قرض کا حجم اور آئی ایم ایف کو یقین دہانی

پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنے کیلئے یقین دہانی بغیر چارہ کار نہ تھا لیکن اس یقین دہانی کو عملی صورت دینے کیلئے جو اقدامات کئے جائیں گے اس سے عوام کی کمر دوہری ہو جائے گی۔اس کی ایک جھلک اسی میں نظر آتی ہے کہ 13سے 1400ارب روپے کے مزید ٹیکس لگیں گے یاموجودہ ٹیکسوں کی شرح بڑھائی جائے گی رواں سال ٹیکس وصولیاں 4600ارب تک رہیں گی، رواں مالی سال کے3ماہ میں بجلی کی قیمت میں4روپے97پیسے اضافہ ہوگا جب کہ پیٹرولیم لیوی کی مدمیں وصولیاں450ارب کی جگہ 511ارب روپے سے زیادہ ہوں گی، اگلے سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں 600ارب روپے سے زیادہ وصولی کی جائے گی۔پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ مزید 3 فیصد بڑھایا جائے گا، کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور تعلیم سے متعلق اشیا پرٹیکس استثنی ختم کردیاجائیگا۔دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں پاکستانی قرضوں کا حجم اس کی جی ڈی پی کے زیادہ سے زیادہ ساٹھ فیصد کی بجائے نوے فیصد سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے یہی صورتحال رہی تو ملک کی مجموعی قومی پیداواروآمدن صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوگی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں وپنشن کی ادائیگی اور صحت وتعلیم کیلئے ہی بمشکل رقم بچ پائے گی ترقیاتی کاموں کیلئے رقم دستیاب نہ ہوگی لیکن اس کے باوجود حکومت سیاسی طور پر ترقیاتی فنڈز دینے پر مجبور ہے انتخابی سال اور اراکین اسمبلی کے فنڈز کے تقاضوں کو پورا کرنا حکومت کی مجبوری ہے معاشی ماہرین کے مطابق خدشہ ہے کہ ملکی تاریخ میں موجودہ حکومت اپنے دور میں دوسری مرتبہ قرض کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کر سکتی ہے ایسا ہوا تو یہ ملک کیلئے خطرناک ہوگا اور ملک کو قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ برداشت کرنا پڑے گا حکومت کو اس امر کا فیصلہ اگر کرنے کی نوبت آئے تو سیاسی ضرورتوں کو ملکی مفاد پر مقدم نہ رکھا جائے اور اتنا قرضہ نہ لیا جائے کہ اس کی ادائیگی میں مجموعی قومی پیداوار وآمدن کے مساوی رقم کی ادائیگی کرنی پڑے۔
کورونا کے بڑھتے واقعات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے زیر صدارت کورونا وباء سے متعلق اہم اجلاس میں بعض اضلاع میں کورونا کیسز کی بڑھتی ہو ئی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس وباء کے مزید پھیلاؤ کو کم سے کم کیا جا سکے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کورونا کی حالیہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کورونا ایس او پیز اور دیگر حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور خصوصاً فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔ اُنہوںنے کہاکہ موجودہ مشکل صورتحال سے نمٹنے اور کورونا کے مزید پھیلاؤٔ کو روکنے کیلئے عوام کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جن اضلاع میں کورونا کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے وہاںایس او پیز اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میںماسک کے بغیر بازاروں میں گھومنے پھرنے پر دفعہ144کے تحت پابندی عائد ہوچکی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی صورتحال نظر نہیں آتی ضرورت اس امر کی ہے کہ اس احسن اقدام پر عملدرآمد میں کوئی رو رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ پابندی صرف بازاروںہی میں نہیں جہاں تک ممکن ہو ہر جگہ اس کی پابندی کروائی جائے، خاص طور پر بی آرٹی سٹیشنز اور بس سٹاپس پر خصوصی اقدامات کر کے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ صورتحال کے حوالے سے حکومتی اور ذرائع ابلاغ میں جو اندازے لگائے جارہے ہیں حقیقی صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کورونا سے شاید ہی کوئی محلہ اور گھر محفوظ ہو چونکہ ٹیسٹ کا سو فیصد نظام نہیں اور نہ ہی لوگ اور میڈیکل کا عملہ ٹیسٹ کرانے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی ہرمریض کا ٹیسٹ ممکن ہے اسلئے کورونا کے مریضوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہوتا اور لوگ بیمار وتندرست ہو جاتے ہیں۔ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں شہریوں کا اپنا مفاد ہی نہیں افراد معاشرہ کو بھی مل جل کر محفوظ رکھنا ہر شہری کا فرض ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ اس حوالے سے انتظامیہ جس قدر سخت اقدامات کرے گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔