کرونا وائرس سے بچائو، اپنی مدد آپ

باوجود کوشش واحتیاط کے کرونا وائرس کے پھیلائو میں تیزی آتی جارہی ہے اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، اس کی ایک ممکنہ وجہ وائرس کے اثرات سامنے آنے کے چودہ دن کی مدت کا گزرجانا ہے، ساتھ ہی ساتھ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں خصوصاً ایران سے زائرین کی آمد پر ان کو قرنطینہ نہ کرنا ہے، حکومت نے تاخیر سے اقدامات کئے البتہ سندھ حکومت کے اقدامات کی عالمی ادارہ صحت نے تحسین کی ہے جو قابل اطمینان بات ہے۔ بہرحال قطع نظر اس صورتحال کے توجہ طلب امر یہ ہے کہ اب اس کے پھیلائو میں تیزی آنے کو کیسے روکا جائے، اگرچہ احتیاطی اقدامات اور تدابیر کے اسباب اختیار کئے جارہے ہیں اور ممکنہ حد تک اس سے بچائو ہر ایک کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن کچھ اس قسم کی صورتحال سے انکار کی گنجائش نہیں کہ ہمارے ہاں لوگ افسوسناک حد تک اپنی شہری ذمہ داریوں سے احتراز برتتے پائے جارہے ہیں کہ خود اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اس وقت گھروں میں ایسے مریضوں کی کمی نہیں بلکہ بیرون ملک سے آئے افراد تک کھانسی بخار اور زکام میں مبتلا ہیں مگر وہ اپنا معائنہ کرانے کیلئے تیار نہیں، یہ درست ہے کہ کرونا وائرس کی تشخیص مہنگی اور حکومتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ہر کھانسی بخار اور نزلہ خدانخواستہ کرونا وائرس کے اثر سے نہیں ہوتا، طبی ماہرین کے مطابق نزلہ بخار خشک کھانسی کیساتھ جسم اور جوڑوں میں درد یعنی بہت حد تک ڈینگی کے مماثل علامت ظاہر ہوں تو یہ کرونا وائرس سے ممکنہ متاثر ہونے کی علامت ہے، ایسے مریضوں کو لازماً ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔جن لوگوں کو ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے اور وہ خاص طور گنجان آباد علاقوں میں چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں اور ان کو بخار وکھانسی ہوجاتی ہے تو ان کو اپنی پرواہ ہو یا نہ ہو کم از کم گھر میں ضعفاء خواتین اور بچوں کے تحفظ کی خاطر ہی اپنا معائنہ کروائیں۔ عزیز واقارب اور رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں یا دیگر سماجی تعلقات اور کاروبار وروزگار کے ناتے وائرس کا پھیلائو روکنے کی شہری ذمہ داری کی ادائیگی سے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں، جو لوگ کسی بھی وجہ سے طبی معائنے سے محروم ہوں وہ کم از کم خود کو خاندان کے دوسرے افراد سے الگ تھلک رکھ کر گھر کے صحن اور چھت تک ممکنہ حد تک خود کو محدود کر سکتے ہیں تاکہ کم ازکم دوسروں کیلئے ممکنہ خطرے کو کم کیا جاسکے۔جہاں تک ہوسکے حفاظتی اقدامات عوام اور حکومت دونوں کی طرف سے اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جو لوگ علاج معالجے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور خطرے سے بچائو کے اقدامات بارے شعور رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو شعوروآگہی دینے اور لوگوں کو ان تدابیر کو اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کا فریضہ نبھانا چاہیے۔ جن لوگوں میں علامات کا شک ہو ان لوگوں کو طبی مراکز تک لانے کی ذمہ داری نبھانا دوست واحباب اور باشعور افراد کا فرض ہے تاکہ وائرس کے پھیلائو اور خطرے کو محدود کرنے کی ذمہ داری پوری ہو۔جہاں تک حکومتی وسائل اور اقدامات کا تعلق ہے محدودوسائل کی حامل حکومت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اس عالمی وباء کا پوری طرح مقابلہ کر سکے جو دنیا کے بڑے اورترقی یافتہ ممالک میں ممکن نہیں اس کی پاکستان میں توقع حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ ماہرین کی تازہ رپورٹ میں احتیاطی تدابیر کے طور پر سنیٹائزر کی بجائے صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونے اور اگر گرم پانی میسر ہو تو اس کا استعمال زیادہ بہتر اور مئوثر بتایا گیا ہے۔ ہر شہری کو اس ہدایت پر لازماً عمل کرنا چاہئے اور یہ اپنی صحت کا خیال اور وائرس سے بچائو اور منتقلی کی روک تھام کیلئے کم سے کم اور سادہ وسہل عمل ہے جو ہمارے بس میں ہے اسے اختیار کرنے کے بعد ہی پھر مالک کائنات پر بھروسہ اور انہی سے مدد مانگنا ہمارے دین، عقیدے اور شعور کا حصہ ہے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے وٹامن سی کے استعمال کیساتھ ساتھ خود کو بلاوجہ خوفزدہ اور وہم کا شکار ہونے سے بچانا اپنی مدد آپ ہے جسے اختیار کرنا ہی بہتر حکمت عملی اور بچائو کی تدبیر ہے۔