ایران سعودی کشیدگی تاریخ کا رستا ہوا زخم

سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کے سلسلۂ جنبانی کی خبریں آتے ہی مسلمان دنیا میں اطمینان اور خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے اور یہ اُمید بندھ چلی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی ناخوش گواریت کے باعث مسلمان سماج کو لگنے والے گہرے گھاؤ مندمل ہوں گے۔ او آئی سی کے ان دو رکن ملکوں کی رسہ کشی اور کھینچاتانی نے مسلمان دنیا میں تقسیم کے عمل کو ہی گہرا نہیں کیا بلکہ کئی نئے زخموں اور تلخ یادوں سے اس کا دامن بھر دیا۔ مسلمان آبادیوں اور ملکوں پر حاوی ہونے اور پالیسی سازی پر اثرانداز ہونے کی دوڑ میں دونوں ملکوں نے اس آبادی کو تقسیم درتقسیم کا شکار کر دیا تھا۔ اس لئے اب جبکہ دونوں ملکوں کو اس ماضی کو دفن کرنے کا خیال آگیا تو خوشی اور مسرت فطری سی بات ہے۔ سعودی عرب اور ایران کی حکومتوں کے درمیان عراقی وزیراعظم مصطفی الخادی کی پس پردہ کوششوں سے بغداد میں ملاقاتیں ہوئیں۔ سعودی عرب نے پہلے پہل ان ملاقاتوں کی تردید کی جبکہ ایران نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ عراقی حکومت نے اس ملاقات کی تصدیق کی جس کے بعد کسی مزید تصدیق وتردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ بعدازاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک ٹی وی انٹرویو میں ایران کیساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا اور جواب میں ایران کی طرف سے بھی انہی جذبات کا اظہار ہوا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر عدم استحکام کے الزامات اور بالادستی کے طعنوں کے بغیر ہی اچھے تعلقات کے قیام کی خواہش کا اظہار تعلقات کی منجمد برف پگھلنے کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کو تجربات اور حالات نے طویل اور دیرینہ کشمکش کے خاتمے کی جانب مائل کرنے پر اہم کردار ادا کیا۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی خرابی کا سلسلہ انقلاب ایران کے بعد ہی شروع ہوا تھا۔ ایران کا انقلاب ایک عوامی رنگ لئے ہوئے تھا اور اس کی بنیاد ایران کی قدیم بادشاہت کے تخت وتاج کے خاتمے پر پڑی تھی۔ سعودی عرب بھی ایک بادشاہت تھا اور اپنے ہمسائے میں ایک عوامی انقلاب سے چونک جانا بھی فطری تھا۔ اس خوف کو مزید بڑھاوا اُس وقت ملا جب ایران نے انقلاب کو برآمد کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد سے اس طرز کے انقلاب کا راستہ روکنا کئی عرب ملکوں کا مقصد بن کر ر ہ گیا۔ یوں عرب اور فارس کی ایک کشمکش شروع ہوئی جو ایران عراق جنگ کی صورت میں کھلے انداز سے بھی لڑی گئی اور کئی عرب ملکوں میں پراکسی کے انداز سے بھی جاری رہی۔ جلد ہی یہ جنگ خلیج سے نکل کر دوسرے مسلمان ملکوں میں بھی منتقل ہوئی اور پاکستان اس بے مقصد رسہ کشی کا میدان بن کر رہ گیا۔ فرقہ وارایت کا جن چہار سو دندناتا پھرنے لگا۔ کئی مسلح شدت پسند گروپ قائم ہوئے۔ متنازعہ لٹریچر تقسیم ہونے لگا، تاریخ کے سارے قرض اور حساب پاکستان کی سرزمین پر چکائے جانے لگے۔ یوں لگا کہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ایران اور سعودی عرب کی کشمکش ہے۔ اس لڑائی میں پاکستان زخم زخم ہوا۔ سینکڑوں لوگ جن میں دانشور، شاعر، ادیب، سکالرز، اساتذہ شامل تھے اس تشدد کی نذر ہوئے۔ پاکستان نے اس جنگ کا اپنی حدود سے پرے رکھنے کی کوشش کی مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی مگر اس پُرآشوب دور میں پاکستان کے لوگوں نے اس پراکسی جنگ کو عوامی بنانے سے ہر ممکن حد تک گریز کیا اور یوں ملک کسی بڑی خانہ جنگی کا شکار نہ ہوا۔ تشدد پھیلانے والے، نفرتوں کے کاروباری معاشرے کا نشان زدہ طبقہ ہی رہا جمہور نے بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دامن اس کشمکش سے بچائے رکھا۔ انقلاب ایران کے بعد سے شروع ہونے والی اس کشمکش میں شدت اس وقت آئی جب سعودی عرب نے ایک شیعہ عالم دین شیخ باقرالنمیر کو پھانسی دی، جس کے جواب میں ایران میں سعودی عرب کیخلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور مظاہرین نے تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملہ کیا جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ یمن اور شام کی جنگوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید خراب کیا، سعودی عرب ان ملکوں میں ایرانی دلچسپی کو اپنے گھیراؤ کے طور پر دیکھتا تھا جبکہ ایران ان ملکوں میں سعودی کردار اور سرگرمیوں کو خود کو یکا وتنہا کرنے کی خواہش کا آئینہ دار جان کر جوابی حکمت عملی اپنائے رہا۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں اچانک بہتری کے آثار میں بدلتے ہوئے حالات کا دخل بھی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست سے پورا منظرنامہ ہی تبدیل ہو کر رہ گیا۔ ٹرمپ ایران مخالف جذبات کی بنیاد پر اسرائیل اور عرب دنیا میں مشترکہ خطرے اور مشترکہ دشمن کا احساس جاگزیں کرنا چاہتے تھے۔ اس کشمکش اور تقسیم سے کئی مقاصد حاصل کئے جانے تھے جن میں داخلی سیاسی ضرورتوں کا بھی دخل تھا۔ بدلتی ہوئی اس صورتحال میں سعودی عرب نے پاکستان کیساتھ خراب ہوتے تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کیساتھ ساتھ ایران کیساتھ کشیدگی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا، جو بھی ہو مفاہمت کی اس کونپل کو ایک تناور درخت بننا چاہئے کیونکہ اس ناچاقی نے مسلمان معاشروں کو جو گہرے گھاؤ لگائے ہیں و ہ کسی حد تک مندمل ہوں اور خطے میں استحکام اور ترقی کا سفر جاری رہ سکے۔