کیا رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں

گزشتہ چند دنوں سے ملک کے بڑے شہروں میں تحریک لبیک پاکستان کے باعث ایک عجب افراتفری اور سرامگی کی کیفیت تھی۔ حب رسول ایک بڑا کمال جذبہ ہے، کسی مسلمان کا دل اس سے خالی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ محبت ہماری بنیاد ہے۔ اس محبت میں کمی ہونے لگے تو مانئے وجود ہی خالی خالی ہونے لگتا ہے۔ مغرب اس لئے ہمیشہ اس محبت پر وار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ایسا صرف ہم سے نفرت میں نہیں کرتے، یقین مانئے کہ انہیں اس محبت کی سمجھ نہیں آتی۔ وہ مذہب سے دور ہیں، یہ ہم جانتے ہیں لیکن مذہب کو انہوں نے کس حد تک اپنے لئے نرم کر رکھا ہے اس کا اندازہ کرنے کی ہم باتیں کرتے ہیں سمجھ نہیں سکتے۔ ہم کہانیاں سناتے ہیں کہ کیسے یورپ کے کلیساؤں میں جب انجیل کے نسخوں کی تعداد بڑھ گئی تو انہیں ایک میز پر اکٹھا کیا گیا اور اس میز کو زور زور سے ہلایا گیا، جو نسخے نیچے گر گئے انہیں سمجھا گیا کہ مشیت ایزدی نے انہیں فارغ کر دیا اور جو بچ رہیں ان میں بھی مشیت ایزدی کو ہی روح مانا گیا۔ نہ کوئی تحقیق کا طریقہ، نہ جستجو، اس طرح فیصلہ ہوگیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بھی ان کا رویہ کچھ عجیب سا ہے۔ محبت تو ہے مگر اس محبت میں وہ سارا کھلا پن ہے جو ان کے معاشرے کا حصہ ہے۔
محبت میں منطق نہیں ہوتی لیکن یہ معاملہ ان کے ہاں ذرا الگ ہے۔ اس محبت میں منطق ہے۔ ایک بہت بے ادب سی آزادی ہے جو اس معاشرے کے کئی حصوں کو بے لگام ہونے سے نہیں روکتی۔ اس لئے وہ معاملات جو وہ رسول پاکۖ کے حوالے سے روا رکھتے ہیں ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بھی رکھتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی محبت میں ادب ہے، عقیدت ہے۔ نگاہ نیچی رکھنا ہے اور نبی کے حجروں کے باہر بھی اونچی آواز سے بولنے کا حکم نہ تھا۔ ایسے میں مغرب کی آزادی اور بے باکی ہم سے ہمارے رویوں سے یکسر مختلف ہے۔ نہ ہمیں سمجھ آتی ہے اور نہ ہی ہم اسے برداشت کرسکتے ہیں لیکن حب رسولۖ کسی ایک شخص کی میراث نہیں۔ تحریک لبیک والوں کی بات ہم سمجھ سکتے ہیں، روئیے نہیں سمجھ سکتے۔ میں کبھی مرحوم مولانا خادم رضوی صاحب کے رویوں کو بھی پوری طرح سمجھ نہ سکی تھی۔
حب رسولۖ انسان کے دل کو گداز کر دیتا ہے، آواز کیا نظر اونچی کرنے نہیں دیتا۔ لفظوں میں اپنے آپ حجاب آجاتا ہے لیکن مرحوم کتنی ہی ایسی باتیں کہتے جو مجھے مناسب نہ لگتیں لیکن میں اتنا جانتی ہوں کہ ہم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کا ناقد نہیں، بہترین منصف خدا کی ذات ہے۔ کس کی نیت کتنی درست ہے ہم کہاں جان سکتے ہیں۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اللہ کی مخلوق کو کسی حد تک مشکل کا شکار کیا جا سکتا ہے؟ ان کے حب رسولۖ پر شک کرنے کی کیا وجہ ہے؟ فرانس نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کو اس ذہنی اذیت کا شکار کرنے کی کوششیں کی۔ میرے جیسے مسلمان جو شاید تحریک لبیک سے نسبت رکھنے والوں جتنے کمال مسلمان نہ ہوں گے لیکن ہم نے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ اپنے بچوں کو بھی سمجھایا کہ غلطی سے بھی کبھی فرانس کی کسی شئے کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ ہمارے نبی پاکۖ کے احترام کا خیال نہیں کرتے۔ ہم نے کسی شاہراہ پر کسی ایمبولینس کا راستہ نہ روکا۔ کسی پاکستان کی پولیس کے سپاہی کو گریبان سے نہ پکڑا۔ کسی کی گاڑی نہ توڑی' کسی کو گالی نہ دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے نبیۖ سے محبت نہیں کرتے؟ اس کا جواب میں جانتی ہوں میں اپنے نبیۖ کیلئے جان دے سکتی ہوں لیکن میں اپنے ہی ملک میں اپنے جیسے مسلمانوں کو تنگ کرنے، ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے تیار نہیں۔ میں کسی ٹرک کو روکنا نہیں چاہتی کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو شاید میرے سے زیادہ حب رسولۖ رکھتے ہیں۔ میں کسی uber taxi چلانے والے کی گاڑی نہیں توڑ سکتی اور اس سے کہیں اس کا حب رسولۖ میں کمتر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اپنے جیسے مسلمانوں کی جان لینا، سڑکیں بند کرکے لوگوں کو اذیت کا شکار کرنا، اس سب کی کہاں اجازت ہے۔ میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں۔ ہم رسول پاکۖ کے نام پر کٹ مرنے کو تیارہیں لیکن کیا کسی دوسرے ملک میں ہوتی بے ادبی کے نتیجے میں اپنے ہی ملک میں نقص امن درست ہے۔ کوئی بھی یہ بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ہم حب رسولۖ کے حوالے سے اپنے نام کیساتھ کوئی فتویٰ نہیں چاہتے لیکن یہ درست نہیں یہ رویہ درست نہیں، وہ عورت جو رسول پاکۖ پر گلی سے گزرتے ہوئے کوڑا پھینک دیا کرتی تھی بیمار ہوئی تو آپۖ اس کی تیمارداری کرتے رہے۔ وہ مسلمان ہی اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر ہوئی اور آج ہم اپنے ملک میں اپنے جیسے رسول پاکۖ سے محبت کرنے والوں کو جان سے مارنا چاہتے ہیں کیونکہ فرانس میں رسول پاکۖ کے حوالے سے بے ادبی ہوئی۔ سوال بس اتنا ہی ہے کہ کیا ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کی ضرورت نہیں۔