پاکستان کو کن معاملات پر ہوشیار و خبردار رہنا ہوگا

جوہری ہتھیار رکھنے والے دو ہمسائے ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو ضرور سراہنا چاہیے لیکن ماضی میں ان کے درمیان معاملات میں ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے جیسی صورتحال رہی ہے۔ اس لیے ضروری یہ ہے کہ ماضی میں سیکھے گئے سبق اور زمینی حقائق بشمول کشمیر میں بھارت کی جانب سے پیدا کیے گئے سخت حالات کو مدنظر رکھا جائے۔
بیک چینل رابطے کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ جب بھی ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات معطل ہوتے ہیں تو ان بیک چینل رابطوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی جب پاکستان اور بھارت اعلانیہ مذاکرات میں ناکام رہے تو ان بیک چینل رابطوں کا استعمال ہوا۔ بیک چینل رابطے رازداری سے یہ جاننے اور اندازے لگانے کیلئے بھی مفید ہوتے ہیں کہ دوسرا فریق کتنی لچک کا مظاہرہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ باضابطہ مذاکرات میں ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان مذاکرات میں عموماً طرفین ابتدا میں لچک دکھانے پر راضی نہیں ہوتے۔
حالیہ بیک چینل رابطوں کے بارے میں اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق دونوں ممالک کے انٹیلی جنس چیف کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ یہ گزشتہ بیک چینل رابطوں کی نسبت واحد فرق نہیں ہے۔ مشرف دور میں ہونے والی بات چیت سے دونوں ممالک نے باضابطہ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
حالیہ بیک چینل رابطوں کے حوالے سے تفصیل پاکستانی حکام کی جانب سے سامنے آئی ہے اور بھارت کی طرف سے اس حوالے سے مکمل خاموشی ہے۔ بھارت میں اس حوالے سے کوئی بیک گراؤنڈ بریفنگ یا لیک سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی جانب سے اس یکطرفہ اعلان سے یہ تاثر جاسکتا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے غیرمعمولی دلچسپی رکھتا ہے۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حساس مذاکرات کے ابتدائی مرحلے پر ہی تفصیلات کا اعلان کرنا مناسب ہے خاص طور پر اس وقت کہ جب کسی چیز پر اتفاق ہی نہ کیا گیا ہو۔ چونکہ موجودہ رابطوں کو مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کہا جارہا ہے تو کچھ نکات کو مدنظر رکھنا فائدہ مند ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی مذاکرات کاروں کو یہ جانچنا ہوگا کہ بھارتی اقدامات فوجی نوعیت
کے ہیں یا اسٹریٹجک نوعیت کے اور پھر اس حساب آگے بڑھنا ہوگا۔ دوسرا نکتہ یہ کہ پاکستان کو اپنے اصولی مؤقف اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کچھ حدود کا تعین کرنا ہوگا۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت پاکستان سے یہ اُمید لگائے بیٹھا ہے کہ پاکستان کشمیر کے غیر قانونی الحاق کو ختم کرنے کے مؤقف کو ترک کردے گا۔ پاکستانی حکام کے مطابق کشمیریوں کو ریلیف فراہم کرنے جیسے فوری مقاصد پر بھی گفتگو ہوگی۔ غالباً اس کیلئے اعتماد سازی کے طریقوں کی مدد لی جائے گی۔ بہرحال اس مقصد کو جامع مذاکرات سے علیحدہ رکھنے کے بجائے ان مذاکرات کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہاں بھی ماضی کے تجربات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ بیک چینل رابطوں کو کسی بھی صورت نتیجہ خیز مذاکرات نہ سمجھا جائے۔ ایک طویل عرصے سے بھارت کا یہ مقصد رہا ہے کہ پاکستان کو کسی ایسے عمل میں اُلجھائے رکھے جس میں کسی بھی معاملے پر کسی نتیجے پر نہ پہنچا جائے اور پھر دنیا کے سامنے خود کو قابلِ قبول بنایا جائے۔
چوتھا نکتہ یہ کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والی بات چیت کیلئے بیک چینل کو واحد ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں باضابطہ اور جامع مذاکرات کو بحال ہونا چاہیے۔ بیک چینل رابطوں میں بھارت کی یہ تجویز ایک رسک ہوگی کہ معاملات کو ایک دوسرے سے نتھی نہیں کیا جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طرح بھارت اپنے ترجیحی معاملات پر تو بات جیت کرے گا لیکن وہ جامع اور وسیع مذاکرات نہیں ہوسکیں گے جو پاکستان کی خواہش ہے۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی قسم کا اعلان فریقین کی باہمی رضامندی سے اور صرف اس صورت میں ہونا چاہیے جب کوئی پیش رفت ہوجائے۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیرِاعظم اور آرمی چیف کی جانب سے مفاہمت کے بیانات کے جواب میں دوسری جانب خاموشی ہے۔ یہ صورتحال اور اس کیساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے بیک چینل پر کوئی بیان نہ دینا یہ تاثر دینے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے کہ پاکستان اپنی اندرونی مجبوریوں اور کمزوریوں کی وجہ سے حالات معمول پر لانے کیلئے بے چین ہے۔ یہ صورتحال ان کچھ پاکستانی حکام کی جانب سے پیدا کردہ تاثر کو کسی حد تک درست ثابت کرتا ہے کہ بھارت کیساتھ پاکستان کی امن کے قیام کی واحد وجہ ملک کی کمزور معیشت ہے۔ آخری اور اہم بات یہ ہے کہ بھارت کیساتھ معاملات میں پاکستان کو اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے امن کے حصول کے اصول کو تھامے رکھنا ہوگا۔