چار ملکوں کا افغان حکومت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ

ویب ڈیسک : پاکستان، امریکہ، چین اور روس نے کابل حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ ’کھلے دل‘ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے پرامن تصفیہ تک پہنچا جا سکے، پاکستان، امریکہ، چین اور روس نے کابل حکومت اور اس کے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ ’کھلے دل‘ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پرامن تصفیہ تک پہنچا جا سکے۔

عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان چار ملکوں پر مشتمل گروپ کے وفد نے دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ افغانستان میں پائیدار امن اور مستقل جنگ بندی کے لیے افغان مذاکرات کی حمایت کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جاسکے، اس دورے کا مقصد گذشتہ سال ستمبر میں شروع ہونے والے امن مذاکرات میں فریقین کی مدد کرنا ہے، جس میں ابھی تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی، ان ملاقاتوں کو ’استنبول کانفرنس‘ میں شرکت کے لیے طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس کا انعقاد عید الفطر کے بعد متوقع ہے۔

طالبان نے اس اجلاس میں یہ کہتے ہوئے شریک ہونے سے انکار کردیا تھا کہ جب تک امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل نہیں جاتیں وہ کسی مذاکراتی عمل میں شرکت نہیں کریں گے، ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ سال فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے میں اپنے تمام فوجیوں کے انخلا پر اتفاق کیا تھا اور مئی اس عمل کے لیے آخری ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔

چار ملکی گروپ کے نمائندوں نے دوحہ اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ’ہم افغان حکومت اور اس کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل پر زور دیتے ہیں کہ وہ تنازعے کے حل کے سلسلے میں اپنے طالبان ہم منصبوں کے ساتھ کھلے دل سے بات کریں، ’ہم افغانستان میں طاقت کے ذریعے مسلط کردہ کسی بھی حکومت کے قیام کی حمایت نہیں کرتے‘،

انہوں نے طالبان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ’موسم بہار کی اپنی کارروائیوں‘ کو روکیں کیونکہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے فوجی انخلا کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل نہ کرنے سے ملک میں تشدد اور خوں ریزی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

آج (یکم مئی) کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد ابھی تک تقریباً دو ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں حالانکہ امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے رواں ہفتے کہا تھا کہ باقاعدہ انخلا کے لیے فوجی اڈوں اور سازوسامان کو افغان افواج کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔