کورونا !اب بس دعا ہی ہوسکتی ہے

محکمہ تعلیم نے صوبے کے21اضلاع میں اگلے مہینے سے تعلیمی ادارے اور مدارس مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کرکے نجی سکول مالکان کے مطالبات کو اہمیت دی ہے ساتھ ہی ساتھ والدین اور طلبہ کی تشویش بھی دور کردی ہے اعلان کے مطابق تمام سرکاری اور نجی سکولز وکالجز، مدارس، کیڈٹ کالجز، اکیڈیمیز ، ٹیوشن سنٹرز اور ماڈل سکولز میںنویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کی کلاسز منعقد کی جائیں گی ہر کلاس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میںایک گروپ تین دن سکول میں حاضر اور دوسرا گروپ چھٹی پر ہوگا اعلامیہ کے مطابق میٹرک اور انٹر کے امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق مئی اور جون میں لئے جائیں گے ۔دریں اثنا ء صوبائی حکومت کی جانب سے تمام بازار شام چھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، شام چھ بجے کے بعد ادویات کی دکانوں، پیٹرول پمپس ، تندور اور دودھ کی دکانوں کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں گی۔اسی طرح ریسٹورنٹس میں آئوٹ ڈور ڈائننگ پر بھی مکمل پابندی ہو گی اورصرف ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کورونا ایس او پیز اور دیگراحتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے اور سرکاری دفاتر میں عملے کی حاضری کو 50 فیصد سے بھی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر ان علاقوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جمعہ کے اجتماعات نماز تراویح اور جنازوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے علمائے کرام کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔تمام تر حکومتی اقدامات ایسے ہیں جن کی ضرورت مسلم ہے جس کا مقصد عوام کوکسی بڑی وباء سے بچانے کی سعی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کورونا اب اتنا پھیل چکا ہے کہ اب کوئی علاقہ اور گھر اس سے محفوظ نہیں مشکل امر یہ ہے کہ اس کے باوجود ہر ڈایمونٹی کا جو دلاسہ گزشتہ سال سے دیا جارہا تھا ماہرین اس حوالے سے خاموش ہیں بلکہ ان کی جانب سے مسلسل حالات سنگین ہونے کی تنبیہہ کی جارہی ہے صوبے میں ریکارڈ تعداد میں مریض ہسپتالوں میں ہیں جبکہ نا معلوم یعنی بغیر ٹیسٹ کے بیماری سے ٹھیک ہونے والے اوربیماری کا شکار افراد کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ حکومتی اقدامات اندھیرے میں تیر چلانے کی مثل بن گئے ہیں جس کے نتیجے میں وباء میں کمی کی توقع کی جائے یا پھر اس پر قابو پانے کی کوئی سبیل ہو باوجود اس کے حکومت اور عوام دونوں کے پاس سوائے احتیاط کے کوئی دوسرا قابل بھروسہ راستہ نہیں حکومتی اقدامات کی سختی کی شکایت بہت ہونا اپنی جگہ درست لیکن اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں مشکل امر یہ ہے کہ حکومت تمام تر سختی اور کوشش کے ماسک کی پابندی بالخصوص اور بالعموم رش کی روک تھام نہیں کرپاتی خود حکومتی انتظام میں چلنے والی بس سروس میں بسوں کی تعدادکم کر کے اور درمیانی روٹ مکمل طور پر بند کر کے جو صورتحال پیدا کی گئی ہے اس سے حکومتی اقدامات لفظی اور مذاق بن گئے ہیں جس کے باعث عوام اور ناقدین اس طرف توجہ نہیں دیتے دوہری مشکل یہ ہے کہ عوام کا طرز عمل یہ ہے کہ دیکھتے بوجھتے آبیل مجھے مار کے مصداق رویہ اختیار کر رکھا ہے ایسے میں بس دعا ہی کی جاسکتی ہے اور رمضان المبارک ویسے بھی دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔
سورہ کی قبیح رسم
خیبرپختونخوا میں سورہ کی قبیح رسم کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن اس وقت سورہ کو تحفظ دینے کا بھی تو کوئی قانون نہیں خلاف قانون ہونے کے باوجود اس معاشرتی رسم پر عمل ہورہا ہے ۔جس میں عام آدمی کا کردار کم اورباثر عناصر کا کردار زیادہ ہے یہ سوال اہم ہے کہ سورہ کے خلاف قانون ہے تو پھر ان لوگوں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا ۔سورہ کی روایت خواتین اور بالخصوص بچیوں پر ظلم اور ان کو مردوں کے جرم کا ایندھن بنا دینے کا وہ قبیح فعل ہے جس کی پختونوں کے غیرتمند معاشرے میں گنجائش نہیں ہونی چاہئے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں عزت کیلئے سرگنوانے کی روایت ہے اسی معاشرے میں سر بچانے کیلئے اپنے ہی گھر کی خواتین اور بچیوں کو بھاڑ میں جھونکنے کی بھی روایت اسی پختون کلچر کا حصہ ہے جس پر معاشرتی سطح پر نظر ثانی ہونی چاہئے اور حکومتی سطح پر اس کی بیخ کنی کا سامان ہونا چاہئے۔توقع کی جانی چاہئے کہ تمام عوامل کو مد نظر رکھ کر جلد سے جلد مئوثر قانون سازی کی ذمہ داری پوری کی جائے گی۔