غربت کا خاتمہ، چین سے سبق سیکھیں

چین نے اپنے ایک کروڑ باشندوں کو شدید ترین غربت سے باہر نکال کر اس دور کا ایک بڑا کرشمہ سر انجام دیا ہے ۔ چینی صدر شی جی پنگ کے سال 2012میں اپنا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی غربت کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ چین نے جس طور غربت کو شکست دی، وہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لیے کسی مثال سے کم نہیں۔ چین کے اس تاریخ ساز کارنامے سے سیکھنا، بلا شبہ پاکستان کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوسکتاہے۔ اگرچہ کچھ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے اپنے ہاں خط غربت نہایت کم آمدنی پر کھینچا ہے اور وہاں دیہاتی علاقوں میں شدید ترین کسم پرسی ہی کو غربت تصور کیا جاتا ہے۔ مزید بر آں کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ ترقی پائیدار اور دیر پا ثابت نہیں ہو سکے گی۔ میرے نزدیک یہ تمام بحث تکنیکی اور علمی نوعیت کی ہے البتہ ہمیں اس بات ہر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ چین نے کیا نظام اور حکمت عملی اپنا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ چین نے غربت کے خاتمے کے لیے جو حکمت علمی اپنائی اس میں پسے ہوئے طبقات کو ہی خصوصی ہدف بنانا اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔چینی حکومت نے خط غربت سے نیچے رہنے والے خاندانوں کے درست اندازے اور متعلقہ اہم معلومات کے حصول کے لیے تیس لاکھ سرکاری اہلکاروںاور کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں پر مشتمل 255,000 ٹیموں کو چین کی 832پسماندہ کاونٹیوں اور دیہات میں بھیجا ۔ ان اہلکاروں نے ملک میں موجود ہر غریب فردکا ریکارڈ مرتب کیا ۔ غریب افراد کو چار پیمانوں پر پرکھا گیا جن میں خاندان کی مجموعی آمدن، رہائش کے حالات،طبی سہولیات اور تعلیمی پس منظر شامل تھے۔ اس طرح بیشمار ہنر مند افراد کو ان کے اپنے اپنے علاقوں میں ہی مناسب ملازمتیں فراہم کر کے ان کی بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان میں کمی لائی گئی تھی۔ نتیجتاً ان اقدامات کے بعد یہی پسماندہ علاقے زراعت، فوڈ پرسسنگ اور کاشتکاری کے شعبوں میں تقریباً تیس لاکھ کی افرادی قوت فراہم کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔ بے گھر افراد کو چھت دینے کے لیے چین نے نو کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کے لیے دو کروڑ چھیاسٹھ لاکھ نئے گھر تعمیر کیے جن میں بجلی، گیس اور انٹرنیٹ کی دستیابی کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ چین نے اس سب میں ماحولیاتی کنٹرول پالیسی کا خوب پالن کیا اور تمام منصوبوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے۔ دور افتادہ اور پسماندہ کاونٹیوں میں بھی زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے شمسی توانائی کا استعمال عام کیا گیا اور اس سے نا صرف ایک کروڑ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصان سے بھی تحفظ حاصل ہوا۔ انٹرنیٹ کی فراہمی اور ای کامرس سے متعلقہ خدمات نے عام غریب کاوئنٹیوں کی عالمی منڈی تک رسائی کو ممکن بنا ڈالا۔ چین نے غربت کے خاتمے کے لیے جتنے بھی پروگرام ترتیب دیے، ان میں نہایت لچکدار حکمت عملی کے ساتھ ساتھ گاہے گاہے تبدیلیا ں لاتا رہا اور اس سے سماجی و معاشی حالات میں واضح بہتری آنے لگی۔ چین نے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے آٹھ سو ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور اب وہ دوبارہ اس غربت کے گڑھے میں گرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی چین کی کارکردگی نمایاں رہی۔ ملک بھر میں ایک لاکھ اسکولوں کے قیام اور اپ گریڈیشن سے ان اداروں میں پڑھنے والے طالبعلموں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس اقدام سے وہ دو لاکھ طالبعلم جو غربت یا اسکول کی دستیابی نہ ہو کے سبب تعلیم کا سلسلہ چھور چکے تھے، دوبارہ اسکولوں میں پڑھنے لگے۔اس کے علاوہ غریب خاندانوں سے وابستہ تقریباً اسی لاکھ افراد کو مفت ووکیشنل تربیت دے کر انہیں روزگار کمانے کے قابل بنا دیا گیا۔ صحت کے معاملے میں بھی ملک بھر کی تقریباً نناوے فیصد قصبوں میں طبی امداداور میڈیکل انشورنس کی سہولت فراہم کی گئی جو کے کل علاج کے اسی فیصد خرچے کو سرکاری خزانے سے پورے کرتی تھی۔ بہتر اور معیاری خوراک کے سبب چینی باشندوں کی اوسط عمر1949میں پینتیس برس سے 2020 میں ستر برس بڑھ چکی ہے ۔ وہاں ایسے اداروں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جنہوںنے چینی کسانوں کو جدید سطور پر کاشتکاری کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی اور ان کا بڑی کھپت والی منڈیوں تک رسائی بھی ممکن بنائی۔ ایسے ادارے پاکستان کے لیے بھی خاصے کار گر ثابت ہو سکتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے زراعت کے شعبے کو جدید سطورپر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سب کے بعد سوشل پروٹیکشن بھی ایک ایساعنصر تھا جس نے چین کے دیہی علاقوں سے غربت کے خاتمے میں خاصا کام کیا۔ دیہی علاقوں میں ہیلتھ انشورنس اور پینشن کے نظام نے بھی چین کے قصبوں اور دیہاتوں میں غربت کے خاتمے اور شہری سہولیات کے فرق کو کم کرنے میں خوب کردار ادا کیا۔ پاکستان کو غربت کے گھمبیر اور پیچیدہ مسئلے کا عرصے دراز سے سامنا ہے اور اس کے حل کے لیے ہم اگرچین کی مثال سے سبق سیکھیں تو اس مسئلے کے حل میں خوب مدد مل سکتے ہے۔
(بشکریہ پاکستان آبزرور، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)