سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا

وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج ہی چکا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے گزشتہ کالم میں رہ جانے والی بات کو آگے بڑھانا اس لئے ضروری ہے کہ پھر اکثر بات نا مکمل رہ جاتی ہے اورقارئین بھی شکایت کرتے ہیں کہ آدھی ادھوری کہنے سے ان کی تشفی نہیں ہوئی،اس لئے اس صورتحال سے بچنے کیلئے چینی بلکہ ساتھ ہی آٹے کو ہی موضوع سخن بنانے کی کوشش کرتے ہیں،کیونکہ جس راشن بندی کی بات ہم نے چھیڑی تھی اس میں صرف چینی نہیں بلکہ آٹا بھی شامل ہے اور گزشتہ کالم میں ہم نے سابقہ ادوار میں بڑے بھائی کی جانب سے چھوٹے بھائیوں پر آٹے کی تنگی مسلط کرنے کی بھی بات کی تھی یوں لوگ چیخ اٹھے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ صورتحال پیدا کرنے میں بعض حکمرانوںنے بھی کردار ادا کیا تھا وہ یوں کہ اس قسم کے الزامات بعد میں سامنے آئے تھے کہ ملک میں گندم سرپلس ہونے کا ناٹک رچایا گیا اور لاکھوں ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی سستے داموں گندم باہر منتقل کردی گئی جبکہ اس کے ساتھ جو کہانی نتھی کی گئی یعنی جس کا بعد میںانکشاف الزامات کی صورت سامنے آیا تھا وہ یہ تھی کہ برآمد کی جانے والی گندم ملک کے اس دور کے ایک اہم سیاسی عہدار نے خود خرید کر بیرون ملک ذخیرہ کرلی تھی اور جب چند ماہ بعد ہی اندرون ملک گندم کی کمی کی ہاہا کار مچی تو پھر ضرورت پوری کرنے کیلئے درآمد کی اجازت دیتے ہوئے انتہائی مہنگے داموں اسی پہلے ہی سے ذخیرہ شدہ گندم کو درآمد کر کے نہ صرف گندم مہنگے داموں عوام کو فراہمی کا اہتمام کیا گیا بلکہ دوہرا منافع کمانے کا بندوبست کیا گیا اور ان کا رٹلز کو تجوریاں بھرنے کے مواقع دیئے گئے جو پہلے گندم کی برآمد اور پھر(اسی گندم کی درآمد)سے نہال کردیئے گئے یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ عوام کے ساتھ اس قسم کی ہیر ا پھیری اکثر ہوتی رہتی ہے۔یہاںایک بار پھر ایوبی آمریت کازمانہ یادکرنا ضروری ہو جاتا ہے جب امریکہ بہادر کو پاکستا ن کے معاملات میں دخیل کرنے کے''انعام''کے طور پر یعنی بڈھ بیر میں جاسوسی اڈاے کے قیام کی فراخدلانہ اجازت دیئے،سیٹو اور سینٹو میں بلاوجہ شامل ہونے کے نتیجے میں ایک معاہدہ غالباً92-480(ممکن ہے معاہدے کا کوئی اور نام ہو کہ حافظہ ساتھ نہیں دے رہا ہے)کے تحت نہ صرف گندم،بٹر آئل اور خشک دودھ کے ڈبے امداد کے طور پرملتے رہے تاکہ ڈسپنسریوں اور سکولوں میں مفت تقسیم کئے جائیں جبکہ یار لوگوں نے ان سے بھی بھر پور استفادہ کرتے ہوئے ہر ہر سطح پر جیبیں بھریں،مگر جب بعد میں یہ آٹا وغیرہ آنا بند ہوا تو آٹا مہنگا ہونا شروع ہوا،اس پر حبیب جالب نے کیا خوب پھبتی کسی اور صورتحال پر طنزیہ انداز میں یوں تبصرہ کیا تھا
بیس روپیہ من آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
گوہر ،سہگل،آدم جی
بنے ہیں برلا اور ٹاٹا
جبکہ اس زمانے میں ایوب خان اپنے ارد گرد موجود خوشامدیوں کے آنکے میں آکر اپنے اقتدار کے دس سال پورے ہونے پر''ترقی کے دس سال''کے نام سے(Decade of development)منانے کی تیاریاں کر رہا تھا جسے عوامی سطح پر(Decay of (development)یعنی ترقی کی تباہی قرار دیتے ہوئے لوگ بھر پور احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور پھر ایوبی آمریت کابت پاش پاش ہوگیا تھا،یوں مہنگائی کا جو جن اس دور سے باہر نکلا تو آج تک واپس بوتل میں بند کرنے کی کسی بھی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی،اسی دوران ایک عجیب واقعہ یہ ہوا کہ ضیاء الحق کے دور میں بھی چینی کی قلت کا ہمیں سامنا کرنا پڑا،تاہم جب راقم ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران1979ء میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ تبدیل ہوا تو ایک عجیب بات دیکھی کہ ملک بھر میں تو چینی30روپے سے35روپے کلو میں بڑی مشکل سے دستیاب ہوتی تھی جبکہ کوئٹہ کے بازارون میں عام دکانوں پر فیئر پرائس شاپس قائم کرکے ان پر بینرز لگائے گئے تھے اور کھلے عام چینی7روپے کلو دستیاب تھی دراصل ہوا یو ں کہ اس زمانے میں پاکستان سے ایران کو تحفے میں ٹنوں کے حساب سے چینی فراہم کی جارہی تھی تاہم چونکہ ایران میں چینی کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اس لئے وہی چینی سمگل ہوکر واپس تفتان کے بارڈر کے راستے پاکستان آرہی تھی جس پر بارڈر فورس چھاپے مارکر قبضے میں لیتے ہوئے کوئٹہ پہنچا دیتی اور اس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل رخمٰن گل(موصوف رحمان کو رخمٰن لکھتے تھے یعنی ح پر نقطہ لگا کر رخمٰن کر دیتے تھے)کے حکم پر عام بازاروں میں فروخت کی جاتی تھی اور یار لوگوں نے اس سے بھی خوب خوب فائدہ یوں اٹھانا شروع کیا کہ لاہور اور دیگر ملحقہ شہروں سے سینکڑوں کی تعداد میں کوئٹہ ایکسپریس کے ذریعے ایک رات کا سفر طے کر کے مرد وحضرات کوئٹہ آکر ان فیر پرائس شاپس سے5,5کلو (اس سے زیادہ نہیں ملتی تھی) چینی اکٹھی کر کے دو دو تین تین بوریوں میں ڈال کر اگلے ہی روز واپس چلے جاتے اور صرف آنے جانے کے اخراجات کر کے ہی چینی اپنے ہاں35 روپے کلو میں فروخت کر کے جیبیں بھرتے رہتے۔یوں اس شعر کی تفسیر بن جاتے کہ
سنایارات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا
ہم اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا