ہم سوختہ دل آخر کہاں جائیں؟

آخر ہونی ہو کے رہی، ہم خیر فرانسیسی حکومت کی جرأتِ رندانہ کا جواب سرکاری سطح پر کیا دیتے، اُلٹا یورپی پارلیمنٹ نے ہماری معیشت کی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ دیا۔ گویا کھلی توہینِ رسالت کے جرم کے ارتکاب کیخلاف جس اتحاد اور یگانگت کی توقع اقوامِ اسلامیہ سے کی جا رہی تھی، اس کا تو کہیں ڈھونڈے سے نام و نشان نہ ملا، ہاں البتہ اقوامِ مغرب آزادی اظہار کے نام پر کھلی ہرزہ سرائی کی تائید میں فرانسیسی سرکار کی پشت پناہی میں ضرور اکٹھی ہوگئیں۔
زخم تو ہمیں کاری لگا جس پر مزید نمک پاشی کا اہتمام نت نئے انداز سے مہیا کیا گیا، ستم بالائے ستم یہ کہ یورپی پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر پاس کردہ حالیہ پاکستان مخالف قرارداد کا راقم سویڈش نژاد چارلی ویمرز تعصب سے آلودہ ایک جنونی شخص ہے جس کا تعلق بقول سویڈش وزیراعظم جرمن نازی نسل پرستانہ فلسفے کی حامل ایک انتہا پسندانہ جماعت سے ہے۔ اس بدلتے احوال کا خلاصہ اصحابِ عقل وشعور کیلئے محض اتنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ پاس کردہ قرارداد کے تحت یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ2014 میں پاکستان کو جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنس (GSP) پلس کی مد میں دی جانے والی تجارتی مراعات پر فی الفور نظرثانی کرے۔ اس منظر نامے کا حاصل یہ ہے کہ گلوبلائزیشن سے متاثرہ دورحاضر میں بلاتفریق تجارتی سہولیات کی فراہمی کا دعویدار یورپ تاحال جی ایس پی جیسی متعصبانہ پالیسیوں سے چپکا ہوا ہے جن کا مقصد معاشی ترقی کی آڑ میں پسماندہ ممالک پر اپنی مرضی کی اقدار مسلط کرنا ہے۔ یورپی معاشی وتجارتی حلقے میں جی ایس پی پالیسی کے تحت اختیار کیا گیا مؤقف دراصل پاکستان جیسے مسلم تشخص کے حامل غریب ممالک کی اندرونی وخارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے کی ایک تدبیر ہے جس کے تحت ایسے ممالک کی یورپی منڈیوں تک آنے والی مصنوعات سے درآمدی ڈیوٹی ختم کی جاتی ہے بشرطیکہ یہ ممالک اپنے معاشروں سے یورپی اقوام کی حسبِ منشا انتہاپسندانہ رجحانات کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ انتہاپسندی کا تدارک بجائے خود کوئی معیوب عمل نہیں تاہم اس سے متعلقہ شرائط عائد کرتے ہوئے یہ حقیقت یکسر نظرانداز کی جاتی ہے کہ پاکستان سمیت زیادہ تر مسلم ممالک میں انتہا پسندانہ رجحانات دراصل مغربی ممالک میں شعائرِاسلام کی تضحیک کا ہی براہِ راست نتیجہ ہوتے ہیں جنہیں مغرب میں غلط پالیسی ترجیحات کے تحت آزادیٔ رائے کے نام پر روا رکھا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم سوختہ دل آخر کہاں جائیں؟ یقینی طور پر مغربی چیرہ دستیوں کا جواب قومی سطح پر ہماری خودکفالت اور کفایت شعاری سے مشروط ہے، تاہم موجودہ حالات میں خودکفالت کی منزل تا حدنگاہ کہیں دکھائی نہیں دیتی جبکہ کفایت شعاری کے وصف سے ہم پہلے ہی عاری ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہمارے پاس اپنی گنی چنی برآمدات کو یورپی منڈیوں کے علاوہ کہیں اور کھپانے کا متبادل تک موجود نہیں۔ پاکستان کے اقتصادی سروے 20-2019 کے مطابق یورپی یونین پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں ہمیں جی ایس پی پلس سٹیٹس کے تحت لگ بھگ ستائیس ممالک تک بغیر ڈیوٹی برآمدات کی رسائی حاصل ہے۔ ہماری صنعت بنیادی نوعیت کے زرعی خام مال پر انحصار کرتی ہے۔ ہم موجودہ دور میں رہتے ہوئے بھی مشین سازی کی صنعت سے کوسوں دور ہیں۔ پاکستان سے یورپی یونین برآمد کی جانے والی مصنوعات میں 75فیصد حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے جبکہ یورپی یونین سے ہم زیادہ تر سامانِ تعیش کے علاوہ بجلی کے آلات، مواصلات کا ساز وسامان، کیمیکلز اور ادویات وغیرہ درآمد کرتے ہیں۔
شعائرِاسلام کی تضحیک اور توہینِ رسالت جیسے حساس معاملات میں یورپی رویوں کے تدارک کا ایک قابلِ عمل حل ہماری مقامی منڈیوں میں یورپی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے۔ ایسے بائیکاٹ کا مقصد ہمارے ہاں مغربی تجارتی مفادات پر کاری ضرب لگانا ہے، تاہم اگر ہم اپنی تساہل پسندی کیساتھ ساتھ اپنے طرززندگی کا جائزہ لیں تو ایسے مؤثر بائیکاٹ کی کوئی عملی صورت مشکل سے ہی پیدا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہمارے پاس مارکٹ میں دستیاب یورپی مصنوعات کا کوئی ٹھوس متبادل موجود نہیں بلکہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اِن مصنوعات کے استعمال کے خوگر بھی واقع ہوئے ہیں۔ یورپی اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ تاحال ہمارے ہاں ایک خوش کن نعرہ ہے جس کی آڑ میں ہم اپنی اسلام پسندی کے ناآسودہ جذبات کی تسکین چاہتے ہیں جبکہ ہمارا روزمرہ کردار اکثر وبیشتر اسلامی تعلیمات اور سنتِ نبویۖ سے عملی انحراف کی غمازی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم دنیا پر اپنے اسلامی تشخص کا نقش ثبت کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنے روزمرہ معاملات میں میانہ روی اور اعتدال کے اوصاف کو جگہ دیں۔ معاشی میدان میں اقوامِ مغرب سے ہمارا تقابل تبھی ممکن ہوگا جب ہم اپنی قومی زندگی میں کفایت شعاری کیساتھ ساتھ خودکفالت کی منزل کو حاصل کر پائیں گے۔