دہلیز پر مسائل حل کرنے کے دعویدار متوجہ ہوں

بہت سے قارئین کے برقی پیغامات آئے ہیں اس لئے سب کو تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا۔ ترجیحی طور پر تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کرک مامی خیل کے افتخار کا مسئلہ اس لئے شامل کر رہی ہوں کیونکہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے اور گرمیوں کے روزوں میں بھی ان کے گاؤں مامی خیل اور اردگرد کے علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹہ بجلی آتی ہے اور گیس صرف صبح اور شام کو آتی ہے، شاید ان کا مقصد افطار اور سحری کے وقت کا ہے، اگر ایسا نہیں تو پھر گیس آنے کے اوقات بھی موزوں نہیں۔ میرے خیال میں تو کوہاٹ، کرک، ہنگو اور ملحقہ علاقوں بلکہ پورے جنوبی اضلاع میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور بندش کا تو کوئی جواز ہی نہیں، دستور کے مطابق علاقائی پیداوار پر پہلا حق علاقہ مکینوں کا تسلیم شدہ ہے، اس قانون کے مطابق تو خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بندش کا بھی جواز نہیں، اس لئے کہ سستی آبی بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ خیبر پختونخوا کا ہے اس کے باوجود عالم یہ ہے کہ رمضان المبارک کے ان مبارک ایام میں کرک جیسے گرم موسم والے علاقے میں مامی خیل میں صرف ایک گھنٹہ بجلی دینے کا تکلف کیا جارہا ہے۔ اس پر مزید کیا کہا جائے اور لکھا جائے کہ جب ناانصافی اور حق تلفی خود حکومتی سطح پر ہو تو توجہ کس کی دلائی جائے اور مسئلے کے حل کی توقع کس سے کی جائے۔ یہ تو صرف ایک گاؤں سے شکایت ملی ہے، اندازہ ہے کہ ضم اضلاع اور دوردراز کے اضلاع اور گاؤں میں صورتحال اس سے مختلف نہیں ہوگی۔ کیا حکمران ازراہ کرم عوام سے اس ناانصافی پر نظرثانی کریں گے اور عوام کو گیس وبجلی کے حق سے محروم نہیں رکھیں گے، ناگزیر ہو تو لوڈشیڈنگ کی جائے لیکن چوبیس گھنٹوں میں ایک گھنٹہ بجلی آنا، کچھ تو انصاف ہونا چاہئے۔ اس ملک کے عوام سے ناانصافی کسی ایک دورحکومت میں نہیں ہر حکومت میں عوام مسائل زدہ اور حکمران زبانی جمع خرچ پر معاملات ٹالنے کے عادی ہیں۔ ہر دورحکومت میں عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں، میرے خیال میں تو یہ کہنا ہی غلط ہے، یہ محاورہ اس وقت استعمال ہوتا ہوگا جب لوگوں کے گھروں میں دہلیز بنانے کا رواج تھا اور اس دور میں لوگوں کی دہلیز پر مسائل کا حل بھی ممکن تھا۔ اب آبادی کی وسعت دیکھیں اور حکمرانوں کے دعوے سنیں اور اس محاورے کا بلاسوچے سمجھے استعمال سنیں تو غصہ آتا ہے۔ اب دہلیز بنانے کی جگہیں کہاں باقی ہیں، لوگ چھوٹے چھوٹے کمروں میں سکڑ گئے ہیں۔ کتنے لوگوں کو چھت میسر نہیں، جن کو میسر ہے وہ بھی مشکل میں ہیں، پھر بھی حکمرانوں کا دعویٰ ہے تو چند ایک مسائل جن کے حل کی ہمارے قارئین اُمید رکھتے ہیں حکمرانوں کے گوش گزار کرتے ہیں اور یہ عوام کی دہلیز پر جاکر نہ سہی اپنے یخ بستہ دفتروں میں ہی بیٹھ کر توجہ دیں تو غنیمت جانیں گے۔ چند مسائل بہ زبان سائل پیش خدمت ہیں۔
دیربالا کوہستان کمراٹ سے ٹیچر انعام اللہ کے مطابق کوہستان تحصیل کلکوٹ میں آج کے اس تیز ترین دور میں بھی ایک یا دو گرلز مڈل سکول کے علاہ کوئی سکول نہیں۔ بچیوں کیلئے نہ ہائی اور نہ ہائیر سیکنڈری سکول موجود ہیں، جماعت پنجم پاس کرکے زیادہ تر بچیاں تعلیم کے حصول سے محروم رہتی ہیں۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ روڈ کا ہے جو پاتراک سے تھل کمراٹ تک صرف کھنڈرات کی حد تک موجود ہے، علاقے کے عوام کو ذرائع نقل وحمل کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طارق عمران کا بنوں سے برقی پیغام ملا ہے کہ حکومت وقت کا دعویٰ ہے کہ احساس کفالت پروگرام غریب ضرورت مند بیواؤں کیلئے ہے مگر ابھی حال ہی میں ہمارے ضلع بنوں میں جو سروے کروایا گیا اس کے تحت زیادہ تر سرکاری ملازمین کے گھرانے12000ہزار روپے لے رہے ہیں، آج تک یہ علم نہ ہوسکا کہ اس کا اصل حقدار کون ہے۔ شہریار خان تحصیل ڈومیل یونین کونسل زیرکی پیرباخیل گاؤں والیگئی ضلع بنوں نے رابطہ کیا ہے کہ کچھ بنیادی مسئلے مسائل ہیں جن میں سرفہرست سڑک کی مرمت اور ہمارے ہاں ایک برساتی نالہ ہے جس کا نام لواغر ہے۔ اس پر مضبوط پل بنانے کی ضرورت ہے، گاؤں والیگئی بنوں لنک روڈ سے تین یا چار کلومیٹر کے فاصلے پر شمال کی طرف ضلع بنوں اور ضلع کرک کے بالکل سنگم پر واقع ہے۔ اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے، اپنے متعلقہ ایم۔پی۔اے، ایم۔این۔اے اور ڈی سی صاحب سے بھی اس حوالے سے کئی ملاقاتیں کی ہیں مگر سب فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رو رہے ہیں۔ اہلیان علاقہ کو آمد ورفت میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ جتنے مسائل ومشکلات کا تذکرہ ہوا سب اجتماعی عوامی مسائل ہیں جن کا حل حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس حوالے سے خواب غفلت کا مزید مظاہرہ نہیں ہوگا اور عوامی مسائل کا حل اور شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔
قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 9750639 0337- پر میسج اور واٹس ایپ کرسکتے ہیں۔