جمہوریت کے اصل ثمرات

جمہوریت کا ایک ہی بنیادی عہد ہے اور وہ یہ کہ ایک معاشرے یا ملک میں رہنے والے، اپنے ووٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کریں گے کہ ان پر کس نے حکومت کرنی ہے۔ یہ بنیادی ضمانت دو ستونوں پر قائم ہے۔ نمبر ایک تو یہ کہ کسی بھی نمائندے کو چننے والے عوام ہی ہوتے ہیں اور ان کا نمائندہ اس کے بدلے اسمبلی میں ان کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاتا ہے اور دوسرا یہ کہ منتخب ہونے والا فرد ان لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے جو اسے لیکر آئے ہیں اور ایسے میں وہ اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالے رکھتا ہے۔ البتہ پاکستان جیسی کمزور جمہوریتیں ان دونوں مقاصد میں بہت بری طرح ناکام ہوتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ اُمیدوار جسے حلقے کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو وہ اپنے عوام کے حقوق کیلئے اسمبلی میں ان کے ایجنٹ کی طرح کام کرے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں پری پول رگنگ سے لیکر، مردم شماری کے نتائج میں گھپلا کرنے اور اپنی مفادات کی خاطر نئی حلقہ بندیاں کرنے تک انتخابی نتائج کیساتھ کھلواڑ کرنا معمول کی بات ہے۔
یہاں پرتشدد کارروائیاں، پولنگ سٹیشنوں کے گرد فائرنگ، ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا، کسی جماعت کے حامیوں کی جانب سے پورے پورے پولنگ سٹیشن پر قبضہ کر لینا اور دوسری جماعت کے پولنگ ایجنٹوں کو اغوا کر کے غائب کرا دینا دھاندلی کے عام طریقے ہیں۔ حال ہی میں ڈسکہ کے انتخابات میں ہم نے یہ دیکھا کہ کس طرح پولنگ ایجنٹوں کو اغوا کر کے غائب کیا گیا۔ اس کے علاوہ شدید غربت اور برادریوں کے دباؤ میں ووٹوں کا خریدا جانا بھی دھاندلی کے رائج طریقے ہیں۔ ایک اُمیدوار کو چنے جانے کے بعد بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کسی بھی طور ذاتی مفادات کیلئے تو سرگرداں نہیں۔ ہمارے ہاں ذاتی مفادات کیلئے ترقیاتی فنڈز سے لیکر اپنی اہل خانہ کو ویکسین لگوانے تک کیلئے اثر ورسوخ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے ایک اقدام کی مثال ہمیں فروری2020 میں ملتی ہے جب ان منتخب اراکین نے خود ہی اپنی تنخواہوں اور مراعا ت میں اضافے کا بل منظور کر لیا تھا حالانکہ اس وقت ملک کے عام عوام دگرگوں ہوتی معیشت سے شدید متاثر ہو رہے تھے۔
اُمیدواروں کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کرنے کی کوشش اور منتخب ہونے کے بعد ملنے والے مفادات کی لالچ اس کھیل کو اور بھی خطرناک بنا دیتی ہے۔ سو ان پر نظر رکھنے کیلئے ایک جامع اور مؤثر نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن یہ چھلنی قائم کرنے کا مجاز ہے اور آئین میں دئیے گئے اختیارات کے مطابق ای سی پی کسی بھی ایسے حلقے میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دے سکتا ہے جہاں دھاندلی یا قانون کی خلاف ورزی کی شکایات ہوں۔ اسی طرح اگر اُمیدوار انتخابی نتائج سے مطمئن نہ ہو تو وہ الیکشن کے پینتالیس دنوں کے اندار اندر الیکشن ٹربیونل کے سامنے درخواست پیش کر سکتا ہے اور اس ٹربیونل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پورے حلقے میں انتخابات کو جعلی اور غیرمؤثر قرار دیکر نئی انتخابات کا اعلان کر سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں الیکشن کمیشن کے فیصلے سے اختلاف کی صورت سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ مزید برآں، آئین کے مطابق ایک منتخب نمائندے یا اس کے کسی ووٹر کو آئینی حدود کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے پر وہاں کا متعلقہ ہائی کورٹ اس پر بازپرس بھی کر سکتا ہے اورکسی بھی قسم کے جھوٹ یا جھول کی صورت میں اعلیٰ عدالتیں منتخب نمائندہ سے قلمدان بھی واپس لے لینے کا اختیار رکھتی ہیں۔ کوورانٹو کی یہ طاقت عدالت عظمیٰ کے پاس بھی ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں انتخابی عمل کو محفوظ بنانے کیلئے مرکزی حیثیت کی حامل ہیں اور عدالتوں کو اپنا یہ کردار سنجیدگی سے نبھانا چاہئے۔ انتخابی عمل اور خصوصاً کاغذات نامزدگی میں مبینہ طور پر کسی بھی قسم کے فراڈ یا بددیانتی کیلئے ذرہ برابر بھی برداشت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے کہ یہی لوگ انتخابات کے بعد کسی سرکاری منصب پر براجمان ہو کر اپنی جیبیں بھرنے کا قابل ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں انتخابات کے عمل میں بھی ہر طرح کے فراڈ یا جھول کی صورت میں ان عدلیہ سے رتی برابر رعایت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ ان کی خاموشی اس اُمیدوارکو جتوا سکتی ہے جس نے نظام میں نقب لگانے کی کوشش کی ہو۔
ایک متحرک عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی صورت میں کبھی کبھی نقصاندہ بھی ثابت ہوتی ہے مگر انتخابات کے دوران کسی اُمیدوار یا دھاندلی کی کوشش پر چپ سادھے رہنا زیادہ نقصان دہ بات ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ جب تک صاف شفاف اور دھاندلی سے محفوظ انتخابات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک ہمیں جمہوریت کے اصل ثمرات حاصل نہ ہو پائیں گے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)