لال مسجد پارٹ ٹو؟

ریاست اور ٹی ایل پی کے درمیان تصادم میں ملک ''لال مسجد پارٹ ٹو'' سے بال بال بچ گیا۔ لال مسجد کا سانحہ بھی ریاست اور مسجد غازی برادران میں نرم گرم مطالبات اور ہلکے پھلکے پرتشدد واقعات اور آنکھ مچولی نما اقدامات سے شروع ہوا اور ایک ایسے خونیں تصادم پر ختم ہوا جس کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی اثرات ایک عرصے تک ملک وقوم کو اپنی لپیٹ میں لئے رہے۔ لال مسجد تو موجود ہے اور مگر اس کی پرانی حیثیت دوبارہ بحال ہونے میں نہیں آرہی۔ تحریک لبیک بھی ملک کے سیاسی منظر پر بہت حساس دینی معاملات کو لیکر اُبھری اور سوشل میڈیا کے کامیاب استعمال اور مولانا خادم حسین رضوی کے علامہ اقبال کے فارسی اور اُردو اشعار سے مزین خطابات نے اس تحریک کو بہت جلد مقبول بنا دیا۔ اس پر مستزاد مغربی دنیا میں توہین رسالت کے پے درپے واقعات اور کئی مغربی حکومتوں کی ''اگر مگر'' کیساتھ حمایت نے تحریک لبیک کو ناموس رسالت کے حوالے سے پاکستان کے عوام کے نبض پر ہاتھ رکھنے میں مدد دی۔ ٹی ایل پی نے جس مسئلے کو اُٹھایا وہ پاکستان کے عوام کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے مگر اس کی جڑ پاکستان میں نہیں اس سے باہر ہے بلکہ ان ملکوں اور معاشروں میں ہے جو ان اقدار وروایات کو سمجھ ہی نہیں سکے جن کا مسلمان سماج علمبردار ہے۔ ان کیلئے عوامی جذبات اور کسی ہستی کے تقدس کی بجائے آزادیٔ اظہار کی اہمیت ہے۔ ریاست اور پاکستانی سماج کی اکثریت نے ٹی ایل پی کو کبھی مخاصمانہ نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ ایک مخصوص فرقہ وارانہ سوچ کے باوجود اسے اپنے ہی دل کی آواز سمجھا۔ انہی جذبات سے حوصلہ پاکر اس جماعت نے خود کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کرایا اور عام انتخابات میں حصہ لیکر ملک کے ایک قابل ذکر حصے کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرالی۔مولانا خادم رضوی کے اچانک انتقال کے بعد قیادت ان کے بیٹے سعد رضوی کو ملی تو ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے اسے سخت گیر تحریک کے دھیمے مزاج قائد کی آمد قرار دیا۔ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر پھر معاملات ''لال مسجد پارٹ ٹو'' کی طرف جاتے رہے۔ ریاست اور ٹی ایل پی میں مذاکرات کے دور، مسودات کی تیاری پر اختلافات مذاکرات میں غیرلچکدار رویوں کا الزام اور تعطل غرضیکہ وہ سب کچھ ہوتا ہے جو لال مسجد اور ریاست کے درمیان بہت نارمل انداز سے ہوتا رہا۔ جب یہ مشق جاری تھی تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ مذاکرات کی یہ آنکھ مچولی ایک خوفناک خونیں تصادم پر منتج ہوگی۔ اکثر لوگ اسے ریاست اور لال مسجد کا دوستانہ میچ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا رہے اور عین ممکن ہے کہ جب معاملات شروع ہوئے تو ایسا ہی ہوتا مگر جب بات آگے بڑھتی گئی تو فریقین کے روئیے بے لچک ہوتے گئے اور یوں مذاکرات اور محفلوں کی ڈور ایک مقام پر آکر اس قدر اُلجھ گئی کہ دوبارہ سلجھائی نہ جاسکی۔ ٹی ایل پی اور حکومت کے معاملات بھی اسی ماضی کا ایکشن ری پلے اور عکس دکھائی دیتے رہے۔ یہاں تک ٹی ایل پی کی ڈیڈلائن سے چند دن قبل سعدرضوی گرفتار ہوگئے اور اس گرفتاری کیخلاف ٹی ایل پی نے اپنے حامیوں کو سڑکوں پر آنے کو کہہ دیا۔ یہ تعبیر اور تدبیر کی وہ غلطی تھی جس سے بچا سکتا تھا۔ سعد رضوی جوان ہیں۔ سیاست کے خارزار میں نئے ہیں، گرفتاری ان کیلئے کسی نقصان کا باعث نہیں تھی بلکہ یہ ان کے مقاصد کو تقویت دے سکتی تھی۔ ان کے پیروکاروں نے ریاست کیساتھ حساب اسی گرفتاری کے موقع پر چکانے کا راستہ اختیار کیا اور یوں تین دن تک ملک بھر کے عوام اذیت ناک حالات کا شکار ہوئے۔ ریاست سے ٹکرانے کا یہ انداز ریاست کو بھڑکانے کا باعث بنا اور یوں حکومت نے ٹی ایل پی کوکالعدم قرار دیکر اس کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔ حکومت معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہی تھی تو بھی اس وعدہ خلافی کی سزا عوام کو دیتے ہوئے قانون کو اس انداز سے ہاتھ میں لینا، مسافروں، مریضوں کو یوں دربدر کرنا، خلق خدا کو مشکلات کا شکار کئے رکھنا کسی طور قابل ستائش رویہ نہیں کہلا سکتا۔ تین دن تک ملک کی سڑکوں پر جو کچھ ہوا اس لمحے کو خوبصورتی سے ٹالا بھی جا سکتا تھا مگر یوں لگتا ہے کہ ٹی ایل پی کے اندر کچھ عناصر اس کی پوری قوت کو ریاست کے آگے لاکھڑا کرنے پر مصر تھے یا خود ریاست اس نئی اُبھرتی ہوئی مذہبی شناخت کی حامل طاقت کے وزن اور طول وعرض کی حقیقت جاننے کیلئے متجسس تھی۔ معاملہ جو بھی تھا ریاست کو اپنی طاقت اور رنگ ورخ دکھانے کا ایک اور موقع میسر آگیا۔ اب ٹی ایل پی ممنوعہ جماعت قرار پاچکی ہے اور اس کی قیادت سنگین مقدمات کا سامنا کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ ریاست اور ٹی ایل پی کے یہ معاملات اب قانون اور آئین کے حوالے ہیں۔ پابندی ایک تنظیم پر لگی ہے مگر تنظیم جس جذبے کو لیکر چلی تھی وہ ہر مسلمان اور پاکستانی کے دل کی آواز ہے اور جذبے پابندیوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ جب بھی مغرب میں دوبارہ کوئی قبیح حرکت ہوگی تو جذبات بھڑکنا لازمی ہے مگر اس کا اصل حل یہ ہے کہ مسلمان خود اپنا گریبان چاق کرنے اور اپنا منہ نوچنے کی بجائے عالمی فورمز پر اپنی آواز کو مؤثر بنائیں تاکہ عوامی جذبات اور حساسیت انہیں آزادیٔ اظہار کی دل آزار تشریح پر نظرثانی پر مجبور کر دے۔