بھارتی انتخابات میں ” قدرت کارڈ”

نریندر مودی کو انتخابات میں پانچ میں سے تین ریاستوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان تین ریاستوں میں مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالہ شامل ہیں جبکہ جن دوریاستوں میں مودی کی جماعت بی جے پی جیتی ان میں آسام اور پڈو چیری شامل ہیں۔ ان انتخابات میں سب سے اہم معرکہ مغربی بنگال میں ہوا جہاں ممتا بینرجی کی جماعت ترنمول کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو قدم جمانے کا موقع ہی نہیں دیا۔ مغربی بنگال کی ہی ریاست پر دنیا کی نظریں مرکوز تھیں۔ اس ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے روایتی ''مسجدمندر'' کارڈز سمیت فرقہ واریت سے بھرپور ہر حربہ آزمایا مگر ممتا بینرجی نے ایک نہ چلنے دی اور انتخابات سے پہلے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مغربی بنگال میں مودی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مغربی بنگال کی اس شکست میں مسلمانوں کا گہرا دخل بتایا جاتا ہے۔ اس ریاست میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور 294حلقوں میں سے 63مسلمان اکثریتی حلقے تھے۔ 63میں سے61حلقوں میں انتخابات ہوئے اور 58حلقوں میں ممتا بینرجی کی جماعت کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ان میں بہت سے مسلمان اُمیدوار بھی شامل ہیں۔ 58میں سے30حلقے ایسے ہیں جہاں جیتنے والوں نے چالیس ہزار سے اوپر کی لیڈ حاصل کی۔ نریندر مودی نے بنگال میں جا کر خوب ڈائیلاگ بھی مارے۔ مودی نے اعلان کیا کہ دومئی کو دیدی کا استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔ اس کیساتھ ہی مسلمانوں سے نفرت کا کارڈ بھی کھیلنے کی کوشش کی گئی مگر ہر تدبیر اُلٹی ہوگئی۔ ان انتخابات کو 2024 کے بھارتی انتخابات کا سیمی فائنل قرار دیا جا رہا ہے گویا کہ مودی اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی سیاست اور مقبولیت کی عمارت بدترین مسلمان دشمنی، نفرت اور پاکستان مخالف جذبات پر کھڑی کی تھی۔ جب انتخابات ہورہے تھے تو وقت نے مودی سے مسلمان نفرت کارڈ چھین لیا اورڈپلومیسی اور خارجہ سیاست کی مجبوریوں نے پاکستان مخالف کارڈ چھین لیا تھا۔ کورونا بحران نے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور ایک سونامی ہے جس میں آکسیجن کیلئے شہری تڑپ تڑپ کر جانیں دے رہے ہیں۔ حالات حکومت اور انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں اور حکومت کی ہر تدبیر اُلٹی ہو رہی ہے۔ مودی کی بے بسی یہ ہے کہ اس بار وہ کورونا کے پھیلاؤ کا ملبہ کسی مسلمان گروپ اور تبلیغی جماعت کے سر نہیں ڈال سکتے کیونکہ وبا کے پھیلاؤ میں ہندوؤں کے کمبھ میلے میں جمع ہونے والی بھیڑ نے اہم کردار ادا کیا۔ ارنب گوسوامی جیسے اینکر اس طوفانی لہر میں مسلمانوں کو قربانی کا بکرا نہیں بنا سکتے کیونکہ مسلمان ایک مسیحا کے روپ میں سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام توانائیاں ہندوؤں کو محفوظ بنانے اور ان کو خوراک، رہائش اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں لگا دی ہیں، جس پر ہندو آبادی میں ایک بار پھر یہ سوال اُٹھنے لگا ہے کہ آخر مذہبی تفریق سے ہٹ کر ایک انسانیت کا جذبہ اور رشتہ بھی تو موجود ہے۔ مسلمانوں نے مساجد اور دفاتر کو متاثرین کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ بہت سے ہندوؤں کے ایسے ویڈیو کلپس سامنے آئے جس میں وہ مسلمانوں کے حوالے سے روا رکھے گئے اپنے سلوک اور اپنے خیالات پر ندامت کے آنسو بہار ہے ہیں اور دل آزاری پر مسلمانوں سے معافی طلب کر رہے ہیں۔ انہی میں ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو ری پبلک ٹی وی کے معروف اینکر روہیت سندرانہ کی ہے۔ روہیت سندرانہ گزشتہ برس مسلمانوں کو کورونا پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیتے رہے اور مسلمانوں پر شدید پابندیوں کا مطالبہ کرتے رہے، وہ مسلمانوں کے بارے نہایت توہین آمیز کلمات بھی ادا کرتے رہے۔ روہیت سندرانہ کورونا میں مبتلا ہو کر ہسپتال پہنچے تو تنہائی اور لاچاری کے عالم میں انہیں کورونا بچاؤ مہم میں مسلمانوں کی خدمات کی خبریں ملنا شروع ہوئیں تو انہوں نے ہسپتال سے روتے ہوئے ایک ویڈیو ریکارڈ کی اور مسلمانوں سے اپنے ماضی کے روئیے پر معذرت کی اور یہ ان کی آخری ویڈیو ثابت ہوئی۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات وقتی طور پر بھارت کے ہندو کو ہندوتوا سے دوبارہ انسانیت کی دنیا میں لانے کا باعث بنے اور یوں کورونا نے مودی سے مسلمان دشمنی کا کارڈ چھین لیا۔ جب ان انتخابات کا غلغلہ بلند تھا تو چین، امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے دباؤ پر بھارت پاکستان کیساتھ پہلے جنگ بندی کے معاہدے کی تجدید کر چکا تھا اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی ایجنسیز کی سطح پر مذاکرات کی خبریں آرہی تھیں۔ اس نئی فضاء میں مودی نہ اپنے چھپن انچ چوڑے سینے کی بات کرسکتا تھا نہ بالاکوٹ اور پلوامہ جیسے تلخ موضوعات چھیڑ سکتا تھا۔ اس طرح مودی نے بھارتی ووٹر کو پاکستان مخالف تقریروں کا چسکا لگایا تھا، ڈپلومیسی کی مجبوریوں کے باعث ووٹر کو بدمزہ کرگیا اور یوں مودی کو انتخابات میں شکست ہوئی۔ اس بار پاکستان کارڈ چلا نہ مسلمان کارڈ، صرف اور صرف کارڈ چل گیا اور مودی مغربی بنگال میں ڈھیر ہوگیا۔