شہباز کر نہ پائے پرواز

آگے بڑھنے سے قبل یہ جان لیجئے کہ نون لیگ کے صدر میاں شہبازشریف گزشتہ شب سحری کے وقت جب قطر ائیر لائن کی پرواز سے''دوھا'' جانے کے لئے لاہور ائیر پورٹ پہنچے تو ایف آئی اے حکام نے انہیں بورڈنگ کارڈ لینے سے روک دیا۔ ایف آئی اے کا موقف تھا کہ جب تک وزارت داخلہ کا حکم نہیں آتا وہ روانگی کی اجازت نہیں دے سکتے۔اب آئیے اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔میاں شہباز شریف نے5مئی کو قطر ائیر لائن سے لاہور دوحا کے لئے ٹکٹ کنفرم کروائی6مئی کو انہوں نے لاہورہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی کہ وہ کینسر کے مریض ہیں ان کے معا لجین لندن میں ہیں۔ سال میں دوبار چیک اپ لازمی ہے اس لئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔6مئی کو دائر کی گئی درخواست پر7مئی کی سماعت کا حکم جاری ہوا اور سات مئی کو وکلاء کی بحث کے بعد جسٹس علی باقر نجفی نے انہیں8مئی سے 3 جولائی تک ملک سے باہر رہنے کی(ایک بار) اجازت دے دی۔عدالتی حکم میں کہا گیا ''اپوزیشن لیڈر کانام ای سی ایل میں نہیں اگر بلیک لسٹ میں ہو تو بھی علاج کے لئے بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا''۔عدالت نے فریقین کو5جولائی کے لئے نوٹس بھی جاری کرالئے۔سرکاری وکلا کا موقف تھا کہ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ زیر سماعت ہے ان کے بیرون ملک جانے سے عدالتی کارروائی متاثر ہوگی۔سماعت عید کے بعد تک کے لئے ملتوی کردی جائے۔عدالت نے ان کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا۔7مئی کی شام وفاقی وزیرا طلاعات فواد چودھری نے کہا شہبازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے ۔وزیراعظم کے مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جو بھی قانونی طریقہ ہوگا اپنایا جائے گا۔شہزاد اکبر نے عدالت میں درخواست دائر کرتے 24گھنٹوں میں سماعت اور فیصلے پر تحفظات بھی ظاہر کئے ان کا موقف تھا عدالت نے نیب اور دوسرے اداروں کو نہ تو نوٹس جاری کیا نہ ان کا موقف سنا۔ شہباز شریف کوبیرون ملک جانے کی عدالتی اجازت سے حکومتی زعما کی پریشانی کا لیگی رہنمائوں نے خوب لطف لیا۔دونوں طرف سے گرما گرم جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔لیکن اس کے بیچوں بیچ وزیراعظم عمران خان(وزیراعظم گزشتہ شب تین روزہ دورہ پر سعودیہ عرب جا چکے)نے شہزاد اکبر کو اس معاملے کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیں۔ شہزاد اکبر نے ہی ایف آئی اے حکام کو براہ راست ہدایت جاری کی اور اس کے بعد جب شہباز شریف لاہور ائیر پورٹ پہنچے تو انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا عدالتی فیصلہ کے بعد نون لیگ کے قانونی مشیروں نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا تو جواب ملا ذمہ دار حکام جا چکے ہیں یہاں نون لیگ سے ٹیکنیکل غلطی یہ ہوئی کہ اسے عدالتی حکم وزارت داخلہ میں جمع کروا کے شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکلوا کر تحریری حکم نامہ لینا چاہئے تھا لیکن وہ شاید عدالتی آرڈر کے زعم میں تھے یا پھر شریف خاندان کا مجموعی مزاج اس طریقہ کار پر عمل کے مانع ہوا۔یہ حیران کن بات ہے کہ شہباز شریف نے بیرون ملک جانے کی کنفرم ٹکٹ5مئی کو لی6مئی کو عدالت میں درخواست دی اور7مئی کو انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی۔اس اجازت کے باوجود معاملہ چونکہ زیر سماعت ہے فریقین کو5جولائی کے لئے نوٹس ہوچکے ہیں اس لئے اس پر بات کرنے میں امر مانع ہے۔البتہ یہاں اس سارے معاملے کے پیچھے موجود ایک ملاقات بارے میں اپنے قارئین کو آگاہ کرتا چلوں یہ ملاقات چند دن قبل راولپنڈی میں ہوئی میاں شہباز شریف اپنے صاحبزادے حمزہ شہباش کے ہمراہ ایک خاندانی دوست کی گاڑی میں لاہور سے راولپنڈی پہنچے جہاں دو اہم شخصیات سے ان کی لگ بھگ اڑھائی گھنٹے ملاقات رہی(نون لیگ اگر اس ملاقات کی تردید کرے تو تحریر نویس لاہور سے راولپنڈی جانے کے اوقات اور کچھ دوسری ضروری معلومات بھی عرض کردے گا)اس ملاقات کا اہتمام ایک عرب ملک کے سفیر کے ذریعے ہوا۔کہا یہ جارہا ہے کہ مخدوش ملکی صورتحال اور چند دیگر وجوہات کی بنا پر سوچا جارہا ہے کہ ایسا انتظام کر لیا جائے جس سے بجٹ سیشن میں بدمزگی پید نہ ہونے پائے۔ملاقات میں مستقبل کے منظرنامہ کے حوالے سے بھی چند امور پر تبادلہ خیال ہوا۔اس ملاقات سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ میاں شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی'' کس'' کی مرضی ومنشا شامل تھی۔پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت چونکی جب مشیر احتساب شہزاد اکبر لاہور سے ایف آئی اے حکام نے یہ اطلاع دی کہ میاں شہباز شریف نے7 اور8 مئی کی درمیانی شب لاہور سے دوحا (قطر) جانے کی کنفرم ٹکٹ حاصل کر لی ہے 6مئی کو جب میاں شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں بیرون ملک روانگی کی اجازت کے لئے درخواست دائر کی تو حکومت نے اپنی حکمت عملی وضع کرلی۔فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ محض عدالتی حکم پر نہیں بلکہ عدالتی حکم کے ساتھ تحریری درخواست بھی طلب کی جائے کہ شہباز شریف کانام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لئے ۔دیکھا جائے تو عدالتی حکم کی خوشی(اور طے شدہ معاملے) میں نون لیگ کے وکلاء نے قانونی کارروائی کے اگلے مرحلہ کو غیر ضروری سمجھا یہی وجہ ہے کہ جب شہباز شریف قطر روانگی کے لئے ایئر پورٹ پہنچے تو انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔