ترقی کا راز، تعلیمی ایمرجنسی

اس وقت امریکہ اور روس، چین، جاپان اور یورپ کے اکثر ممالک ترقی یافتہ ملکوں کی بہترین مثالیں ہیں۔ دنیا بھر کے دانشور، ماہرین سماجیات اور مؤرخین وغیرہ مادی لحاظ سے ترقی یافتہ ہونے کی مثالیں انہی ممالک کی پیش کرتے ہیں جبکہ پسماندگی، غربت اور غیرمعیاری زندگی کے حوالے سے افریقہ، ایشیاء کے اکثر ممالک اور بعض دیگر تیسری دنیا کے ممالک کے نام اور کام معروف ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک ہی طرح کے انسان اور عقل وفکر رکھنے کے باوجود دنیا کے بعض ممالک ترقی یافتہ اور بعض پسماندہ کیوں ہیں۔ اس سوال کے جواب میں مختلف دلائل کی روشنی میں مختلف آراء ونظریات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن چند نکات ایسی ہیں جو دنیا کے سارے معاشروں کی ترقی کیلئے مشترک طور پر یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔جس طرح دنیا کے طاقتور ملکوں میں سترہویں واٹھارہویں صدی میں افریقہ اور ایشیاء کی آزادی کیلئے جب ایسے رہنما سامنے آئے جنہوں نے اپنا سب کچھ آزادی وطن کیلئے وقف کیا تو اُس ملک کے عوام تن من دھن کی قربانیوں کیلئے تیار ہو کر اُن کے پیچھے آمنا وصدقنا کے جذبے کیساتھ آگے بڑھے، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے اخلاص اور قربانیوں کو آزادی اور استخلاص وطن میں بدل دیا۔ پاکستان، ساؤتھ افریقہ، الجزائر اور دنیا کے دیگر بہت سارے ممالک اس کی زندہ مثالیںہیں۔ جدید تاریخ میں جنوبی افریقہ کی آزادی کیلئے نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کو جس انداز میں بیدار کیا اور اپنی جوانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاری اُس کی تفصیل اُن کی خودنوشت ''اپنے آپ کیساتھ مکالمہ'' میں پڑھنے کے لائق ہے یہی حال قائداعظم کا ہے کہ بیماری نے اندر سے کھا لیا لیکن اپنے مقصد ونصب العین سے پیچھے نہیں ہٹے۔دنیا کی تاریخ کے ایسے واقعات سے یہ بات بخوبی اخذ ہوتی ہے کہ ملکی ترقی کیلئے مخلص اور معاملہ فہم قیادت اور انتھک محنت پہلی اور بنیادی شرط ہے۔شبانہ روز جہد مسلسل ہی اقوام کو ترقی کی راہ پر ڈالتی ہیں، افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قیام پاکستان کے پہلے دو عشروں میں بہت صحیح سمت میں محنت کی راہ پر چل پڑے تھے لیکن وائے ناکامی! کہ مخلص قیادت کے فقدان کے سبب قافلے دلدلوں میں پھنسنے لگے۔ دوسرا اہم نکتہ جو ملکی وقومی ترقی کیلئے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتا ہے بامقصد تعلیم کو عام کرنا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی عشروں میں اچھے بیوروکریٹس، سیاستدانوں اور پارلیمنٹرین وغیرہ ٹھاٹ اور ڈیسک سکولوں کے تعلیم یافتہ تھے، چودھری محمد علی، غلام اسحاق خان، اجلال حیدر زیدی اور بے شمار شخصیات اسی ذیل کی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق قوم کے ہر خاص وعام کو تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات فراہم کرنا ترقی کا بنیادی زینہ ہے۔ تعلیم سب کیلئے ملکی مشن ہونا چاہئے جن ملکوں نے اس کو اختیار کیا وہ آج دنیا میں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔ جاپان اس کی بینظیر مثال ہے جنگ عظیم دوئم میں ایٹم بم کی ہلاکتوں کے بعد تعلیمی میدان میں جس طرح یہ قوم آگے بڑھی وہ حیرت انگیز اور قابل تقلید ہے۔تعلیم یافتہ قوم کے افراد ہی میں سے ملکی ترقی کیلئے مطلوبہ افرادی قوت میسر آتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے تعلیم کو کبھی وہ اہمیت اور توجہ دی ہی نہیں دی گئی جو ترقی یافتہ ملکوں میں دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں وزارت تعلیم اور سیکرٹری تعلیم وغیرہ کے عہدے وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر لوگوں کو بطور کھڈا لائن لگانے پر ملتے ہیں۔ پنجاب میں شرح تعلیم اور معیار مقابلتاً اس لئے تھوڑا اچھا ہے کہ وہاں انگریز کے زمانے سے کچھ تعلیمی ادارے وجود میں آئے تھے۔ پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے بعض حصوں میں تو انگریزکیخلاف جدوجہد جاری رہی اس لئے انگریز استعمار نے اُن کو ہر لحاظ سے نظرانداز کیا لیکن تعلیمی اداروں کے سلسلے میں وہ بہت پیچھے رہ گئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان تینوں صوبوں کو مقامی قیادت اور سیاست نے تعلیم کو کوئی سنجیدہ موضوع کے طور پر لیا اور سمجھا ہی نہیں اور کیوں لیتے، سائیں وڈیرے، سردار اور خوانین اپنے ماتحتوں کو تعلیم یافتہ بنا کر اپنی بادشاہت کو خطرے میں کیوں ڈالتے۔ آج بھی بلوچستان اور سندھ کے دیہی علاقوں میں تعلیم اساتذہ اورطلبہ کا جو حال ہے، وہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کو معلوم ہے۔ ان علاقوں میں گھوسٹ سکول، گھوسٹ اساتذہ کے ذریعے سرکاری خزانے سے بجٹ منظور کرا کر کھائے جاتے ہیں۔ ہمارے موجود وزیراعظم نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنی تقریروں میں مکرر کہا تھا کہ ''ہم اقتدار میں آئے تو ملک میں تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے'' خیبر پختونخوا میں دوسرے ٹرم کی حکومت کیساتھ بھی وہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا جس کا نعرہ لگایا گیا تھا۔اب بھی وقت ہے، پورے ملک میں بالعموم اور پختونخوا میں بالخصوص تعلیمی ایمرجنسی کے وعدے کو پورا کیا جائے۔ لوگوں کو بے شک گھر اور نوکریاں نہ ملیں، لیکن اگر تعلیم عام کی گئی تو نوکریاں خودبخود ملنا شروع ہو جائے گی۔ شرط یہ ہے کہ تعلیم بامقصد اور باہنر ہو، صرف کاغذ کی ڈگری نہ ہو۔ وطن عزیز کے 90فیصد تعلیمی اداروں میں 90فیصد طلبہ کو صرف کاغذ کی ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں باقی، اللہ اللہ،خیر سلا۔