حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں 2 ایم پی ایز کا ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ بد تمییزی کا معاملہ

ویب ڈیسک (پشاور): حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں 2 ایم پی ایز کی ہنگامہ ارائی اور ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ بد تمییزی کا معاملہ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا واقع پر اظہار برہمی، چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل کو معاملہ اسپیکر خیبر پختون خوا سے اٹھانے کی ہدایت کی، چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا کہ کس طرح 2 ارکان اسمبلی نے ایک ہسپتال کو یرغمال بنائے رکھا، ممبران اسمبلی کی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن یہاں ممبران ہسپتال انتظامیہ کو یرغمال بناکر گلم گلوچ میں ملوث ہیں، کیسی رپورٹس آرہی ہیں کہ 2 ایم پی ایز نے پورے ہسپتال کو یرغمال بنا رکھا اور کام میں مداخلت کی، اس وقت ڈاکٹر فرنٹ لائن پر ہیں، ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیئے، انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ یہاں پر ڈاکٹروں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، یہ کیا ہو رہا ہے، ارکان اسمبلی صرف اس لئے بیٹھے ہیں کہ وہ ہسپتال انتظامیہ کو یرغمال بنا کر ادھر گلم گلوچ کریں۔

چیف جسٹس قیصررشید نے مزید کہا کہ آپ لوگوں کا کام ہے قانون سازی کرنا نہ کہ مداخلت کرنا، آپ لوگ اپنے علاقہ کےلوگوں کے لئے سہولیات پیدا کریں نہ کہ سرکاری محکموں میں مداخلت کریں۔