برف کے لوگ مری بات کہاں سنتے ہیں

بزرگوں سے سنا ہے کہ علاج سے پرہیز بہتر ہے اور اس محاورے، مقولے یا قول پر جو بھی آپ سمجھ لیں آج کل ہمارے ہاں عمل کرنے کی تلقین جہاں بہت سے لوگ کررہے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں اور ویڈیوز تک وائرل ہورہی ہیں وہاں پاکستان کی سب سے معتبر شخصیت یعنی صدر مملکت تک مختلف چینلز پر اپنے ویڈیوپیغام کے ذریعے یہی بات عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ کورونا وائرس سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ خود ڈاکٹر (ماہر دندان ہیں) ہونے کے ناتے وہ عوام کو اس بیماری سے بچائو کی تدبیر خاص طور پر دن میں کئی مرتبہ ہاتھ دھونے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا درس دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ ایسی کم بخت بیماری ہے جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا رکھا ہے، شروعات چین کے شہر ووہان سے ہوئی جو ایک ایسا شہر ہے جہاں دنیا بھر کے لوگ صنعتی تعلقات کے حوالے سے بڑی تعداد میں آمد ورفت رکھتے ہیں، شنید ہے(حقیقت اللہ ہی جانتا ہے)کہ اس شہر کو بائیولاجیکل طریقے سے وباء کا شکار بنایا گیا اور جب یہ وائرس اپنا زور دکھانے لگا تو کئی غیرملکی بھی پہلے سے ہی متاثر ہو کر اپنے اپنے ملک واپس ہوئے تو یوں یہ وائرس کئی ممالک میں پھیلتا چلا گیا۔ گزشتہ روز سعودی عرب نے غیرملکیوں کو واپسی کا حکم دیا، خصوصاً عمرہ زائرین، وزٹ ویزہ اور اقامہ والوں کو ملک چھوڑنے کا پیغام جاری کیا گیا، سعودی شہریوں کو بھی واپسی کیلئے تین دن کی مہلت دیکر پورا ملک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اگر خدانخواستہ صورتحال یہی رہی تو خطرہ ہے کہ کہیں حج پر بھی پابندی نہ لگا دی جائے، جبکہ چند روز پہلے خانہ کعبہ میں مطاف کو بند کر نے اور طواف ختم کرنے کی خبریں بھی وائرل ہو رہی تھیں، مطاف میں ضروری سپرے کرانے کے بعد محدود تعداد میں طواف کی اجازت دی گئی تھی البتہ اوپر کی منزلوں میں طواف جاری رہنے کی خبریں بھی آتی رہیں یہ ایک انتہائی غیرمعمولی صورتحال ہے جبکہ مختلف ممالک سے آنے والی خبریں بھی خاص تشویش کا باعث ہیں۔
لبنان میں نماز جمعہ اور باجماعت نمازوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، ادھر ہمارے ہمسائے ایران سے آنے والی خبریں بہت تشویش کا باعث بن رہی ہیں، چونکہ ایران کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان کیساتھ بھی ملی ہوئی ہیں اور ایران سے پاکستانی زائرین کے علاوہ تجارت کی غرض سے بھی عوام کی نقل وحرکت عام سی بات ہے اسلئے خطرات بڑھ رہے ہیں اگرچہ پاکستان نے ایران پاکستان بارڈر تفتان پر احتیاطی تدابیر بڑھا دی ہیں اور وہاں قرنطینہ کی پابندی کو مضبوط کرنے کیلئے خیمے گاڑ دیئے گئے ہیں جہاں زائرین اور کنٹینر ڈرائیورز کو ضروری احتیاطی تدابیر سے گزارنے کے بعد ہی چھوڑا جائیگا جبکہ بدقسمتی سے کراچی اور بلوچستان کے بعض افراد میں وائرس کی تصدیق بھی ہوئی ہے، اسی وجہ سے پی ایس ایل کے میچز بغیر تماشائیوں کے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سندھ میں تمام تعلیمی ادارے مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ صورتحال اچھی نہیں ہے۔ سندھ کے دیکھا دیکھی خیبرپختونخوا میں بھی تمام تعلیمی ادارے آئندہ 15روز تک بند کرنے کے احکامات صادر کر دیئے گئے ہیں، جبکہ عام اجتماعات یعنی فنکشنز وغیرہ پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کی صدارت میں ہونیوالے ایک اجلاس میں صورتحال کو اگرچہ کنٹرول میں ہونے کی بات ضرورکی گئی تاہم کسی کو تاہی کے متحمل نہ ہونے کا بھی احساس اُجا گر کیا گیا۔
پژمردگئی گل پہ ہنسی جب کوئی کلی
آوازدی خزاں نے کہ تو بھی نظر میں ہے
یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے مگر تصویرکا روشن پہلو بھی ہمارے سامنے ہے، اللہ کا کرم ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت مسلمان پانچ وقت کی نماز میں وضو کیلئے بدن کے کچھ حصوں کی صفائی سے آدھی بیماری تو ویسے ہی دور بھگا دیتے ہیں،اس کیساتھ ساتھ مختلف حلقوں سے فیس بک اور واٹس ایپ پر وائرل ہونے والے نسخے اور دیگر ہدایات بھی اس بیماری کیلئے تریاق کی صورت سامنے آرہے ہیں، تازہ ترین ایک پوسٹ کسی خاتون کے بھیجے ہوئے ایک نہایت سستے اور آسان نسخے کی صورت لوگ ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں، جس میں ایک گلاس میں لیموں کو تین حصوں میں کاٹ کر ڈال دینے اور پھر اس گلاس میں نیم گرم پانی لیموں کے اوپر ڈال کر اسے مکس کر کے روزانہ پینے سے نہ صرف یہ بیماری قریب نہیں پھٹکتی بلکہ یہ بلڈپریشر کے خاتمے میں بھی مددگار ہے۔ ن۔م۔راشد نے کیا خوب کہا تھا
مرناتو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں
اس دور ناگوار میں جینا محال ہے
تاریخ عالم اُٹھا کر دیکھئے تو مختلف ہولناک اور جان لیوا بیماریاں وباء کی صورت میں مختلف ادوار میں مختلف ملکوں میں تباہی کا باعث رہی ہیں، خصوصاًطاعون کا تو بہت چرچا رہا ہے، اسی طرح ٹی بی نے بھی ایک زمانے میں کئی خطوں کو متاثر کئے رکھا،یہ واحد بیماری ہے جو اب بھی دنیا کے کسی نہ کسی حصے میںموجود ہے، یہ بھی متعدی بیماریوں کے زمرے میں شامل ہے، اور بھی کئی بیماریاں دنیا میں تباہیاں پھیلانے کا باعث رہی ہیں، اب کورونا وائرس جس تیزی کیساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اس نے انسانوں کو ایک نامعلوم خوف میں مبتلا کردیا ہے تاہم اللہ تعالیٰ کے کرم سے مایوس بھی نہیں ہونا چاہئے اور احتیاطی تدابیر سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، دکھ مگر اس بات کا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو ایسی حالت میں بھی ذاتی مفادات کی فکر ہے،کہ تازہ خبروں کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت پر2کروڑ ماسک بیرون ملک سمگل کرنے کا الزام ہے حالانکہ یہ وہ وقت ہے کہ سب ملکر اس عذاب الٰہی سے نجات کیلئے اقدامات پر غور کریں
جمع ہو جاتے ہیں سورج کاجہاں سنتے ہیں
برف کے لوگ مری بات کہاں سنتے ہیں