جن کا لب لباب پسماندہ ممالک کی مشکلات کا خاتمہ اور ان ممالک کے ساتھ ہمدردی ہے' تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں' عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کو قرض فراہم کرنے والے گروپوں کی اصلیت یہ ہے کہ اگر ایک بار پسماندہ ممالک میں سے کوئی ان کے چنگل میں پھنس گیا تو پھر اس کے لیے اس چنگل سے نکلنا آسان نہیں ہوتا' کیونکہ سود در سود ادائیگیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتاہے کہ اصل رقم کے ساتھ کئی گنا سود اداکرنے کے باوجود ترقی پذیر ممالک ان گروپوں کے مقروض ہی ٹھہرتے ہیں، یہ ہندو بنیے کی طرز کا ماڈرن اور جدید دھند ہے جو ترقی یافتہ ممالک کی سرپرستی میں عالمی سطح پر پھیل چکا ہے ۔ دوسری طرف افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں ارباب حل و عقد نے تقریباً ہر دور حکومت میں قرض کے حصول کے وقت اس امر کاخیال نہیں کیا کہ ہماری نسلوںکو کئی گنا سود ادا کرنا پڑے گا۔
عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق اس وقت پاکستان پر مجموعی واجب الادا بیرونی قرضوں کا حجم 90ارب 12کروڑ 40لاکھ ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میںلگ بھگ 13800ارب روپے بنتا ہے ' یہ وہ حجم ہے جو بقول وزیر اعظم عمران خان کے کہ ''ہم نے اڑھائی سالوں میں 35 ہزار ارب روپے کی خطیر رقم کی واپسی یقینی نہ بنائی جاتی توان قرضوں کا حجم کیا ہوتا اور پاکستان کی معیشت کی صورت حال کیا ہوتی' اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے' اس لیے بیرونی قرضوں کی بڑے پیمانے پر واپسی یقینی بنانا، بہرصورت تحریک انصاف کی حکومت کا اہم اقدام ہے' تاہم اس کے باوجود جس بڑے پیمانے پر بیرونی ممالک سے تحریک انصاف کے دور حکومت میں قرض حاصل کیا گیا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ گذشتہ اڑھائی سالوں میں 15ہزار 100ارب روپے کا بیرونی قرض حاصل کیا گیا ہے۔ اگر ماضی کی تین حکومتوں کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو مشرف کے 9سالہ دور میںبیرونی قرضوں میں 3ہزار 200ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے' پیپلز پارٹی کے5سالہ دور میںبیرونی قرضوں میں 8ہزار200ا رب روپے کا اضافہ ' جب کہ مسلم لیگ ن کے دور میں قرضوں میں 15ہزار 561ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ تحریک انصاف کے دور میں قرض کی شرح ماضی کی حکومتوں میں سب سے زیادہ ہے' اور جب ان کی پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہو گی تب تک بیرونی قرضوں میں کس حد تک اضافہ ہو چکا ہو گا اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان پر پیرس کلب کے ممالک کا واجب الادا قرضہ 11547ارب 54کروڑ 70لاکھ ڈالر ' نا ن پیرس کلب ممالک کا قرضہ 21873ارب 87کروڑ 30لاکھ ڈالر ' آئی ایم ایف ' چین اور متحدہ عرب امارات کا قرض شامل ہے' جن میں سے رواں مالی سال پاکستان نے تقریباً 21ارب ڈالر کی واپسی کرنی ہے۔ معاشی صورت حال کتنی خراب کیوں نہ ہو ' اندرونی و بیرونی قرض کے حصول کا ایک طریقہ کار طے ہے ' جس کے تحت جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ قرض حاصل نہیں کیا جاسکتا' تاہم پاکستان کا اس وقت مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 92.92فیصد ہو چکا ہے' آئندہ مالی سالوں کے دوران اگرچہ اس شرح میں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے لیکن یہ درست ہے کہ ہماری آمدن کا زیادہ حصہ بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ ارباب اختیار نے اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم مزید بحرانوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جائیں گے۔