مشرقی ایشیائی ترقی کے چند اہم اسباق

معاشی ترقی کے میدان میں مشرقی ایشیائی ممالک بلخصوص جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کے گزشتہ لگ بھگ ایک صدی پر محیط ٹھوس عملی اقدامات ہمارے لئے کئی اعتبارات سے مشعلِ راہ ہیں۔ یہی ممالک ہیں جہاں ترقیاتی ریاست کے تصور کو معاشی میدان میں ریاست کی قوتِ نافذہ کے استعمال اور صنعتی ترقی کیلئے سیاسی قیادت کی مستعدی جیسے عوامل کے ذریعے تقویت دی گئی، چنانچہ اِن ممالک کے تجربات سے عیاں ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی عمل کے فروغ کیلئے ریاست کی اثر پذیری اور سیاسی قیادت کا عزم وحوصلہ دو ایسی ضروریات ہیں جن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔یہ بات قطعی مسلمہ ہے کہ ایشیائی معیشتوں میں جاپان سے ہمارا مقابلہ کسی طور ممکن نہیں، البتہ معاشی سطح پر جاپانی تجربات کا جائزہ ہمارے لئے محض ایک موازنے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ہمارا مقصد پاکستان میں معاشی ترقی کیلئے ٹھوس بنیادیں فراہم کرنا ہے۔ تاریخی اعتبار سے جدید جاپانی معیشت کا سنگِ بنیاد انیسویں صدی کے وسط میں میجی دورِ اقتدار کے دوران رکھا گیا۔ اِسی دور میں جاپان میں ذرائع آمد ورفت کو فروغ دیا گیا اور تیزتر معاشی ترقی کیلئے لوہے کی صنعت، دفاعی اغراض کیلئے اسلحہ سازی کے کارخانوں، کپڑے اور سیمنٹ کی صنعت اور معدنی وسائل بلخصوص کاپر اور کوئلے کے استعمال سے بھرپور استفادہ کیا گیا۔ اِسی دور میں ریاست کی معاشی کارگزاری کا ایک اہم ہدف ملک میں ٹیکسوں کے نظام اور مالیاتی امور کی اصلاح تھا، جس کا مقصد بڑے جاگیرداروں اور صنعتکاروں پر ٹیکسوں کا اطلاق تھا تاکہ ملکی دولت اور وسائل میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ میجی دور میں تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور سرمایہ کاری عمل میں لائی گئی اور مجموعی ریاستی اخراجات کا لگ بھگ تیسرا حصہ شعبۂ تعلیم کی ترقی پر صرف کیا گیا۔ الغرض ریاستی مرکزیت کا یہی جارہانہ ماڈل تھا جو انیسویں صدی کے دوران جاپان کی ترقی کا ضامن ٹھہرا۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں حکومت کی مثبت کارگزاری سے ظاہر ہے کہ جاپان میں ریاستی قوت کے استعمال کا براہ راست نتیجہ عوام کی ترقی واستحکام تھا نہ کہ ان کا استحصال۔ اِس ترقیاتی ریاست میں حکومت کی کارگزاری کا ایک اہم مقصد بڑے صنعتکاروں اور جاگیرداروں کو اجتماعی ضروریات کی تکمیل کیلئے اپنے حصے کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند ٹھہرانا تھا تاکہ ترقیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ حکومت اور سیاسی قیادت کا یہی وہ مثبت کردار تھا جس کی بدولت جاپان میں انیسوپیں صدی کے اخیر تک مضبوط سیاسی، معاشی ومعاشرتی اداروں کو رواج دیا جاسکا۔ یہی وہ ادارے تھے جنہوں نے انتظامی فعالیت کے زیراثر بعد کی جاپانی نوآبادیات بالخصوص کوریا اور تائیوان میں بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اسی فعالیت کے نتیجے میں یہ ممالک مرکزی منصوبہ بندی پر مبنی معیشت کی خوبیوں سے بہرہ مند ہو سکے۔ ریاستی مرکزی منصوبہ بندی کا رجحاں دوسری جنگِ عظیم کے بعد بھی مشرقی ایشیائی ممالک کے مخصوص حالات کی وجہ سے قائم رہا۔ اگرچہ جنگ کے بعد یہ معاشرے جمہوری روایات کی طرف راغب رہے تاہم معاشی انتشار کے سدباب کیلئے اِن ممالک میں مرکزی منصوبہ بندی کی اہمیت کو بدستور محسوس کیا جاتا رہا۔ مشرقی ایشیائی حالات کے تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاں مرکزی معاشی منصوبہ بندی کا نفاذ ہمیشہ تعطل کا شکار رہا جس کی بڑی وجہ ریاست کی قوتِ نافذہ کا فقدان اور معاشی میدان میں ہماری سیاسی قیادت کی عدم توجہی رہی ہے۔ ہمارے ہاں صنعتی ترقی بالخصوص نئی صنعتوں کا فروغ شروع دن سے ہی بے توجہی کا شکار رہا۔ مشرقی ایشیائی ممالک میں سرمایہ داریت کو بھرپور فروغ ملا تاہم معاشی سطح پر دولت کی ازسرنو تقسیم کار کو وسیع تر مالیاتی اصلاحات کے ذریعے نافذالعمل کیا گیا، جس کا مقصد ملکی دولت کی افزائش اور اجتماعی ترقی میں طبقہ امراء کی شمولیت کو یقینی بنانا تھا۔ اِس کے برعکس ہمارے ہاں ٹیکس چوری کا رواج عام رہا جس کے باعث ایک طبقے میں بلامعاوضہ دن بدن سکڑتی ہوئی سہولیات سے استفادے کا رجحان عام ہوا۔ یہی مایوس کن صورتحال ہمارے ہاں غربت کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہمارے موجودہ مصائب کی ایک اور اہم وجہ شرح تعلیم کی کمی ہے۔ ہم اپنے بجٹ کا محض دو سے تین فیصدی حصہ تعلیم پر خرچتے ہیں جبکہ اِس قلیل خرچ کا بھی ایک خطیر حصہ بے جا بلکہ غلط ترجیحات کی نظر ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں معیاری تعلیم مہنگی ہونے کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے جبکہ بڑھتی ہوئی جہالت کے باعث ہمارے اجتماعی قومی نقصان کا تخمینہ ہماری سوچ سے بھی کہیں زائد ہے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں جاپانی طرز پر قائم نوآبادیاتی اداروں کو مقامی قیادت کی فعالیت کے باعث قومی ترقی کیلئے مثبت طور پر بروئے کار لایا گیا۔ ہمارے ہاں برطانوی سامراج کے پروردہ پارلیمانی نظام کی ادھیڑبن شروع دن سے ہی جاری رہی چنانجہ ہمارے ہاں حقیقی معنوں میں پارلیمانی جمہوری ادارے پنپ نہ سکے اور نتیجتاً ہماری ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔