چینی سکینڈل اور وزیراعظم کا عزم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چینی اسکینڈل میں احتساب کا عمل بلا تفریق آگے بڑھایا جائے گا۔ شوگر سٹہ مافیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چینی اسکینڈل میں احتساب کا عمل بلا تفریق آگے بڑھایا جائے گا۔عمرا ن خان نے کہا ہے کہ جس نظام میں بدعنوانی، برائیاں اور رکاوٹیں آ جائیں جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہ ہوتا ہو، ان برائیوں کو ختم کرنے اور اس نظام میں تبدیلی لانے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ بڑے بڑے مافیاز کو پہلی مرتبہ قانون کے نیچے لانے کی کوشش کر رہے ہیں، سیاسی مافیاز مزاحمت کررہے ہیں اور یہ پاکستان کا اصل میں اہم مرحلہ ہے ، ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے نظام کو خراب ہوتے دیکھا ہے اور یہ نظام بن گیا کہ رشوت دو تو کام ہوگا اور جب اسے تبدیل کرتے ہیں تو اس کے لیے بڑا وژن، عزم و ہمت اور ارادہ چاہیے ہوتا ہے لیکن ہوجاتا ہے،پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا۔وزیراعظم کا عزم اور نظر آنے والے حالیہ اقدامات بلکہ جاری اقدامات میں پہلی مرتبہ تضاد نظر نہیں آتا یہاں تک کہ حکومت سازی میں شریک اہم کرداروں کو ان کی جانب سے سیاسی قوت کے مظاہرے کے باوجود کوئی رعایت ملتی نظر نہیں آتی احتساب اور سیاسی معاملات کو گڈ مڈ کرنا شاید درست نہ ہوسکیں ملک میں اس کارواج عرصے سے ہے اس مرتبہ کا فرق بس یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت سے قربت والے طاقتورسیاسی عناصر کا احتساب ہوتا نظر آرہا ہے بعض مبصرین اسے سینیٹ کے انتخابات سے ضرور جوڑتے ہیں ممکن ہے درون خانہ کچھ ہوا ہو بظاہر کے معاملات موافق تھے البتہ نتیجہ غیر متوقع رہا بہرحال اسے منطبق کرنا درست نہ ہوگا امر واقع یہ ہے کہ حکومت پورے عزم کے ساتھ شوگر مافیا کے احتساب کی سعی میں ہے بعض کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہے تو باقی کو بھی سوالنامے ارسال کئے گئے ہیں جن کا نمبر جلد آنا چاہئے ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نے جس صاف گوئی کے ساتھ اور سیاسی خسران سے بالا تر ہو کر احتساب کا عمل شروع کیا ہے اگر اس میں ان کی حکومت بھی خطرے میں گھر گئی تو بڑا سودا اس لئے نہ ہوگا کہ موجودہ حکومت کے قیام کی بنیادہی شفاف انتخابات پر تھی جس میں اب تک کوئی قابل ذکر پیشرفت نہ ہوسکی دلچسپ امر یہ ہے کہ اب تک چلنے والے مقدمات سابقہ حکومتوں ہی کے تھے موجودہ دور حکومت کا بڑا سکینڈل شوگر مافیا اور ان کی کارستانیوں کا تھا پٹرولیم مصنوعات کی قلت کی بھی تحقیقات کا عمل جاری ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے شوگر مافیا کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں جن کو سیاسی دبائو سے آزاد ہو کر جاری رہنا چاہئے تاکہ کم از کم عوام کو یہ بتایا جا سکے کہ تاخیر سے سہی معدودے چند یا ایک دو ہی سہی لیکن سنجیدہ احتساب کی سعی ہورہی ہے۔جہاں تک معاشرتی برائیوں کے حوالے سے وزیراعظم کے خیالات کا تعلق ہے ان سے اختلاف کی گنجائش نہیں البتہ اس حوالے سے بھی ٹھوس اقدامات اور غیر جانبدارانہ پالیسیاں وضع کر کے ان پر عمل کرانے کی ذمہ داری بھی موجودہ حکومت ہی کے کاندھوں پر ہے۔ حکومت جس عزم کے ساتھ احتساب اور نظام کی خرابیوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ امید افزاء ہے توقع کی جانی چاہئے کہ اسے اس اندازمیں اختتام پذیر کیا جا سکے گا کہ مافیاز کا حقیقی معنوں میں احتساب ہو اور عوام کو لوٹنے کی سزا ملے صرف یہی نہیں اگر اس میں ملی بھگت ثابت ہو جائے اور ایسا کرنے والے حکومتی صفوں میں نظر آئیں تو ان کو غلط فیصلے کرنے کی بھی سزا ملنی چاہئے تاکہ حقیقی احتساب کا عمل پورا ہو۔
پولیس کا حیرت انگیز رویہ
صو بے اور بالخصوص پشاور میں جرائم کی شرح میں اضافہ ، انسپکٹر جنرل آف پولیس کی اسمبلی میں عدم شرکت اور بیوروکریسی کی غفلت پر اپوزیشن ارکان کا حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے حکومت کو اپنے اختیار کو سمجھتے ہوئے بیوروکریسی اور پولیس کو نکیل ڈالنے کا مشورہ توجہ طلب ہے۔ آئی جی پی کوطلب کیاگیاتھا لیکن وہ نہیں آئے ڈپٹی سپیکر محمودجان نے جواب دیاکہ گزشتہ اجلاس میں ایوان نہ آنے پرپولیس اہلکارخان اکبر کومعطل کیاگیاہے سپیکرکومعذ رت کی کال کرکے آئی جی پی نے علامہ اقبال یونیورسٹی میںلیکچردینے کی تقریب میں شرکت کی خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے سے بڑھتی شکایات کے باوجود بجائے اس کے کہ آئی جی اور سینئر پولیس افسران خفت محسوس کرتے پولیس افسران خود کو حکومت اور عوامی نمائندوں کو جواب دہ تودرکنار خود کو بالاتر سمجھنے لگے ہیں حکومت نے اچھی نیت سے پولیس کو جو خود مختاری دی تھی اس کا غلط استعمال ہورہا ہے اس طرح کی صورتحال تا دیر قابل برداشت نہیں حکومت کو حزب اختلاف کے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے ان پر سنجیدگی سے غور کر کے پولیس کو لگام دینے کے اقدامات کرنے ہونگے۔