یورپی پارلیمان میں توہین مذہب کےقوانین کی بنیادپرپاکستان کوحاصل جی ایس پی پلس سٹیٹس پرنظرثانی کی قراردادمنظور

ویب ڈیسک (اسلام آباد/برسلز)یورپی پارلیمان میں توہین مذہب کے قوانین کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نظرثانی کی قرار داد منظور کرلی گئی ہے۔

پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے یورپی کمیشن اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے سٹیٹس پر فوری طور پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کی عارضی طور پر معطلی کے طریقہ کار پر غور کریں اور اس کی رپورٹ یورپی پارلیمان میں جلد سے جلد پیش کریں۔

جی ایس پی پلس سٹیٹس (Generalised Scheme of Preferences) کے تحت غیر یورپی ممالک کو یورپ برآمد کی جانے والی منتخب اشیا پر ڈیوٹی سے استثنی حاصل ہوتا ہے۔

یورپی پارلیمان میں پاکستان میں فرانس کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔
قرار داد میں پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات کے تحت اقلیتوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی تنظیموں پر آن لائن اور آف لائن بڑھتے ہوئے مبینہ حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

اس قرارداد کے شریک مصنف اور سویڈن سے یورپی پارلیمان کے رکن چارلی ویمرز کا اپنی تقریر کے دوران کہنا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان غلط الزامات لگانے والوں سے اپنے شہریوں کا دفاع کرنے کی بجائے پیغمبراسلام کی توہین کرنے کو ہولو کاسٹ اور نسل کشی کے انکار کے مترادف قرار دیتے ہیں۔‘

یورپی پارلیمان میں منظور کی جانے والی قرارداد میں پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے مسلسل استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قوانین ’پاکستان میں مذہبی تقسیم کو بڑھانے، عدم برداشت کے ماحول کو پروان چڑھانے، تشدد اور تعصب کی بنیاد بن رہے ہیں۔

اس کے علاوہ قرار داد میں زور دیا گیا ہے کہ یہ قوانین بین الااقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ’نہیں‘ ہیں جبکہ یہ ملک میں موجود غیر محفوظ گروہوں جن میں شیعہ، احمدی، ہندو اور مسیحی شامل ہیں کو ’نشانہ‘ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

قرار داد میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان قوانین پر نظرثانی کرنے اور ان کا استعمال روکتے ہوئے انہیں ختم کرے جبکہ توہین مذہب کے مقدمات میں دفاعی گواہوں اور وکلا سمیت ججز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ 

یورپی پارلیمان میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ پینل کوڈ کی شقوں 295 بی اور سی کو ختم کر دے تاکہ سوچ، مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھا جا سکے جبکہ حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ توہین مذہب کے مقدمات کو سال 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائے جانے کے حوالے سے بھی ایسی ترمیم کرے جس میں مبینہ توہین مذہب کے الزامات کا سامنے کرنے والے کو ضمانت کے مواقع میسر ہوں۔