کون جینے کیلئے مرتا رہے

ہم زندہ تو نہیں جو موت سے ڈریں، موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں یا اسی دن مر گئے تھے جب ہم اس دنیا میں آئے تھے۔ کیا پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ باؤلے ہوگئے ہو کیا؟ میری یہ باتیں سن کر کوئی میرے اندر سے بولا۔ جس کے نکتہ اعتراض کا میں نے ہرگز ہرگز برا نہ منایا کیونکہ یہاں ہر فرد ہر دوسرے فرد کو پاگل یا باؤلا کہتا رہتا ہے۔ میں نے اپنے اندر کے بھولے باچھا کو سمجھانے کی کو شش کرتے ہوئے کہا
زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا
جب ہم اس دنیا میں اپنے آپ کو مرمر کر جیتا اور جی جی کر مرتا محسوس کرتے ہیں تو بے اختیار کہہ اُٹھتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں زندہ رہنے کی کوشش میں مرنے ہی کیلئے تو آئے ہیں۔ ہم ہی کیا یہاں پیدا ہونے والی ہر شے نے ختم ہو جانا ہے۔ جب یہ بات سچ ہے، تو پھر یہ بات بھی کڑوی حقیقت ہوئی کہ ہر چیز پیدا ہوتے ہی فنا ہوجاتی ہے مگر سائنس اس بات کو نہیں مانتی، سائنس کی نظر میں کسی بھی جگہ گھیرنے اور وزن رکھنے والی چیز کو نہ پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ٹھیک کہتی ہوگی سائنس کیونکہ اس کی بنیاد عقل پر ہے لیکن میں جو عرض کر رہا ہو وہ آپ کو بعید ازعقل لگتی ہے۔ میں نے اپنے اندر کے معترض کو سمجھانے کی کوشش کی جس کے جواب میں اس نے زوردار قہقہہ بلند کیا اور کہنے لگا کہ تم نے مان لیا کہ تم نارمل انسان نہیں ہو، جبھی تو میں نے تمہاری یہ بات سن کر کہا کہ تم پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ ہاں میں تجھے پاگل لگتا ہوں اور تم؟میں تجھے پاگل یا ناسمجھ کہنے میں غلطی نہیں کر رہا۔ میں نے اپنے اندر کے بھولے باچھا یا سادہ گل کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
دن تو خیر سے گزر جاتا ہے
راتیں پاگل کر دیتی ہیں
مگر جو بندہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا کہ موت برحق ہے وہ پاگل ہی نہیں غافل اور جاہل بھی ہے۔ ہم یہاں ہمیشہ ہمیشہ جینے اور بس جینے ہی کیلئے نہیں آئے، عارضی ہے یہ زندگی اور یہ کہ ہماری زندگی کا مقصد ہی فوت ہو جانا یا مر جانا ہے تو پھر ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم تو اس ہی روز مر گئے تھے جس روز اس دنیا میں آئے تھے۔ ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے مقدر میں موت لکھ دی گئی تھی۔ یہ جسے ہم زندگی کہتے ہیں موت کی امانت ہے، بڑی خوشیاں منائی جاتی ہیں جب کوئی نومولود اس دنیا میں وارد ہوتا ہے۔ مبارک بادوں کا تبادلہ ہوتا ہے، ڈھول باجے والے آکر نومولود کے سون سہرے گاتے ہیں۔ صدقے خیرات اور نومولود کی پیدائش کی ریت رواج کے مطابق رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ تو بیٹے کی پیدائش پر ہوائی فائرنگ کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میرے ہاں لڑکا ہوا سو میں فائرنگ کرکے خوشی منا رہا ہوں کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ شدید اذیت سے گزرنے کے بعد اپنے پاؤں کے نیچے جنت کمانے والی زچہ نے موت کو دھکا دیکر بچہ جنا اور بچہ جب اس دنیا میں آیا اس پر کیا قیامت گزری۔ وہ اپنی منی سی آواز میں یوں رو رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ کیا قصور تھا میرا جو تم لوگ میری پیدائش کا سبب بن کر مجھے اس دنیا میں لے آئے۔ پیدائش کے وقت بچے کا رونا دھونا چیخنا چلانا ہی ان مشکلات کا نکتہ آغاز ہے جو انسان اس دنیا میں آنے کے بعد جھیلتا ہے اور جب اسے زندگی کی ان کٹھنائیوں کا احساس ہوتا ہے جو زندگی کو زندہ درگور کر دیتی ہیں تو وہ اسداللہ خان غالب کی ہاں میں ہاں ملا کر کہہ اُٹھتا ہے کہ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
کسی چیز کا موجود ہونا اس کی زندگی کی دلیل ہے، لیکن زندگی کو اپنی گرفت میں لیکر دبوچ لینے کیلئے موت اس کے پیچھے بھاگتی رہتی ہے اور کبھی کبھی کیا اکثر وبیشتر بہت سے لوگ موت سے جان بچاتے بچاتے زندہ درگور ہوجاتے ہیں اور وہ پکار پکار کر کہہ اُٹھتے ہیں کہ
کم سے کم موت سے ایسی مجھے اُمید نہیں
زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
وہ جو ٹیکس چوری کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں، یہ جو مصنوعی مہنگائی کے ماہر ہیں، وہ جو ذخیرہ اندوزی کو منفعت بخش حربہ سمجھتے ہیں، چور بازاری کو اپنا مقصد حیات سمجھتے ہیں، وہ جو منشیات کا کاروبار کر کے نوجوانوں کو زندہ درگور کر دیتے ہیں موت کے سوداگر ہی تو ہیں، مقتل عالم میں دندنانے والے یہ تیغ بکف موت کے سوداگر نہیں تو اور کیا ہیں، ہم ان کیساتھ گزر بسر کر رہے ہیں تو پھر ہمیں کیا ڈرنا موت کے نام سے اور اجتماعی موت کا پیغام بن کر آنے والے کرونا وائرس سے، تادم زیست ہمارے ہاں کرونا وائرس کے 28مریض دریافت ہوئے ہیں اور ہم نے یہ خبر جانتے ہی پورے ملک کو موت کی گھاٹی میں تبدیل کر دیا، تعلیمی اداروں کو بند اور شادی ہالوں کو سیل کر دیا گیا اور ہر فرد کو گھر کے اندر نظر بند رہنے کی ہدایت کردی گئی، ارے یہ کوئی زندگی ہے، اگر یہ زندگی نہیں تو پھر موت سے کیا ڈرنا، آؤ کہ سب مل کر کہیں
لو، سنبھالو اپنی دنیا، ہم چلے
کون جینے کے لئے مرتا رہے