بدترین مہنگائی

ایسا لگتا ہے کہ منافع خوروں کو ہمارے وزیراعظم سے کوئی ''خصوصی محبت'' ہے۔ وزیراعظم جب بھی مہنگائی میں کمی لانے کا اعلان کرتے ہیں، منافع خور طبقہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کرا دیتا ہے۔ گزشتہ روز ایک دوست مہنگائی سے پیدا شدہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے ''حکومت اور اپوزیشن والے اڑھائی پونے تین سال سے آپس میں لڑنے مرنے میں مصروف ہیں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی موجیں لگی ہوئی ہیں'' بات ان کی بہت حد تک درست ہے، اگر آپ اشیائے صرف کی قیمتوں میں گزشتہ 6ماہ کے دوران ہوئے اضافے کو دیکھیں تو بعض چیزوں کی قیمت میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے، مثال کے طور پر نومبر2020 میں زندہ برائلر مرغی 135روپے کلو اور گوشت 170روپے کلو تھا۔ اس وقت زندہ برائلر 260روپے اور گوشت 350روپے ہے۔ (یہ تین دن قبل کے نرخ ہیں) آج کی خبر یہ ہے کہ برائلر مرغی کا گوشت 400روپے کلو ہوگیا ہے۔ کیلا نومبر میں 80روپے درجن تھا اب 170سے 300روپے درجن ہے۔ صرف رمضان المبارک کے ایام میں کوکنگ آئل کی فی کلو قیمت دو بار بڑھی۔ سیب 250 سے 320روپے کلو ہے۔ چینی دکاندار لگے ہاتھوں (یعنی مرغی کے نرخ پر) فروخت کرتے ہیں، آٹا نایاپ ہورہا ہے۔ مہنگائی میں بتدریج اضافے کا معاملہ اتنا سادہ ہرگز نہیں، بڑے بڑوں کا ایک اور المیہ ہے، گنجان آباد علاقوں اور دیگر مقامات کے نرخوں میں بھی فرق ہے۔ کاروباری حضرات کا خیال ہے کہ سفیدپوش طبقات کے مقابلہ میں نام نہاد پوش علاقوں کے مکینوں کے پاس دولت زیادہ ہے یعنی قوت خرید بہتر ہے۔ ایک ستم یہ بھی ہے کہ ایک چیز کی تین اکائیوں پر مختلف قیمت ہے، آپ دکاندار سے نرخ زیادہ ہونے کی شکایت کریں جواب ملے گا، منڈی میں قیمتوں کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ہم اور آپ بھلے اتفاق نہ کریں لیکن بلاول بھٹو کہتے ٹھیک ہیں کہ جو حکومت قیمتوں پر کنٹرول نہ رکھ سکے دوسرے مسائل کیسے حل کرے گی۔ وزیراعظم نے تین چار دن قبل ایک مشاورتی اجلاس میں ہدایت کی کہ آئندہ بجٹ میں ایسے اقدامات ضرور کئے جائیں جس سے مہنگائی کم ہو۔ اچھی بات ہے لیکن سوال وہی ہے کہ مہنگائی کیسے کم ہوگی، حکومت تو اپنی فراہم کردہ سبسڈی پر چلنے والے یوٹیلیٹی سٹورز پر قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرسکی۔ پچھلے چند ماہ کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن ہے، سرکاری ملازمین کو شکوہ ہے کہ حکومت نے بجٹ میں تنخواہیں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا تھا، اسلام آباد میں وفاقی ملازمین نے بھرپور احتجاج کے ذریعے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ منوا لیا، سندھ کے علاوہ باقی تین صوبوں میں ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن نہیں بڑھائی گئی، پنجاب کے بعض محکموں میں تو تین سے پانچ ماہ کے دوران ایک پنشن ملتی ہے۔ پنشنرز دفاتر میں دھکے کھاتے ہیں، ہماری بابوشاہی کے بڑے چھوٹے اگر دفاتر سے باہر سے نکل کر صورتحال کا جائزہ لیں تو انہیں پتہ چلے کہ سب اچھا نہیں ہے، غربت بڑھ رہی ہے۔ ایک ڈاکٹر دوست بتا رہے تھے کہ معاشی مسائل کی وجہ سے پیدا ہونے والی محرومیوں سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ محض یہ کہہ دینا کہ کورونا کی پہلی دولہروں اور تیسری لہر کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں درست نہیں ہوگا۔ یہ تو حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس دوران اصلاح احوال کیلئے اقدامات کرتی اور قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے ہر ممکن قدم اُٹھاتی۔ آپ بازار میں جائیں ایسا لگتا ہے کہ ہر دکاندار اور ریڑی والا مہینے بھر کا منافع آج ہی وصول کر کے چھوڑے گا۔ یقینا حکومت کا قصور ہے لیکن کچھ قصور ہمارا بھی ہے، صارفین منظم نہیں ہیں۔ صارفین اگر چاہیں تو منظم انداز میں منافع خوروں کو سبق پڑھا سکتے ہیں لیکن وقت کی کمی ہے، مسائل ہی مسائل ہیں۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کہیں کسی چیز کی زائد قیمت یا زائد کرایہ پر اعتراض کریں، ساتھ ہی چند آوازیں سنائی دیں گی، چھوڑو جی کس چکر میں ہیں، کون سنتا ہے۔ ایک بار ویگن کے اضافی کرائے پر اعتراض کیا تو جھٹ سے دو صاحبان نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے فرمایا، چلیں اضافی پیسے ہم دے دیتے ہیں۔ حیرانی سے ان کی طرف دیکھ کر کہا، کیا میں نے کہا ہے کہ میرے پاس پیسے نہیں، میں تو زائد کرایہ پر احتجاج کر رہا ہوں۔ جواب ملا آپ دوسرے مسافروں کا وقت برباد کر رہے ہیں، ہمیں دفتر سے دیر ہورہی ہے۔ جب یہ سوچ ہو تو زرپرستوں کے حوصلے بلند کیوں نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے درجنوں مثالیں ہیں، لوگوں کی بے حسی کی مگر فائدہ کیا۔ سچی بات یہ ہے کہ جس دن ہم انفرادی طور پر غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ کرلیں گے، آدھے مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ حکومت اپنے حصے کا کام کرے اور شہری اپنے فرائض ادا کریں، دونوں ملکر صارفین کی کھال اُتارنے والوں کو سبق پڑھا سکتے ہیں، ورنہ حکومت تسلی بھرے بیان دیتی رہے گی، میں اور آپ روتے رہیں گے اور منافع خور صارفین کو لوٹتے رہیں گے۔