نیب نے 487 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے

ویب ڈیسک (اسلام آباد): قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکوٹر جنرل اکاؤنٹبلیٹی نیب، ڈی جی آپریشنز نیب، ڈی جی نیب راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی، نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے جو قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے پر سختی سے یقین رکھتا ہے، نیب کی تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی جاتی ہیں جوکہ حتمی نہیں ہوتیں۔ نیب قانون کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید تحقیقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔
 
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلا س میں 4 ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں غلام مصطفی پھل سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ ا ور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ضلع ملمیر میں سرکاری اراضی الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو
12 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

2 ۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ثاقب سومرو اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو1.5 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

3۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں معین آفتاب شیخ، سابق چئیرمین پاکستان سٹیل ملز اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا سپلیمنٹری ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ملزمان پر اختیارات کا ناجائز الزام اور بدعنوانی کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو434.468 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

4۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں رسول خان محسود سابق منیجنگ ڈائریکٹر پیپکو اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ملزم پر اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 12 انکوائریز کی منظوری دی گئی، جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی، وائس چانسلر مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو، لیبر ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے افسران اہلکاران اور دیگر میسرز سکائی رومز لمیٹڈ کمپنی اوردیگر،میسرز لکی سیمنٹ فیکٹری،لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران اہلکاران اور دیگر، محمد علی ساند سابق چیف کمیشنرانکم ٹیکس حیدر آباد اور دیگر، نور محمد جادمانی چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن، اعجاز علی خان درانی رکن سندھ پبلک سروس کمیشن اور دیگر، پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہورو قائم مقام وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی کیمپس بدین اور دیگر، اکرام الحق چیف انجینئر ساؤتھ، پی ڈبلیو ڈی، ظفر اقبال، ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر، سراج نظام، ایکسیئن، پاک پی ڈبلیو ڈی کراچی، غلام مصطفی پھل سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ، گل محمد جاکھرانی، بورڈ آف ریونیو کراچی کے افسران اہلکاران اور دیگر، ممتاز الرحمان سابق پرنسپل سیکرٹری ٹو سابق گورنر سندھ،آفیسرز آفیشلز آف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر اورعبدالوھاب عباسی ڈائریکٹر سکولز ایجوکیشن کراچی اور دیگرکے خلاف انکواری کی منظوری شامل ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 5 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی، جن میں سندھ کول اتھارٹی کے افسران اہلکاران، میسرز پاک اوسسز اور دیگر، سید نصرت شوکت اوردیگر، جبکہ عمران شیخ سپرنٹنڈنٹ انجینئر آر بی او ڈی سرکل حیدر آباد، محکمہ آبپاشی کے افسران اہلکاران اور دیگرکے خلاف تین(03) انوسٹی گیشنز کی منظوری شامل ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کریک میرینہ پراجیکٹ کراچی کے مالکان منیجرز اور دیگر، آیاز خان نیازی سابق چئیرمین این آئی سی ایل اور دیگر، ایس بی سی اے ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے افسران اہلکاران، میسرز حباء بلڈرزکراچی اور دیگر کے خلاف انکوائریز اب تک کے عدم ثبوت کی بنیاد پر قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کراچی کے افسران اہلکاران اور دیگرکے خلاف تحقیقات پلی بارگین کی تکمیل کے بعد معاملہ قانون کے مطابق کارروائی کیلئے ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ کراچی کے افسران اہلکاران اور دیگر کے خلاف تحقیقات مزید کاروائی کے لئے ایف بی آر کو بھیجنے کی منظوری دی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف وائٹ کالر کرائمز کے میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جار ہے ہیں کیونکہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستان نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب احتساب سب کے لئے پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے، نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے، نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے، نیب نے اپنے قیام سے اب تک 790 ارب روپے جبکہ موجودہ قیادت کے گزشتہ تین سالوں کے دور میں 487 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے اربوں روپے کی بدعنوانی کے 1269 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کیے ہیں جوکہ زیر سماعت ہے، نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں جبکہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب بزنس کمیونٹی کی ملک کی ترقی کیلیے خدمات کو قد ر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نیب کسی دباؤ، دھمکی اور پریشر کی پرواہ کئے بغیر ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیتا رہے گا، نیب کا ایسے تمام افراد کو مشورہ ہے کہ نیب پر بلاجواز تنقید کرنے کی بجائے اپنا وقت اپنے خلاف معزز احتساب عدالتوں میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دائر ریفرنسز کے دفاع میں خرچ کریں جہاں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور مضاربہ سیکنڈلز کے ملزمان سے عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے سنجیدہ کاوشیں کررہا ہے، نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا خصوصا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان، پلڈاٹ اور مثعال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جو نیب کیلئے اعزاز ہے۔