ناموش رسالتۖ قانون’ حکومت اور عوام

یہ بات قند مکرر کے طور پر عرض ہے کہ پاکستان کا قیام دو قومی نظریہ کے تحت ہوا ہے۔ یہ بیسویں صدی کا معجزہ خداوندی ہے، کوئی مانے تو مانے نہ مانے تو پاکستان کا کچھ نہیں بگڑے گا (ان شاء اللہ)۔ پاکستان کا اشرافیہ اور لبرل سیکولر طبقہ بے شک اس بات کو تسلیم نہ کرے اور اس کیخلاف اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگائے کہ یہ مولویوں کا تراشیدہ نعرہ ہے وغیرہ اور اس کیخلاف وقتاً فوقتاً خود مسلم لیگ کے بعض اکابرین نے بھی اپنے انٹرویوز وغیرہ میں دوقومی نظریہ کو قیام پاکستان کے وقت وقتی ضرورت ثابت کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن عوام پاکستان اور بالخصوص ان گمنام شہیدوں کے خون کے تقدس کے طفیل جب بھی دو قومی نظریہ کیخلاف کسی نے بات کی ہے وہ خائب و خاسر ہی رہا ہے لیکن پھر بھی اس قسم کے عناصر اپنی ان مذموم کوششوں اور شرارتوں سے باز نہیں آئے حالانکہ اگر یہ ذرا ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں تو پاکستان کے حوالے سے تین باتیں یعنی موضوعات ایسی ہیں کہ جب بھی کوئی ان میں سے کسی ایک سے بھی انحراف کرے گا وہ منہ کی کھائے گا۔ سب سے پہلے دو قومی نظریہ کا اساس پاکستان ہونا، یہ وہ عقیدہ ہے کہ اگر اس سے انحراف کیا جائے تو نہ تو قیام پاکستان کا جواز بنتا ہے اور نہ ہی بقا کی بنیاد۔ لہٰذا کوئی ہوش مند عوام کے درمیان اس کیخلاف بات کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نام نہاد لبرل وترقی پسند جماعتیں بھی برملا اس کا اظہار نہیں کر سکتیں کیونکہ شکر ہے کہ پاکستان کے عوام انتخابات کے دوران ان کا محاسبہ کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ اگرچہ قوم پرست، لبرلز اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے اکابرین وافراد نجی محفلوں میں دو قومی نظریہ پر ایمان رکھنے والوں کا تمسخرا اُڑانے میں بہت لطف محسوس کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو سفہاء کہنے سے نہیں چوکتے۔ دوسرا اہم ترین موضوع ختم النبوت اور ناموس رسالتۖ کا قانون ہے، ویسے تو ناموس رسالتۖ کا قانون ہر مسلمان کیلئے سب سے اولیٰ، مرجح اور جان ومال، تن من دھن سے افضل ترین ہے اور اس کا پاکستان کے دو قومی نظرئیے کیساتھ براہ راست تعلق ہے کیونکہ قیام پاکستان کا مقصد اولیٰ مسلمانان ہند کے اسلامی تشخص کی حفاظت تھی، جس میں ختم النبوت اور ناموس رسالتۖ کو اولیت حاصل ہے، لہٰذا پاکستان میں رہتے ہوئے نہ کسی کو اس قانون کی خلاف ورزی کی جرأت ہو سکتی ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں اس پر کسی کیساتھ کوئی کمپرومائز ہو سکتی ہے۔ یہ مسلمانوں کا آخری اور قیمتی ترین متاع حیات ہے اور پاکستان اس حوالے سے ایک الگ پہچان وامتیاز رکھتا ہے۔ ترکی اور پاکستان کے اس وقت کے حکمران اپنے عوام کی اس حوالے سے بہترین نمائندگی کر رہے ہیں۔ عمران خان نے یو این فورم پر جس طرح اسلامو فوبیا اور ناموس رسالتۖ قانون پر کھل کر مغرب اور عالمی قوتوں کو بتا دیا ہے کہ مسلمانوں کے اس عقیدے وقانون کو چھیڑنے سے دنیا میں تنگ نظری، دہشت گردی، تعصب، عدم برداشت ہی کو تقویت ملے گی اور اقوام عالم کے درمیان بقائے باہمی کے اصول وقوانین کمزور پڑیں گے۔ پچھلے دنوں ایک کانفرنس میں ترکی کے طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو جس طرح نظر انداز کیا، اس منظر کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر عام ہو چکی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے کل ایک دفعہ پھر بغیر کسی شف شف کے واضح کر دیا کہ ختم النبوت اور ناموس رسالتۖ قانون پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ یورپ اگر جی ایس پی پلس کو اس حوالے سے استعمال کرنا چاہے گا تو یہ غلط اور ناجائز ہو گا۔
اس لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں عوام اور حکومت ملکر اس حوالے سے اتفاق واتحاد کیساتھ ایک دوسرے کے مؤید ومعاون بن جائیں۔ ناموس رسالتۖ اور عشق رسولۖ کے نام پر اپنے عوام اور ملکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے سے ہر صورت گریز اختیار کی جائے۔ ہاں اگر کہیں کوئی حکومت اور حکمران اس قانون پر حیص بیص کا شکار نظر آتا ہے تو پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن اور عوام پرامن، مہذب اور طاقتور احتجاج کے ذریعے ان کا راستہ روکے۔ اُمید واثق ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکمران اس طرح کی جسارت نہیں کر سکتا۔ تیسرا موضوع پاکستان کے ایٹمی صلاحیت کی حفاظت ہے، کوئی حکمران نہ تو اس کو رول بیک کر سکتا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی سودے بازی وغیرہ کرنے کی سوچ سکتا ہے کیونکہ پاکستانی عوام نے گھاس کھا کر اور پیٹ پر پتھر باندھ کر اس طاقت کو حاصل کیا ہے۔ عقیدہ ختم النبوت کی حفاظت کیلئے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اس صلاحیت سے نوازا ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب ملکر پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں۔ انتشار، بے جا احتجاج، حکومت کیساتھ عدم تعاون وغیرہ سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ اس وقت عالمی سطح پر کرونا وباء اور سیاسی ومعاشی طاقتوں کے درمیان کشمکش کے سبب بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ایسے میں وطن عزیز کی سلامتی اور حفاظت کیلئے دعاؤں کیساتھ اللہ کی رسی کو مضبوطی کیساتھ پکڑنے کی اشد ضرورت ہے۔